فتح مکہ: پس منظر و پیش منظر

تحریر: محمد جنید برکاتی مصباحی
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح مکہ میں پھیل گئی تھی کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھ دس بارہ ہزار کا لشکر لے کر مکہ پہ حملہ کرنےکرنے آرہا ہے۔ پورے شہر میں ہنگامۂ محشر مچا ہوا تھا، ہر گھر میں ماتم کدہ بن  گیا تھا، مردوں نے بھاگنا، عورتوں نے چلانا شروع کر دیا تھا، جنھوں نے اسلام دشمنی میں تمرد و سرکشی کے نت نئے طریقے ایجاد کیے تھے انھیں اپنی موت صاف نظر آرہی تھی، ہند تو پاگل سی ہو گئی تھی، وہ حمزہ کا کلیجہ چبانا نہیں بھولی تھی، اسے اپنا انجام بہت برا نظر آرہا تھا، ہر شخص کو اپنی اپنی پڑی تھی، لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے، اپنے دفاع کا انتظام کر رہے تھے، کیوں کہ انھیں یہ لگ رہا تھا کہ مہاجرین و انصار کی غضب ناک فوجیں آج ہمارے بچے بچے کو  خاک و خون میں ملا کر نیست و نابود کر ڈالیں گی لیکن انھیں یہ نہیں پتا تھا کہ یہ وہ فوج ہے جس کے جرنیل کی شجاعت و بہادری اور تلوار کی دھار کے قصے تو کم نہیں ہیں، جب وہ تلوار چلاتا ہے تو آسمان کی بجلیاں اس کی تلوار کی چمک میں آجاتی ہیں، رکانہ جس کے دیو ہیکل بھاری بھر کم پہلوان ہونے کا چرچہ مکہ میں تھا اس کو اِس جرنیل نے اکھاڑے میں پے در پے تین بار اٹھا کے پٹکا تھا لیکن قرآن نے اس  کی شجاعت و بطالت، شمشیر زنی وسپہ گری  کو عظیم  نہیں کہا تھا بلکہ اس کے بلند اخلاق کو کہا تھا، اس کی ضربِ ید اللہی سے تو مکہ والے واقف ہو چکے تھے، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے اس کی جود و سخا، عفو و در گزر، رحمت و کرم کے اندازِ کریمانہ کا وار سیدھے دل پہ ہوتا تھا اور اپنے طلسماتی تاثیر اخلاق و کِردار سے بڑے سے بڑے دشمن کو آنِ دم زدن میں اپنا فریفتہ شیدائی بنا لیتا ہے۔ 
تفسیرِ والضحیٰ والے رشکِ قمر  چہرے پہ گیسوئے لالہ زار کی کالی گھٹاؤں کا سایہ تھا اور کرم کی ان  گھٹاؤں پہ سیاہ عمامہ سجائے ہمارے نورِ مجسم، نبی محمدِ عربی ﷺ ساری کائنات کو اپنے حسن کی جلوہ سامانیوں سے مسحور کرتے پرچمِ عقاب کے ساتھ آج اپنے اسی وطن کو فتح کرنے جارہے تھے جہاں سے آٹھ سال پہلے گوناگوں ظلم کرکے آپ نکالا گیا تھا، آپ ﷺ کے ساتھ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے جنھیں برہنہ بدن دھوپ میں لٹال کر پتھر لاد دیے جاتے تھے اور اسلام ترک کرنے پہ مجبور کیا جاتا تھا، آپ کے ساتھ  حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے جن کی ماں نیزہ چبھو چبھو کر مکہ کی گلیوں میں قتل کی گئی تھیں ، خود آپ ﷺ پہ ظلم کم نہ ہوئے تھے، کبھی مسجدِ حرام میں نماز کے دوران پیٹھ پہ اوجھڑی رکھی گئی تھی تو کبھی سرکشوں کو پیچھے لگایا گیا تھا، آپ ﷺ کو طائف کی وہ بستی بھی یاد تھی جہاں آپ ﷺ کو پتھر مار مار کر لہولہان کیا گیا تھا اور شعبِ بنی ہاشم بھی یاد تھی جہاں آپ ﷺ کے پورے خاندان نے بائیکاٹ کی مشقتیں برداشت کی تھیں ، آج آپ ﷺ انھیں ظالموں پہ غلبہ پانے جا رہے تھے، آپ ﷺ کے ساتھ آپ  کے بارہ  ہزار متوالے تھے جن میں ایک سے بڑھ کر ایک دلیر اور جیالے تھے، جنھوں نے جاں نثاری کی نئی داستانیں لکھی تھیں، اور اس معاملے میں بڑے بڑے بادشاہوں کے مصاحبوں کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے جاں نثار،  آپ کے یارِ غار اور سب کچھ قربان کرنے کو ہر دم تیار حضرت سیّدنا ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے جنھوں نے اس پورے دور میں ہر جنگ ساتھ لڑی تھی، ہر مصیبت، ہر تکلیف ساتھ برداشت کی تھی، جان و مال قربان کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا تھا اور جاں نثاری و فدا کاری میں ہمیشہ سب پر فائق رہے تھے، آپ ﷺ کے ساتھ خطاب کے بیٹے حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی تھے جو بارگاہِ رسالت کی ادنیٰ سی گستاخی کی سزا صرف قتل جانتے تھے، جو ہر بد دین کے لیے ننگی تلوار تھے، ان میں حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسے بہادر شیر بھی تھے جنہوں نے جنگِ خندق کے موقع پہ گھوڑے کو اپنے کاندھے پہ اٹھانے کی طاقت رکھنے والے عمرو بن عبدود کو پچھاڑا تھا، جنھوں نے خیبر کے میدان میں مرحب کو بھی جہنم پہنچایا تھا، آپ ﷺ  کے ساتھ آپ کے دوسرے جلیلُ القدر جاں نثار صحابہ بھی تھے جو  آپ ﷺ پہ جاں نثاری کے ہر موقع پہ مسابقت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ ﷺ کے نام پہ سر کٹانے کو ہر لمحہ ہر آن بصد رضا و رغبت تیار رہتے تھے۔
اس لشکر کی شان و شوکت کی خبریں مکہ پہنچ رہی تھیں اور مکہ والوں کے دلوں پہ سانپ لوٹ رہے تھے کیوں کہ انھیں اپنی شکست صاف نظر آ رہی تھی، بدر و احد، خیبر و خندق میں نبی ﷺ کے جاں نثاروں سے لوہا لینے والوں کا انجام ان کے پیش نظر تھا جب کہ ہر میدان میں مسلمان اپنے مخالف سے کم تعداد میں تھے، آج تو مسلمان کثیر تعداد میں آ رہے تھے اس لیے مکہ والوں کو یہ خوف کھائے جا رہا تھا کہ مسلمان ہماری جان، مال عزت و آبرو پہ قبضہ کر لیں گے اور جیسا چاہیں گے ویسا سلوک کریں گے لیکن پیغمبرِ اعظم ﷺ  کا  یہ لشکر تو کچھ اور ارادے لے کے مدینہ سے نکلا تھا، انھیں نہ مکہ والوں کے مال سے محبت تھی، نہ ان کی عورتوں میں دل چسپی، وہ تو خانۂ خدا کو بتوں سے پاک کرنے کا ارادہ لے کے نکلے تھے، یہی وجہ تھی کہ سرورِ کائنات ﷺ جب مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ نے یہ اعلان کرا دیا تھا کہ جو خانۂ خدا میں داخل ہو جائے یا ابو سفیان کے گھر میں چلا جائے یا اپنے ہی گھر کے دروازے بند کرلے یا ہتھیار ڈال دے اسے امان ہے، لہذا مسلمان نے کسی بھی مکہ والے کے گھر کی طرف نگاہ اٹھا کے نہیں دیکھا، کسی کے مال و جائداد کو غصب نہیں کیا، کسی کی بھی بہن، بیٹی پہ اپنا مالکانہ حق نہیں جتایا اور رسولِ گرامی وقار مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ سیدھے  کعبۃ اللہ شریف تشریف لے گئے اور سات بار طوافِ بیتُ اللہ کیا تھا۔ 
جب رسولِ اعظم ﷺ طواف سے فارغ ہو کر باہر تشریف لائے تو مکہ والے اپنی چھتوں پہ کھڑے میرے نبی ﷺ  کو دیکھ رہے تھے،  لیکن اب کسی میں مجال نہیں تھی کہ میرے نبی ﷺ یا آپ کے کسی شیدائی سے بد تمیزی کرے، جملے کسے  یا قرآن کو جھٹلائے، میرے نبی ﷺ  کو جادوگر کہے، سب کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں، وہ اپنی شکست تسلیم کر چکے تھے ، ہمارے پیارے نبی ﷺ فاتحانہ شان و شوکت کے ساتھ وہاں کھڑے تھے، عربوں میں انتقام کی داستانیں بڑی بھینکر ہوا کرتی تھیں، اس لیے ہر ایک پہ دہشت طاری تھی، اشرافِ مکہ لرزاں و ترساں کھڑے ہوئے تھے، لیکن میرے نبی ﷺ کے سینے میں انتقام کی آگ نہیں جل رہی تھی بلکہ رحم و کرم اور عفو و در گزر کے سمندر موج مار رہے تھے، آخر جب ہمارے پیارے نبی رؤف رحیم حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قریش کی طرف متوجہ ہوئے تھے تو ہر طرف سے لوگوں نے رحم و کرم کی بھیک مانگنا شروع کر دیا  تھا، سرکارِ دو عالم ﷺ  کی حیاتِ مقدسہ کی وہ گھڑی بڑی عظیم  تھی جب آپ ﷺ نے اپنے سالوں پرانے جانی دشمنوں کو معاف کرتے ہوئے  مکہ میں عام بخشش کا اعلان کیا تھا اور فرمایا تھا کہ جاؤ آج تم سب آزاد ہو۔آج کا دن تو رحم کا دن ہے، صرف ان کی جان بخشی ہی نہ ہوئی تھی بلکہ ان کے قبضے میں مہاجرین کی جو جائدادِ مغصوبہ تھیں رسولِ گرامی وقار ﷺ نے مہاجرین سے وہ بھی معاف کرا دی تھیں اور اپنے اس تاریخ ساز فیصلے صرف مکہ والوں کو ہی نہیں بلکہ ساری کائنات کو حیران کر دیا تھا اور دنیا کی فاتح قوموں کو مفتوحہ قوموں کے ساتھ حسنِ سلوک و روا داری کا ایک نیا درس دیا تھا، اِس محیر العقول فیصلے نے مکہ والوں کے دل مسخر کر لیے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ چند ایام کے اندر پورا مکہ حلقہ بگوشِ اسلام ہو گیا تھا۔
یہ تھا محمد ﷺ کا نیا دین، نیا انصاف، عفو و در گزر کے نئے انداز، جود و سخا کی نئی داستان کہ سالوں دشمنی نبھانے والوں،  راہوں میں کاٹے بچھانے والوں کو آقائے کریم رؤف رحیم دو عالم کے داتا رحمتِ عالم ﷺ نے امن و امان کی سوغات پیش کی تھی اور مکہ والوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کے ضامن ہو کر پورے شہر عام امان کا اعلان کرا دیا تھا۔  کسی کے گھر کو لوٹا نہیں گیا تھا کسی کی بیٹی پہ نگاہ  اٹھائی گئی تھی کسی کی جائداد غصب نہیں کی گئی تھی اور بیرونِ ممالک سے درآمد برآمد کا کاروبار  کرنے والوں کے اتنے بڑے شہر کے فاتح سپہ سالارِ اعظم ﷺ جب کھانا کھانے بیٹھے تھے تو روٹیوں کے خشک ٹکڑے پانی میں نرم کرکے سرکے میں ڈبو کر تناول فرمائے تھے، یہ تھی میرے نبیﷺ قناعت، آپ ﷺ کی دنیا سے بے رغبتی، آپ ﷺ  کی سادہ مزاجی، آپ ﷺ اگر چاہتے تو  کسی کا بھی جانور ذبح کرادیتے اور لذیذ مرغن و مسلم  کھانا پکوا کے کھاتے اور کسی کو مجالِ دم زدن نہ ہوتی، وہ دن آپ کا تھا، پورے شہر پہ آپ کا تسلط جم چکا تھا لیکن ہمارے پیارے آقا و مولا نبی مکرم نور مجسم ﷺ نے ہمیں صبر و قناعت کے درس دیتے ہوئے ایسے عظیم دن  یہ روکھا سوکھا کھانا تناول فرمایا تھا۔
کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام
مکہ میں عام امن کا اعلان ہو چکا تھا لیکن وہاں کچھ سرکش و بد بخت ایسے بھی تھے جو اس عام امان کے حق دار نہیں ہو سکتے تھے،  کیوں کہ انھوں نے سرکارِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کرنے کا ناقابلِ معافی جرم کیا تھا، ان کا یہ جرم نہایت سنگین تھا، اس لیے ان کی جان بخشی نہیں کی جا سکتی تھی لہذا رسولِ محتشم ﷺ نے فرمان سنایا کہ فلاں فلاں افراد جہاں پائے جائیں وہیں قتل کر دیے جائیں، سرکار دو عالم ﷺ کے متوالے تو صرف حکم کے منتظر تھے، حکم  ملتے ہی ان مردودوں کے قتل کو نکل پڑے۔ 
فتحِ مکہ سے جہاں ہمیں نبی کریم ﷺ  کی کشادہ ظرفی، قناعت پسندی، عفو و در گزر، رحم و کرم، جاہ و جلال، جود و نوال کے پہلو دیکھنے کو ملتے ہیں تو وہیں ایک اہم سبق یہ بھی ملا تھا کہ جانی دشمن کو بھی بخشا جا سکتا ہے، پرانی دشمنیاں بھی ختم کی جاسکتی ہی، سنگین سے سنگین تر جرم بھی معاف کیا جا سکتا ہے لیکن جنابِ رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کی جرات قطعی برداشت نہیں کی جاسکتی، جس نے بھی ذاتِ رسالت مآب ﷺ کی ادنیٰ سی بھی گستاخی کرنے کی جسارت کی تو اس کے خون سے امان اٹھ جائے گی اور بجز قتل اسیہوگی کی سزا کچھ نہیں ہوسکتی۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں