أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّوۡ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا يَقُوۡلُوۡنَ اِذًا لَّابۡتَغَوۡا اِلٰى ذِى الۡعَرۡشِ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

آپ کہیے اگر اللہ کے ساتھ اور معبود (بھی) ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ اب تک عرش والے تک کوئی راہ ڈھونڈ چکے ہوتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے اگر اللہ کے ساتھ اور معبود (بھی) ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ اب تک عرش والے تک کوئی راہ ڈھونڈ چکے ہوتے۔ ان کی باتوں سے اللہ بہت پاک اور بہت بلند ہے۔ (بنی اسرائیل : ٤٢، ٤٣ )

اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر دلائل :

اس آیت کی تین تقریریں ہیں۔ پہلی تقریر یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور متعدد خدا ہوتے تو وہ ایک دوسرے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے جیسے کہ دنیا کے حکمرانوں میں ہوتا ہے اور جو جس علاقے پر غلبہ حاصل کرتا وہاں اپنا نظام جاری کردیتا، مثلا روس جہاں جہاں غلبہ پاتا گیا وہاں اشتراکی نظام جاری کرتا رہا، امریکہ سرمایہ داری نظام جاری کرتا رہا، مسلمان جہاں غالب ہوئے انہوں نے وہاں اسلامی نظام جاری کیا، اس طرح دنیا میں مختلف نظام ہائے حیات جاری ہیں، سو اسی طرح دنیا بنانے والے اور دنیا چلانے والے بھی متعدد ہوتے تو اس کائنات کا فطری اور طبعی نظام ایک نہج اور ایک طرز پر نہ ہوتا، سورج کبھی ایک مخصوص جانب سے طلوع اور ایک مخصوص جانب میں غروب نہ ہوتا، بیر کے درخت میں ہمیشہ بیر نہ لگتا، کشش ثقل کی وجہ سے ہمیشہ چیزیں نیچے کی طرف نہ آتیں، انسان سے ہمیشہ انسان پیدا نہیں ہوتا، ان فطری چیزوں کے نظام بدلتے رہتے اور جب تمام چیزیں ایک طرز اور ایک نہج پر چل رہی ہوں تو معلوم ہوا کہ اس نظام کو بنانے والا اور اس نظام کو چلانے والا بھی واحد ہے متعدد نہیں ہیں۔

اور اس آیت کی دوسری تقریر یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے سوا اور بھی متعدد خدا ہوتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور اس کی سلطنت کو مٹانے کے لیے اس تک پہنچ چکے ہوتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے خلاف ہے وہ ان کی شرکت کو نہیں مانتا بلکہ وہ ان کے خدا ہونے کا انکار کرتا ہے ایسے میں ضروری تھا کہ وہ عرش پر ہلہ بول دیتے اور اس کے واحد ہونے کے دعوی کو باطل کردیتے اور وہ یہ ثابت کردیتے کہ وہ حقیقت میں اس کے شریک ہیں، لیکن جبکہ فی الواقع ایسا نہیں ہوا، اور اس کا کوئی مخالف اس کے عرش تک نہیں پہنچ سکا اور اس کے ملک اور اس کی سلطنت کا بال بیکا نہیں کرسکا تو پھر اب یہ تسلیم کرنے میں کیا کسر رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

اس کی تیسری تقریر یہ ہے کہ مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم بتوں کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ بت ہم کو اللہ تعالیٰ کے قریب کردیں گے جو عرش کا مالک ہے اور وہ سال ہا سال سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے بتوں کی عابدت کر رہے ہیں تو اب تک ان کو عرش کے قریب پہنچ جانا چاہیے تھا اور جبکہ وہ عرش تک نہیں پہنچے تو ماننا پڑے گا کہ بتوں کی عبادت کر کے وہ اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتے اور بتوں کی عبادت کرنا باطل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 42