أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوۡحٰۤى اِلَيۡكَ رَبُّكَ مِنَ الۡحِكۡمَةِ‌ ؕ وَلَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلۡقٰى فِىۡ جَهَنَّمَ مَلُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ حکیمانہ احکام ہیں جن کی آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور (اے مخاطب) اللہ کے ساتھ دوسرا عبادت کا مستحق نہ بنا ورنہ تجھ کو ملامت زدہ اور پھٹکارا ہوا بنا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ وہ حکیمانہ احکام ہیں جن کی آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے اور (اے مخاطب) اللہ کے ساتھ دوسرا عبادت کا مستحق نہ بنا ورنہ تجھ کو ملامت زدہ اور پھٹکارا ہوا بنا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ کیا بیٹوں کے لیے اللہ نے تم کو منتخب کرلیا اور فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنالیں ہیں، بیشک تم بہت سنگین بات کہہ رہے ہو۔ (بنی اسرئیل : ٣٩، ٤٠ )

آیات سابقہ میں مذکور چھبیس احکام کا خلاصہ :

سورة بنی اسرائیل کی آیت ٢٢ سے آیت ٤٠ تک اللہ تعالیٰ نے چھبیس احکام بیان فرمائے ہیں، جو خالق کی عظمت اور مخلوق پر شفقت اور دنیا اور آخرت سے متعلق تمام ضروری اور اہم احکام پر مشتمل ہیں ان کی تفصیل یہ ہے :

ولا تجعل مع اللہ الھا اخر (بنی اسرائیل : ٢٢) اس آیت میں توحید کو ماننے اور شرک نہ کرنے کا حکم دیا ہے، یہ ایک حکم ہے اور وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ (بنی اسرائیل : ٢٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا ہے اور غیر اللہ کی عبادت سے منع فرمایا ہے اس آیت میں دو حکم ہیں اور کل تین حکم ہوئے۔

و بالوالدین احسانا (بنی اسرائیل : ٢٣)اس آیت میں ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کا حکم دیا ہے یہ چوتھا حکم ہے،

پھر اس نیک سلوک کی وضاحت میں پانچ حکم فرمائے : فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما وقل لھما قولا کریم۔ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب ارحمھما(بنی اسرائیل : ٢٣، ٢٤) یعنی ماں باپ سے اف تک نہ کہو، ان کو جھڑکو مت، ان سے نرمی اور مہربانی کرو، ان کے ساتھ تواضع اور انکسار سے پیش آؤ، اور ان کے لیے رحمت کی دعا کرو یہ نو احکام ہوئے۔

وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل۔ (بنی اسرائیل : ٢٦) اس آیت میں تین حکم ہیں، قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو، اور مسکین کا حق دو اور مسافر کا حق دو ، یہ بارہ احکام ہوگئے۔ ولاتبذر تبذیرا اور اسراف اور فضول خرچ نہ کرو یہ تیرہ حکم ہوگئے،

اس کے بعد فرمایا :واما تعرضن عنھم ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھم قولا میسورا۔ (بنی اسرائیل : ٢۸) یعنی اگر تمہارے پاس دینے کو مال نہ ہو تو سائل کو نرمی اور لطف سے ٹال دو ، اور یہ چودہ احکام ہوگئے۔

پھرولا تجعل یدک مغلولۃ علی عنقک ولا تبسطھا کل البسط۔(بنی اسرائیل : ٢٩)ان آیتوں میں فرمایا : اپنا ہاتھ تنگ رکھو نہ بالکل کھلا ہوا اور میانہ روی سے دینے کا حکم دیا یہ پندرہواں حکم ہے۔

پھر فرمایا : ولا تقتلوا اولادکم(بنی اسرائیل : ٣١) اس آیت میں اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا یہ سوالہواں حکم ہے۔

پھر فرمایا :ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق(بنی اسرائیل : ٣٣) کسی بےقصور کو قتل نہ کرو یہ سترہواں حکم ہے۔

پھر ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطنا اس آیت میں ورثا مقتول کو قصاص لینے کا حکم دیا اور یہ اٹھارہواں حکم ہے،

پھر فرمایافلا یسرف فی القتل یعنی وارث قصاص لینے میں تجاوز نہ کرے اور یہ انیسواں حکم ہے

پھر فرمایاولا تقربوا مال الیتیم(بنی اسرائیل : ٣٤) یتیم کی بلوغت تک اس کے مال کو نیکی کے سوا خرچ نہ کرو اور یہ بیسواں حکم ہے۔

واوفوا بالعھد (بنی اسرائیل : ٣٤) یعنی عہد کو پورا کرو اور یہ اکیسواں حکم ہے،

پھر فرمایاواوفوا الکیل اذا کلتم یعنی پوری پوری پیماش کرو یہ بائیسواں حکم ہے،

پھر فرمایا : وزنوا بالقسطاس المستقیم (بنی اسرائیل : ٣۵) صحیح ترازو سے وزن کرو یہ تئیسواں حکم ہے،

پھر فرمایا :ولا تقف ما لیس لک بہ علم(بنی اسرائیل : ٣٦) بغیر علم کے محض گمان سے کوئی بات نہ کہو اور یہ چوبیسواں حکم ہے،

ولا تمش فی الارض مرحا، زمین پر اکڑ اکڑ کر نہ چلو یہ پچیسواں حکم ہے،

پھر آخر میں مکرر فرمایا : ولا تجعل مع اللہ الھا اخر (بنی اسرائیل : ٣٩) اور اللہ کے ساتھ دوسرا عبادت کا مستحق نہ بناؤ، اور یہ چھبیواں حکم ہے۔

یہ چھبیس قسم کے احکام ہیں، ان میں بعض اوامر ہیں اور بعض نواہی، ان سب کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جمع کردیا ہے ان کی ابتدا بھی اس حکم سے ہوئی کہ :

ولا تجعل مع اللہ الھا اخر فتقعد مذموما مخذولا۔ (بنی اسرائیل : ٢٢) اور (اے مخاطب) تو اللہ کے ساتھ کوئی اور عبادت کا مستحق نہ بنا کہ تو مذمت کیا ہوا اور ناکام بیٹھا رہ جائے۔

اور آخری آیت میں بھی یہ حکم ہے :

ولا تجعل مع اللہ الھا اخر فتلقی فی جھنم ملوما مدحورا۔ (بنی اسرائیل : ٣٩) اور (اے مخاطب) اللہ کے ساتھ دوسرا عبادت کا مستحق نہ بنا ورنہ تجھ کو ملامت زدہ اور پھٹکارا ہوا بنا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔

احکام مذکورہ میں اول وآخر توحید کو ذکر نے کی حکمت :

اللہ تعالیٰ نے ان چھبیس احکام شرعیہ کی ابتدا توحید کا حکم دینے اور شرک سے منع کرنے سے کی اور بعینہ اسی حکم پر ان احکام شرعیہ کو ختم کیا اور اس میں اس چیز پر متنبہ کیا کہ ہر قول اور عمل اور ہر ذکر اور فکر کی انتہا اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک سے اجتناب پر ہونی چاہیے، حتی کہ انسان کی زندگی کا خاتمہ بھی توحید کے اقرار اور شرک سے اجتناب پر ہو، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام احکام شرعیہ سے مقصود یہ ہے کہ انسان توحید کی معرفت میں مستغرق رہے۔

توحید سے متعلق پہلی آیت میں یہ فرمایا کہ شرک کرنے والا مذمت کیا ہوا اور ناکام ہے اور آخری آیت میں فرمایا کہ شرک کرنے والا ملامت کیا ہوا جہنم میں جھونک دیا جائے گا، سو شرک کرنے والوں کو دنیا میں مذمت اور ناکامی حاصل ہوگی، اور آخرت میں اس کو ملامت کے بعد جہنم میں پھینک دیا جائے گا، پس ہمیں مذمت اور ملامت کے فرق پر غور کرنا چاہیے۔ مذمت کا معنی ی ہے ہ کہ دنیا میں مشرک سے کہا جائے گا کہ تم نے جو کام کیا ہے وہ قبیح اور برا ہے، اور ملامت کا معنی یہ ہے کہ مشرک سے آخرت میں یہ کہا جائے گا کہ تم نے شرک کیوں کیا اور شرک کرنے سے تمہیں سوا نقصان کے کیا فائدہ حاصل ہوا ؟ اور ناکام اور دھتکارے ہوئے میں فرق ی ہے ہ کہ دنیا میں مشرک سے کہا جائے گا کہ تم کو دنیا میں عبادت کے لیے بھیجا گیا تھا تم اس مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہے اور آخرت میں مشرک کو دھتکار کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ 

احکام مذکور کے حکیمانہ ہونے کی وجوہ :

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یہ وہ حکیمانہ احکام ہیں جن کی آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے۔

اس میں ان چھبیس احکام کی طرف اشارہ ہے جن کو ہم نے ابھی اجمالا بیان کیا ہے ان احکام کو حکیمانہ فرمانے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

١۔ ان تمام احکام کا خلاصہ یہ ہے کہ عقیدہ توحید پر قائم رہا جائے، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرنے میں مشغول رہا جائے اور دنیا میں مستغرق رہنے سے اجتناب کیا جائے اور آخرت کو پیش نظر رکھا جائے، اور فطرت انسان اور عقل سلیم کا بھی یہی تقاضا ہے کہ پیدا کرنے والے اور نعمتیں دینے والے کا شکر ادا کیا جائے تو جو شخص ان احکام کی دعوت دے گا تو وہ فطرت اور عقل سلیم کے مطابق دعوت دے گا اور وہی اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت دینے والا ہوگا اور جو ان احکام کے خلاف دعوت دے گا وہ طریقہ شیطان کی دعوت دینے والا ہوگا۔

٢۔ یہ احکام جو ان آیات میں بیان کئیے گئے ہیں ان کی رعایت تمام ادیان اور مذاہب میں کی گئی ہے اور یہ وہ احکام ہیں جن کو کسی شریعت میں منسوخ نہیں کیا گیا لہذا یہ تمام احکام محکم ہیں اور حکیمانہ ہیں۔

٣۔ حکمت کا معنی یہ ہے کہ جو چیز حق اور خیر ہو اور اس کی معرفت حاصل کرنا اس کے تقاضوں پر عمل کرنا اور اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنا، مخلوق پر شفقت کرنا، برے کاموں سے بچنا اور نیک کاموں کو کرنا یہ وہ کام ہیں جو اپنی ذات اور حقیقت میں حق اور خیر ہیں اور یہ چھبیس احکام ان ہی کاموں کے متعلق دیئے گئے ہیں تو پھر ان کاموں کے حکیمانہ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا بیٹوں کے لیے اللہ نے تم کو منتخب کرلیا ہے اور فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنالیں ہیں ؟ بیشک تم بہت سنگین بات کہہ رہے ہو۔ (بنی اسرائیل : ٤٠ )

اللہ تعالیٰ کے بیٹیوں کے قول کا ظلم ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا فطرت صحیحہ اور عقل سلیمہ کے خلاف ہے دنیا میں مذمت اور ناکامی اور آخرت میں ملامت اور دخول نار کا موجب ہے اور اس آیت میں اس کی دوسری نظیر کی طرف متنبہ کیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے لیے اولاد کا قول کرتے ہیں وہ اس سے بھی جہالت اور گمراہی میں مبتلا ہیں، کیونکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ اولاد کی دو قسمیں ہیں اور جو قسم اعلی اور اشرف ہے وہ مذکر اور بیٹا ہے اور جو قسم ادنی اور ارذل ہے وہ مونث اور بیٹی ہے، پھر ان ظالموں نے اپنے لیے تو بیٹے مانے حالانکہ یہ علم اور قدرت کے لحاظ سے انتہائی عاجز اور ناقص ہیں بلکہ ان کے پاس جو کچھ بھی علم اور قدرت ہے وہ اللہ تعالیٰ کا ہی دیا ہوا ہے اور اس میں وہ اسی کے محتاج ہیں اور ان جہلاء نے اللہ کے لیے بیٹیاں مانیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کا علم بھی بےحدو حساب ہے اور اس کی قدرت بھی بےپایاں اور بےانتہا ہے، اور یہ ان لوگوں کا انتہائی جہل اور ظلم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شکوہ فرمایا :

ام لہ البنات ولکم البنون۔ (الطور : ٣٩) کیا اللہ کی بیٹیاں ہیں اور تمہارے بیٹے ہیں ؟

الکم الذکر ولہ الانثنی۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی۔ (النجم : ٢١، ٢٢) کیا تمہارے لیے لڑکے اور اللہ کے لیے لڑکیاں ہیں۔ یہ تو بہت ظالمانہ تقسیم ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 39