امیر المومنین حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی محبت مومن ہونے کی پہچان

تحریر: مفتی شاکرالقادری فیضی
امیرالمومنین, امام المتقین, نورالعارفین, شیر خدا, مشکل کشا ,حضرت سیدناعلی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی ذات بابرکت پوری دنیا میں اس طرح منور و روشن ہے جس طرح چاند و سورج پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگارہے ہیں. آپ کی رفعت و شوکت کو بیان کرنا بہت ہی دشوار امر ہے. یہ کہکر آگے بڑھتا ہوں. کہ جو صحابہ آغاز اسلام کے دور میں ہی آغوش اسلام میں آئے ان کا مقام و مرتبہ دیگر صحابہ سے ممتاز اور جداہے. پھر ان کی شان کا کیا کہنا جو ابتداء اسلام میں داخل ہونے کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کے وصال مبارک تک آپ کی پرورش میں رہنے کے ساتھ سب کچھ حضور جان کائنات رحمت تمام صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کو دل وجان سے زیادہ جانتے مانتے رہے ہوں. پھر اس ذات ذی شان کو کیسے بیان کیا جاسکتاہے. جس نے دنیا میں آکر ماں کا دودھ بعد میں پیا, حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے لعاب دہن شریف کو اپنی سب سے پہلی روحانی وجسمانی غذا بنایا. جو پیدا ہوا خانہ کعبہ کی چھاؤں میں, کھیلا حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی باہوں میں, جس کا بچپن و جوانی , نکاح و خانہ آبادی سب حضور کی نگاہوں میں ہو. جو اعلان نبوت ہوتےہی دامن سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم کو ہمیشہ کیلئے پکڑا ہو, جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ و سلم کے سگے چچا کا بیٹا, لخت جگر مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ زہرا کا شوہر بن کر داماد پیغمبر آخرالزماں کے عظیم منصب پر فائز ہواہو, جو فاتح خیبر بناہو, جس کے سانس لینے کی ابتداء حرم کعبہ مکرمہ اور انتہا خانہ خدا مسجدہو, جو ولایت کے چشمے کا سیل رواں ہو, جوباب مدینۃ العلم ہو, جو حسنین کریمین کا والد محترم اور تمام سیدوں کا باپ ہو, جو مومنین کا حامی ومولئ ہو, ان کی شان رفعت کیسے بیان ہو جو اوصاف و کمالات کا مجمع البحرین ہو. 
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کیا خوب لکھتے ہیں. 
*مرتضی شیر حق اشجع الاشجعین*
*باب فضل و ولایت پہ لاکھوں سلام*
*شیر شمشیر زن شاہ خیبر شکن* 
*پرتو دست قدرت پہ لاکھوں سلام*
*نام و نسب* آپ کا نام نامی *علی بن ابی طالب* 
اور کنیت *ابوالحسن* و *ابوتراب* ہے.
امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کی والدہ حضرت  *فاطمہ بنت اسد* نے اپنے والد کے نام پر آپ کا نام *حیدر* رکھا. چنانچہ حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ اپنے ایک رجز میں خود فرماتے ہیں. 
*انالذی سمیتنی امی حیدر* یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا.(صحیح مسلم ص 810)
آپ کے والد ابوطالب جن کا  اصل نام عبد مناف یا عمران ہے انھوں نے آپ کا نام *علی* رکھا. 
آپ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے. حضرت علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف. 
آپ کی والدہ محترمہ “فاطمہ بنت اسد” بن ہاشم یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی. (ملخص تاریخ الخلفاء ص 113)
بیان کردہ نسب نامہ سے یہ بات ظاہر ہیکہ نسب کے اعتبار سے بھی امیر المومنین حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم کے سب سے قریب ہیں. آپ کا سلسلہ نسب حضرت عبدالمطلب پر جاکر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کے نسب سے مل جاتاہے. 
*ولادت وپرورش*  آپ کی پیدائش 30 عام الفیل میں ہوئی ہجرت سے تیئس یا پچیس سال قبل (نورالابصارص 85)
اعلان نبوت سے پہلے ہی مولائے کائنات حضور سید عالم احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلاہوئے تھے تو حضور نے ابوطالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کیلیے حضرت سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کو لے لیا تھا. اس طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے سائے میں آپ نے پرورش پائی اور انھیں کی گود میں ہوش سنبھالا, آنکھ کھلتے ہی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وصحبہ و سلم کا جمال جہاں آرا کے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا, انھیں کی باتیں سنیں اور انھیں کی عادتیں اپنی زندگی کا حصہ بنایا. اور ہمیشہ اسوۂ حسنہ کو حیات کے ہرموڑ پہ نمونہ عمل بنایا(ملخص خطبات محرم ص 186)
*قبول اسلام* امیرالمومنین حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نوعمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے. جب آپ ایمان لانے اس وقت آپ کی عمر مبارک دس سال تھی, اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ تحریر کرتےہیں کہ اسلام لانے کے وقت آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی. 
( تاریخ الخلفاء  ملخص فتاوی رضویہ مترجم ج 28ص 435)
*مومن و منافق کی پہچان* امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کے فضائل و محاسن بیشمار ہیں آپ سے محبت مومن کی مومن ہونے کی پہچان, اور آپ سے بغض و عداوت نفاق کی علامت ہے. 
حضرت سیدنا زر بن حبیش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا( اس سے اناج اور نبات آگائے) اور جس نے ہرجاندار کو پیدا کیا! حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا مجھ سے عہد ہے. 
*ان لایحبنی الامومن ولا یبغضنی الامنافق* (صحیح مسلم کتاب الایمان ص 50)
یعنی کہ مجھ(علی) سے ایمان والا ہی محبت کرے گا اور منافق ہی مجھ سے عداوت رکھے گا. 
*خلافت وشہادت* امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شہادت کے بعد دوسرے دن حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ خلیفہ چہارم اور مسلمانوں کے امیر ہوگئے. 
چار سال آٹھ ماہ نو دن امور خلافت انجام دینے کے بعد ترسٹھ سال کی عمر میں 21 رمضان المبارک شب یکشنبہ
 40 ہجری میں جام شہادت نوش فرمایا. 
اناللہ واناالیہ راجعون 
*تجہیز و تکفین* امیرالمومنین حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کو حضرت امام حسن , حضرت امام حسین اور حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے غسل دیا, کفن کے طور پر آپ کو سنت کے مطابق تین کپڑے پہنائے گئے. آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہُ تعالیٰ عنہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی. مشہور یہ ہیکہ آپ کا مزار شریف نجف شریف میں ہے. 
(ملخص طبقات ابن سعد ج 3 ص 36)
امیر المومنین حضرت سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ سے ہمیں عبرت ونصیحت لینی چاہیے کہ انھوں نے اپنی حیات کا ہر گوشہ اطاعت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ و سلم سے معموررکھا. یاد خداوندی عزوجل اور عشق رسول عربی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم میں غرباء و مساکین اور ضرورتمندوں کی مدد کرنا آپ کی زندگی کا اہم حصہ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے