نبی رحمت ﷺ کی بچوں سے محبت

تحریر: احمد رضا مصباحی
حضور نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم بچوں سے حد درجہ محبت فرماتے تھے۔ آپ بچوں کو اپنی آغوش مبارک میں بٹھاتے، سر پر ہاتھ پھیرتے، کبھی دوش مبارک پر سوار کرتے تو کبھی فرط محبت میں خود سے چمٹا لیتے۔
ایک مرتبہ رحمۃ للعٰلمین علیہ الصلاۃ والتسلیم حضرت حسن کو اپنے دوش مبارک پر سوار کیے تشریف لا رہے تھے۔ ایک صحابی نے عرض کی: بیٹا! تمہاری کی سواری کتنی اچھی ہے! آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: سوار بھی تو بہترین ہے۔
آپ کا ارشاد گرامی ہے: بچے تو اللہ کے باغ کے پھول ہیں۔ بچوں سے آپ کی شفقت و محبت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ افضل العبادات یعنی نماز میں بھی آپ ان کا خیال رکھتے۔ چنانچہ آپ ایک مرتبہ سجدہ میں تھے کہ امام حسین آپ کی پشت مبارک پر سوار ہو گئے تو آپ نے سجدہ طویل کر دیا، یہاں تک کہ امام حسین پشت مبارک سے نیچے اتر آئے۔
آقا کریم کو حسنین کریمین سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی ذرا سی تکلیف قلب اطہر کا چین و سکون ختم کر دیتی۔ ایک دفعہ یہ دونوں ناز کے پالے شدت پیاس سے رونے لگے۔ جب رونے کی آواز سرکار دو عالم کے گوش مبارک سے ٹکرائی تو آپ بے قرار ہو گئے اور فورا ان کے گھر تشریف لے جاکر رونے کا سبب دریافت فرمایا۔ حضرت خاتون جنت نے عرض کی: حضور! انھیں شدت پیاس نے بے چین کیا ہے اور اس وقت گھر میں پانی موجود نہیں ہے۔ صاحب کوثر علیہ الصلاۃ و السلام نے امام حسن کو اٹھایا اور ان کے منہ میں زبان اقدس ڈال دی۔ انھوں نے زبان مبارک چوسنا شروع کیا تو پیاس ختم ہو گئی۔ پھر امام حسین کو اٹھایا اور ان کے منہ میں بھی زبان اقدس ڈالی۔ انہوں نے بھی زبان مبارک چوسی اور سیر ہو کر چپ ہو گئے۔
آپ کا یہ حسن سلوک صرف نواسوں ہی کے ساتھ نہیں تھا بلکہ خاندان کے دوسرے بچوں کے علاوہ عام بچے بھی آپ کی محبت و شفقت سے خوب خوب فیض یاب ہوئے۔ یہاں تک کہ اپنے خادم خاص حضرت زید کے صاحب زادے حضرت اسامہ سے بھی نواسوں کی طرح پیار فرماتے۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ نے اپنی ایک ران پر حضرت اسامہ کو بٹھایا اور دوسری ران پر حضرت حسن کو، اور ان دونوں کو اپنے ساتھ چمٹا کر فرمانے لگے: اے اللہ! تو ان کے ساتھ مہربانی فرما، کیوں کہ میں ان پر مہربان ہوں۔ 
بچوں کو بھی آپ سے بے انتہا عقیدت تھی۔ رخ انور کی زیارت سے ان کے چہرے پھول سے کھل اٹھتے۔ بچوں کی آپ سے بے تکلفی کا عالم یہ تھا کہ جب آپ بچوں کو اکٹھا کرکے فرماتے کہ جو میرے پاس پہلے پہنچےگا اس کو فلاں فلاں انعام ملےگا تو بچے دوڑ لگا کر آپ کے پاس آتے، کوئی سینۂ مبارک پر چڑھ جاتا تو کوئی پشت انور پر۔ آپ ان سب کو خود سے چمٹاتے اور بوسہ لیتے۔