أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِكُمۡ‌ؕ اِنۡ يَّشَاۡ يَرۡحَمۡكُمۡ اَوۡ اِنۡ يَّشَاۡ يُعَذِّبۡكُمۡ ‌ؕ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَكِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہارا رب تمہیں بہت زیادہ جاننے والا ہے، اور اگر چاہے تو تم پر رحم فرمائے، اور وہ اگر چاہے تو تم کو عذاب دے، اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔

تفسیر:

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمہارا رب تمہیں بہت زیادہ جاننے و الا ہے، وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرمائے اور وہ اگر چاہے تو تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ (بنی اسرائیل : ٥٤ )

یعنی اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تم کو ایمان، ہدایت اور معرفت کی توفیق دے دے اور اگر وہ چاہے تو حالت کفر میں ہی تمہاری روح قبض کرلے اور پھر تم کو عذاب دے، مگر اس کی مشیت تم کو معلوم نہیں ہے، اس لیے تم دین حق کی طلب میں پوری کوشش کرو اور جہل اور باطل پر اصرار نہ کرو تاکہ تم ابدی سعادت سے محروم نہ ہو، پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا : ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا، یعنی آپ ان پر تشدد نہ کریں اور سختی کے ساتھ ان کو دین حق کی طرف نہ بلائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 54