حدیث نمبر 255

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا لوگ سمجھے کہ آپ نے تنزیل السجدہ پڑھی ۱؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ صحابہ رضی اللہ عنھم نے یہ اس لیئے سمجھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کی نمازوں میں سورۃ کی ایک آدھ آیت آواز سے پڑھ دیتے تھے تاکہ پتہ لگے کہ فلاں سورۃ پڑھ رہے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا سنت یہ ہے کہ نمازی آیت سجدہ پر سجدہ کرے پھر باقی سورۃ پڑھ کر رکوع کرے اور اگر پوری سورۃ پڑھ کر سجدہ کرے جب بھی جائز ہے اور اگر رکوع میں ہی سجدہ تلاوت کرنے کی نیت کرے تب بھی درست ہے مگر پہلی صورت افل ہے،حضرت عمرو ابن مسعود نماز میں سجدہ کی آیت پڑھ کر رکوع میں سجدہ کی نیت کو درست مانتے تھے اور کسی صحابی نے ان کی مخالفت نہ کی۔(مرقاۃ)