عقائد کے ساتھ تہذیب وثقافت کا تحفظ بھی ضروری ہے !!

تحریر: غلام مصطفی نعیمی
عقیدہ وتہذیب کسی بھی قوم کے لیے “بنیاد” اور “رنگ وروغن” کی حیثیت رکھتے ہیں. انسان جس دین کو مانتا ہے اس کے عقائد ‘مثل بنیاد’ ہوتے ہیں۔جس پر ایمان کی عمارت کھڑی ہوتی ہے. جبکہ ‘تہذیب وثقافت’ عمارت کے ‘رنگ وروغن’ کی مانند ہے جس سے عمارت کے حسن وجمال میں اضافہ ہوتا یے۔تہذیب وثقافت ہی قوموں کی شناخت اور پہلا تعارف قرار پاتی ہے.
نظریاتی دشمن ہمیشہ قوموں کے عقائد پر حملہ کرتے ہیں مگر خاطر خواہ نتائج نہ ملنے پر اپنی چال بدلتے ہیں اور عقیدے پر راست حملے سے گریز کرتے ہوئے دشمن کی ثقافت وتہذیب پر نشانہ لگاتے ہیں۔بھلے ہی عقیدہ وثقافت دو مختلف چیزیں ہیں لیکن عقائد وثقافت کے مابین ایک خصوصی ربط ہوتا ہے۔اس لیے جب شاطر حریف اپنے دشمن پر حملہ کرتے ہیں تو عقائد ونظریات کے ساتھ اس قوم کے ثقافتی اور تہذیبی امور کو بھی نشانہ بناتے ہیں.عقائد کے مقابلے تہذیب پر حملے میں یہ آسانی ہوتی ہے کہ فریق مخالف اتنی شدت سے دفاع نہیں کرتا جتنا عقیدے پر حملے کے وقت کرتا ہے۔ثقافتی رسم کے قدیم ہوجانے، یا بعض افراد کی لاپرواہی کے سبب کچھ نقائص در آتے ہیں بس انہیں کمزور پہلوؤں کو نشانے پر رکھ کر حریف اپنی چال چلتا ہے اور “اصلاح تہذیب” کی آڑ میں “عقیدے پر شب خون” کی سازش رچتے ہیں جس کے پس پشت اس قوم پر اپنے عقائد ونظریات مسلط کرنا مقصود ہوتا ہے۔
بر صغیر میں انگریزوں کی آمد تک مسلمانوں کے علاوہ شیعہ فرقہ ہی موجود تھا۔باقی سارے مسلمانوں کے عقائد اور تہذیب وہی تھی جس پر آج خوش عقیدہ سنی(بریلوی) مسلمان عمل پیرا ہیں، مشہور غیر مقلد عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری (1868-1948ء) نے لکھا ہے:
“اَمرت سَر میں مسلم آبادی غیر مسلم آبادی (ہندو سِکھ وغیرہ) کے مساوی ہے۔ اَسّی(80) سال پہلے تقریباً سب مسلمان اسی خیال کے تھے جن کو آج کل حنفی بریلوی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔”(شمع توحید:ص 63)
مولوی ثناء اللہ کے اس اقتباس سے دو باتیں بطور خاص معلوم ہوتی ہیں:
1-انیسویں صدی کے نصف اول (تقریباً 1850ء) تک بھی مسلمانان ہند کسی بڑی تقسیم کا شکار نہیں ہوئے تھے.
2-تقسیم امت سے پہلے مسلمان جن عقائد اور ثقافت پر قائم تھے ان عقائد و معمولات کے امین ووارث آج وہی مسلمان ہیں جنہیں “سنی بریلوی” کہا جاتا ہے۔  
گذشتہ ڈیڑھ سو سالوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انگریزی سامراج نے اپنا اقتدار مضبوط کرنے اور مسلمانوں کے عقائد وتہذیب مٹانے کے لیے کئی جہتوں سے کام کیا۔
1-حکومتی مشنری کا استعمال۔
2-مرزا قادیانی کے ذریعے عقیدہ ختم نبوت پر یلغار۔
3-مغرب پرست مِسٹَروں کے ذریعے الحاد کی اشاعت۔
4_زر خرید علما کے ذریعے مسلم ثقافت پر وار،اسی کی آڑ میں عقیدے پر شب خون۔
پہلے تین منصوبوں میں جزوی کامیابی تو ملی لیکن انگریزوں کی کھلی دشمنی،عقائد پر مسلمانوں کی پختہ وابستگی اور علماے ربانیین کی بروقت پکڑ نے ان فتنوں کو پھلنے پھولنے نہیں دیا.لیکن جو گروہ مسلمانوں کے لباس اور مصلح کے روپ میں ثقافت اسلامیہ پر حملہ آور ہوا اس نے مسلمانان ہند کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ امتداد زمانہ کے باعث ثقافتی امور میں کچھ خرابیاں آچکی تھیں۔اصلاح کے نام پر “انگریزی ہرکاروں” نے مسلمانوں میں فتنہ وفساد اور تقسیم در تقسیم کا بیج بویا. بات اگر ‘اصلاحات’ کی ہوتی تو تشویش نہ تھی، اس کے پس پشت عقائد پر شب خون مارنا تھا،مسلمانوں کے نسبتاً ہلکے اور کمزور رد عمل سے شہ پاکر یہ گروہ عقائد اسلامیہ پر حملہ آور ہوگیے۔مسلمانان ہند کی ثقافت اور اس پر جارحانہ یلغار سمجھنے کے لیے مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر یہ مثال ملاحظہ فرمائیں کہ کس بے شرمی کے ساتھ مسلمانوں کی تہذیبی روایات پر بدبختانہ فتوے لگا کر افتراق کا بیج بویا گیا۔میلاد النبی ﷺ کا انعقاد اہل اسلام کی ثقافت کا اہم حصہ ہے، مسلمانان ہند بھی صدیوں سے میلادالنبی کے محفلیں منعقد کرتے آئے ہیں۔مسلمانان ہند کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے محقق علی الاطلاق شاہ عبدالحق محدث دہلوی دہلوی رقم طراز ہیں:
“اے الله! میرا کوئی عمل ایسا نہیں جسے تیرے دربار میں پیش کرنے لائق سمجھوں۔میرے تمام اعمال میں فساد نیت موجود رہتی ہے۔البتہ مجھ حقیر فقیر کا ایک عمل صرف تیری ذات پاک کی عنایت کی وجہ سے بہت شاندار ہے اور وہ یہ ہے کہ مجلس میلاد کے موقع پر میں کھڑے ہوکر سلام پڑھتا ہوں اور نہایت عاجزی وانکساری،محبت وخلوص کے ساتھ تیرے حبیبﷺ پر درود وسلام بھیجتا ہوں۔”(اخبار الاخیار:605)
اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے:
میلاد النبی کا انعقاد مسلمانوں کی تہذیب کا بنیادی حصہ تھا۔ وہ اپنے اس معمول (میلادالنبی) کو “شاندار” سمجھتے تھے۔کھڑے ہوکر سلام پڑھنا محض عوام نہیں بلکہ محقق علی الاطلاق جیسے جید عالم دین کا بھی معمول تھا۔مسلم ثقافت کے اس بہترین عمل پر بد بختی سے بھرے یہ فتوے جڑے گئے:
“انعقاد مجلس مولود ہر حال ناجائز ہے۔”
“مجلس مولود مروجہ بدعت ہے…قیام بھی بوجہ خصوصیت کے بدعت ہے…فاتحہ مروجہ بھی بدعت ہے، معہذا مشبہ بفعل ہنود ہے۔”
بد بختی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ محافل میلاد النبی منعقد کرنے اور شرکت کرنے والوں کو *”فاسق”* قرار دیا گیا۔
خانوادہ شاہ ولی اللہ ہند کا وہ دبستان علم ہے جہاں سے علم حدیث کی خوشبوئیں پھوٹیں۔ اس گھرانے کی علمی عظمت ہی ہے کہ آج ہر مکتب فکر اپنا علمی انتساب اسی خانوادے سے کرتا ہے. لیکن اتنے جید علمی خاندان میں رائج تہذیب پر ناجائز وحرام اور فسق وفجور کے بدبختانہ فتوے جڑے گیے۔
*ظاہری آنکھ سے دیکھنے والے اسے محض فرعی اختلاف سمجھ کر نظر انداز کرتے رہے لیکن “نور فراست” سے دیکھنے والے علماے ربانیین نے خوب سمجھ لیا کہ ثقافت مسلم پر حملے کے پیچھے عقیدے پر شب خون کی تیاری ہے اس لیے اس عہد کے علما نے آنکھ سے کاجل چرانے والے چوروں کے عزائم پر مضبوط بند باندھا اور ان کے حقیقی چہرے بے نقاب کیے۔*
زیادہ وقت نہیں گزرا کہ زمانے نے دیکھ لیا کہ جو لوگ ‘اصلاحات’ کے نام پر اودھم مچا رہے تھے کچھ وقت بعد وہ “انگریزی دستے” عقائد پر حملہ کرنے لگے، اور دیکھتے ہی دیکھتے علم غیب مصطفیٰ، امکان کذب باری تعالیٰ اور عقیدہ شفاعت پر حملوں کی بوچھار ہوگئی.علماے ربانیین نے بروقت ان فتنوں کو نہ پہچانا ہوتا تو آج ملت اسلامیہ کی اکثریت ان فتنوں میں مبتلا ہوتی۔ان علماے ربانیین کا احسان عظیم ہے کہ آج ملت اسلامیہ کا اکثریتی طبقہ انہیں عقائد پر کاربند ہے جو انہیں اسلاف سے ورثے میں ملے ہیں۔
آج بعض شپرہ چشم محققین یہ کہتے ہیں کہ گذشتہ صدی کے علما نے میلاد وفاتحہ اور عرس ونیاز پر ہی زیادہ توجہ رکھی لیکن وہ ایسا کَہہ کر معاملے کے دوسرے اور اصل پہلو سے اپنی آنکھیں موند لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی مغالطہ دیتے ہیں۔اہل خرد خوب جانتے ہیں کہ فتنے کو ابتدا میں روکنا آسان ہوتا ہے ذرا سی ڈھیل مل جائے تو قابو کرنا بہت مشکک ہوجاتا ہے۔امام بخاری التاریخ الکبیر میں امام حسن بصری کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں:
“الفتنة إذا أقبلت عرفها كل عالم، وإذا أدبرت عرفها كل جاهل” 
فتنہ جب اٹھتا ہے(یعنی جب کسی فتنے کی شروعات ھوتی ھے) تو ھر عالم اسے پہچان لیتا ھے۔ اور جب فتنہ چلا جاتا ھے تب جاہل اسے پہچانتا ھے۔
امام حسن بصری کے اس ارشاد سے پتہ چلتا ہے کہ دین میں اٹھنے والے فتنوں کی صحیح سمجھ “علماے دین یعنی دین کی صحیح سمجھ رکھنے والوں” ہی کو ہوتی ہے.وہ فتنوں کے سر اٹھاتے ہی انھیں پہچان لیتے ہیں اور امت کو باخبر کر دیتے ہیں.
جب کہ “جاہل اور انجان لوگ” ان فتنوں کی حقیقت نہیں سمجھ پاتے. اور جب اٹھنے والے فتنے اپنا کام کر جاتے ہیں تب انھیں ان فتنوں کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔
عہد ماضی کے علماے ربانیین کی دینی بصیرت اور مضبوط پیش بندی ہی تھی کہ بدعقیدہ جماعتیں اور ان کے سربراہان تک اپنی اصل شناخت اور پہچان چھپاتے پھرتے تھے۔
اعتقادی فتنوں کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے جس اجتماعی شعور کی ضرورت ہوتی ہے اگر وقت گزرنے کے ساتھ ہم میں اس کا فقدان نہ ہوا ہوتا اور اکابرین کی پیروی میں ہم نے اپنی تہذیب تسنن کا مقدمہ صحیح طریقے سے آگے بھی جاری رکھا ہوتا تو آج بر صغیر کے اعتقادی فتنے بھی اسی طرح اپنی موت مر چکے ہوتے جس طرح صدیوں قبل درجنوں بدمذہب فرقے مر چکے ہیں۔