أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلِ ادۡعُوا الَّذِيۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ فَلَا يَمۡلِكُوۡنَ كَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡكُمۡ وَلَا تَحۡوِيۡلًا ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ تم ان کو پکارو جو تمہارے زعم میں اللہ کے سوا (عبادت کے مستحق) ہیں سو وہ تم سے نہ کسی ضرر کو دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ اس کو بدلنے کے (مالک ہیں) ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تم ان کو پکارو جو تمہارے زعم میں اللہ کے سوا (عبادت کے مستحق) ہیں سو وہ تم سے نہ کسی ضرر کو دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ اس کو بدلنے کے (مالک ہیں) ۔ (بنی اسرائیل : ٥٦ )

غیراللہ کو مستحق عبادت سمجھ کر پکارنے کا رد :

اس آیت سے مقصود مشرکین کا رد کرنا ہے، وہ کہتے تھے کہ ہم خود اس لائق نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں بلکہ عبادت کے لائق تو مقربین ہیں یعنی اللہ کے فرشتے پھر انہوں نے فرشتوں کے فرضی مجسمے اور بت بنا رکھتے تھے اور اس تاویل سے بتوں کی عبادت کرتے تھے، بعض مفسرین نے کہا وہ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کی عبادت کرتے تھے اور ان کی عبادت کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جن کی تم عبادت کرے وہ تم سے کسی ضرر کو دور کرسکتے ہیں اور نہ تم کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں۔ 

اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ وہ بت ضرر کو دور نہیں کرسکتے اور نفع نہیں پہنچا سکتے، اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مشرکین کو دیکھتے ہیں کہ وہ بتوں کے آگے گڑگڑاتے ہیں اور ان کی مراد پوری نہیں ہوتی، اگر وہ یہ اعتراض کریں کہ تم بھی خدا کے آگے گڑگڑاتے ہو اور بعض اوقات تمہاری بھی مراد پوری نہیں ہوتی، اگر تم اس کے جواب میں یہ کہو کہ اللہ کو علم تھا کہ ہماری مراد ہمارے حق میں نقصان دہ تھی تو وہ کہیں گے کہ بتوں کو بھی علم تھا کہ ہماری مراد ہمارے لیے مضر تھی اور جس طرح تمہاری بعض مرادیں پوری ہوتی ہیں اسی طرح ہماری بھی بعض دعائیں پوری ہوجاتی ہیں۔

اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ مشرکین اور بت پرست اس کو مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کا خالق ہے اور فرشتے، اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنا لازم ہے اور مخلوق کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے۔

مطلقا پکارنے اور مدد طلب کرنے کو شرک کہنا صحیح نہیں :

سید ابو الاعلی مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ہی شرک نہیں ہے، بلکہ خدا کے سوا کسی دوسری ہستی سے دعا مانگنا یا اس کو مدد کے لیے پکارنا بھی شرک ہے، دعا اور استمداد و استعانت اپنی حقیقت کے اعتبار سے عبادت ہی ہیں اور غیر اللہ سے مناجات کرنے والا ویسا ہی مجرم ہے جیسا ایک بت پرست مجرم ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیارات حاصل نہیں ہیں نہ کوئی دوسرا کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے نہ کسی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے، اس طرح کا اعتقاد خدا کے سوا جس ہستی کے بارے میں بھی رکھا جائے، بہرحال ایک مشرکانہ اعتقاد ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٢ ص ٦٣٥، مطبوعہ لاہور ١٩٨٢ ء)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے جو بتوں اور حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کے مستحق عبادت ہونے کا اعتقاد رکھتے تھے اور ان کو بطور عبادت پکارتے تھے لیکن سید مودودی نے مطلقا کسی کو مدد کے لیے پکارنے کو شرک قرار دیا، قرآن مجید میں ہے کہ لوگوں نے ذوالقرنین سے مدد طلب کی اور ذوالقرنین نے ان سے مدد طلب کی :

والوا یذا القرنین ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض فھل نجعل لک خرجا علی ان تجعل بیننا وبینھم سدا۔ قال ما مکنی فیہ ربی خیر فاعینونی بقوۃ اجعل بینکم وبینھم ردما۔ (الکہف : ٩٤، ٩٥) انہوں نے کہا یا ذوالقرنین ! یاجوج ماجوج (اس ملک میں) فساد کر رہے ہیں کیا ہم آپ کے لیے کچھ خرچ کا انتظام کریں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنادیں۔ اس نے کہا مجھے جو میرے رب نے دے رکھا ہے وہی بہتر ہے، تم صرف قوت سے میری مدد کرو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک دیوار بنا دوں گا۔

فلما احس عیسیٰ منھم الکفر قال من انصاری الی اللہ۔ (آل عمران : ٥٢) جب عیسیٰ نے ان کا کفر محسوس کرلیا تو کہا اللہ کی راہ میں کون میری مدد کرنے والے ہیں۔

اگر مطلقا اللہ کے سوا کسی سے استعانت اور مدد طلب کرنا شرک ہو جیسا کہ سید ابو الاعلی نے لکھا ہے تو یہ ذوالقرنین، حضرت عیسیٰ اور وہ سب لوگ جنہوں نے ذوالقرنین سے مدد طلب کی تھی مشرک قرار پائیں گے، حضرت سلیمان نے آصف بن برخیا سے تخت بلقین منگوانے میں مدد طلب کی، اور لوگ عام طور پر دینی اور دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے مدد طلب کرتے ہیں اس لیے مطلقا مدد طلب کرنے اور غیر اللہ کے پکارنے کو شرک کہنا درست نہیں ہے اس میں لامحالہ کوئی قید لگانی ہوگی اور صحیح قید یہ ہے کہ کسی کو مستحق عبادت قرار دے کر اور حقیقی فریاد رس اور مستقل بالذات مشکل کشا اعتقاد رکھ کر پکارنا اور اس سے مدد طلب کرنا شرک ہے خواہ اس سے مافوق الاسباب امور میں مدد طلب کی جائے یا ما تحت الاسباب میں، دور سے پکارا جائے یا قریب سے، مشرکین جو بتوں کو پکارتے تھے وہ ان بتوں کو عبادت کا مستحق قرار دیتے تھے وہ کہتے تھے کہ ان کی عبادت ہمیں خدا کے قریب کردے گی۔

ہماری اس وضاحت سے معلوم ہوگیا کہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام سے مدد طلب کرنا اور ان کو پکارنا شرک نہیں ہے تاہم افضل اور اولی یہ ہے کہ ہرحال میں اور ہر ضرورت میں صرف اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کی جائے ہم نے اس کی مفصل بحث یونس : ٢٢ میں کی ہے۔

سید ابو الاعلی مودودی نے اسی بحث میں یہ فقرہ بھی لکھا ہے : نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ یہ فقرہ بھی علی الاطلاق صحیح نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھلائی اور برائی کا اختیار عطا فرمایا ہے، انسان اپنے اختیار سے کسی پر ظلم کرتا ہے تو اسے سزا ملتی ہے اور کسی پر رحم کرتا ہے تو اس کی جزا ملتی ہے، جس شخص کو دنیا میں جتنا اقتدار دیا جاتا ہے وہ اتنا بااختیار ہوتا ہے، اسلیے یوں کہنا چاہیے کہ کسی شخص کو ذاتی اختیار نہیں ہے یا از خود اختیار نہیں ہے، یا اللہ کے مقابلہ میں کسی کو اختیار نہیں ہے یا اللہ تعالیٰ کے اذن اور اس کی عطا کے بغیر کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے، اس کی مکمل بحث ہم نے الاعراف : ١٨٨ میں کردی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 56