أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا يَسۡتَمِعُوۡنَ بِهٖۤ اِذۡ يَسۡتَمِعُوۡنَ اِلَيۡكَ وَاِذۡ هُمۡ نَجۡوٰٓى اِذۡ يَقُوۡلُ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا ۞

ترجمہ:

ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کس غرض سے قرآن کو سنتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگا کرسکتے ہیں اور جب وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہیں، جب ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم صرف ایسے شخص کی پیروی کررہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ کس غرض سے قرآن کو سنتے ہیں جب وہ آپ کی طرف کان لگا کرسکتے ہیں اور جب وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہیں، جب ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم صرف ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔ دیکھیے یہ آپ کے لیے کیسی مثالیں بیان کر رہے ہیں، پس وہ ایسے گمراہ ہوگئے کہ اب (صحیح) راستہ پر نہیں آسکتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٧، ٤٨ )

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیے جانے کی تحقیق :

اس آیت میں یہ فرمایا کہ کفار یہ کہتے تھے کہ آپ پر جادو کیا ہوا ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ان کے اس قول کو گمراہی فرمایا ہے جبکہ بعض احادیث میں یہ آتا ہے کہ آپ پر جادو کیا گیا تھا اور آپ پر کئی دن اس کا اثر رہا اور بظاہر یہ احادیث قرآن مجید کی اس آیت کے معارض اور مخالف ہیں، اس وجہ سے متقدمین اور متاخرین علماء میں یہ اختلاف رہا ہے کہ آپ پر جادو کا اثر ہونا، صحیح ور برحق ہے یا غلط اور باطل ہے، ہم پہلے اس حدیث کا ذکر کریں گے اور پھر آپ پر جادو کیے جانے کے متعلق فریقین کے دلائل کا ذکر کریں گے۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیے جانے کی احادیث :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا حتی کہ آپ کا خیال یہ ہوتا کہ آپ اپنی ازاج کے پاس (ازدواجی عمل کے لیے) گئے ہیں، حالانکہ آپ نہیں گئے تھے، سفیان نے کہا اگر یہ ایسا ہو تو یہ جادو کی زبردست قسم ہے، پس آپ نے فرمایا : اے عائشہ کیا تمہیں نہیں معلوم ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے کچھ سوالات کیے تھے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے جوابات دیئے، میرے پاس دو آدمی آئے، ایک میرے سر کی جانب بیٹھ گیا اور دوسرا میرے پیروں کی جانب، جو آدمی سر کی جانب بیٹھا تھا اس نے دوسرے سے کہا اس شخص کا کیا حال ہے، اس نے کہا اس پر جادو کیا گیا ہے، اس نے پوچھا اس پر کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا لبید بن اعصم نے جو بنو زریق کے قبیلہ سے ہے اور یہود کا حلیف ہے، یہ شخص منافق تھا، اس نے پوچھا کس چیز پر جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا کنگھی میں اور ان بالوں میں جو کنگھی میں جھڑ جاتے ہیںِ ، آپ نے پوچھا وہ کس جگہ ہیں ؟ اس نے کہا نر کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں لپیٹ کر ذروان کے کنویں میں ایک پتھر کے نیچے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کنویں پر گئے ٧ حتی کہ آپ نے اس کو نکال لیا، آپ نے فرمایا یہی وہ کنواں ہے جو مجھے (خواب میں) دکھایا گیا تھا اور اس کنویں کا پانی مہندی کے تلچھٹ کی طرح تھا اور اس کے کھجور کے درخت شیطانوں کے سروں کی طرح تھے، پھر جس پر جادو کیا گیا تھا اس کو کنویں سے نکال لیا گیا، حضرت عائشہ نے کہا آپ نے (جادو کا توڑ کرنے کے لیے) کوئی نشرہ (کسی قسم کا منتر) کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی اور میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ میں کسی شخص کو برائی کی ترغیب دوں۔ (جس سے جادو کے توڑ کے لیے منتر کی ترویج ہو) (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٣٩١، ٦٠٦٣، ٥٧٦٦، ٥٧٦٥، ٥٧٦٢، ٢٢٦٨۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢١٨٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٤٨٠٤، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٢٥٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٤٥، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٥٨٣)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا حتی کہ آپ کی طرف یہ خیال ڈالا جاتا کہ آپ نے کوئی کام کرلیا ہے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا۔ حتی کہ ایک دن جب آپ میرے پاس تھے آپ نے باربار دعا کی، پھر آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں معلوم ہے میں نے اللہ سے جو سوال کیے تھے اللہ نے مجھے ان کے جواب دے دیے ہیں، میں نے پوچھا وہ کیا جواب ہیں ؟ آپ نے فرمایا میرے پا دو آدمی آئے ایک میرے سر کی جانب اور دوسرا میرے پیروں کی جانب بیٹھ گیا، پھر ان میں سے ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا اس شخص کو کیا تکلیف ہے، اس نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے، اس نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا لبید بن اعصم یہودی نے جو بنو زریق سے ہے، اس نے پوچھا کس چیز میں جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا ایک کنگھی اور اس میں لگے ہوئے بالوں میں نر کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں، اس نے کہا وہ کہاں ہے ؟ اس نے کہا وہ ذی اروان کے کنویں میں ہے، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ اس کنویں کی طرف گئے، آپ نے اس کو دیکھا اس کے پاس کھجور کے درخت تھے، پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ کی قسم اس کا پانی مہندی کی تلچھٹ کی طرح ہے اور گویا کہ اس کے درخت شیطانوں کے سر ہیں، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس کو نکال لیا، آپ نے فرمایا نہیں مجھے اللہ نے اس سے عافیت میں رکھا اور شفا دے دی اور مجھے یہ خدشہ ہے کہ اس فعل سے لوگوں میں شر پھیلے گا اور میں نے اس کنگھی کو دفن کرنے کا حکم دیا۔ اول الذکر حدیث میں کھجور کے کھوکھلے شگوفے کو کنویں سے نکالنے کا ذکر ہے اور ثانی الذکر حدیث میں اس کو کنویں سے نکالنے کا ذکر نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٦٦) یہ حدیث چھ جگہ مذکور ہے۔

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

امام رازی نے کہا ہے بعض مبتدعین نے اس حدیث کا انکار کیا ہے اور یہ زعم کیا ہے کہ یہ ماننے سے کہ آپ پر جادو کا اثر ہوا آپ کے منصب نبوت میں کمی ہوتی اور آپ کی نبوت میں شک پید اہوتا ہے اور احکام شرعیہ پر اعتماد نہیں رہتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ خیال ڈالا جائے کہ آنے والا جبرئیل ہے اور وہ حقیقت میں جبرئیل نہ ہو، یا آپ کی طرف یہ خیال ڈالا جائے کہ آپ کی طرف وحی کی گئی ہے و واقع میں آپ کی طرح وحی نہ کی گئی ہو۔

اور یہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے باطل ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی طرف سے جو چیز پہنچاتے ہیں اس کے صدق پر معجزہ کی دلالت ہے اور اس میں آپ کا معصوم ہونا دلائل سے ثابت ہے اور ان دلائل کے خلاف کسی چیز کو جائز قرار دینا باطل ہے۔ اور جن کاموں کا تعلق امور دنیا سے ہے جن کاموں کی وجہ سے آپ کو مبعوث نہیں کیا گیا اور نہ ان کاموں کی وجہ سے آپ کی رسالت کی فضیلت ہے اور وہ ایسے امور ہیں جو اکثر انسانوں کو عارض ہوتے رہتے ہیں تو یہ کچھ بعید نہیں ہے کہ آپ کی طرف بعض ایسی چیزوں کا خیال ڈالا جائے جن کی واقع میں کوئی حقیقت نہ ہو۔

بعض لوگوں نے کہا اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اپنی ازواج سے عمل ازدواج کیا ہے، حالانکہ آپ نے یہ عمل نہیں کیا ہوتا تھا، اور کبھی عام لوگوں کی طرف بھی نیند میں اس قسم کا خیال آجاتا ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی تو ہوسکتا ہے کہ بیدار میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں اس طرح کا کوئی خیال آجاتا ہو اور اس کی کوئی حقیقت نہ ہو۔

ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہوسکتا ہے کہ آپ کو یہ خیال آیا ہو کہ آپ نے کوئی کام کیا ہو اور آپ نے وہ کام نہ کیا ہو لیکن آپ نے یہ اعتقاد نہ کیا ہو کہ آپ کا تخیل صحیح ہے، آپ کا اعتقاد اور یقین ہمیشہ درست رہتا ہے لہذا ملحدین کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (یہاں تک امام رازی کی عبارت ہے)

قاضی عیاض فرماتے ہیں اس حدیث کی جو تاویل مجھ پر منکشف ہوئی وہ زیادہ ظاہر اور جلی ہے اور ملحدین کے اعتراض سے بہت دور ہے، اور وہ تاویل اسی حدیث سے مستفاد ہے اور وہ یہ ہے کہ حدیث عروہ اور مسیب سے بھی مروی ہے اور اس میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بنو زریق کے یہودیوں نے جادو کیا اور اس کو ایک کنویں میں ڈال دیا حتی کہ (اس کے اثر سے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بینائی کمزور ہوگئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی رہنمائی فرمائی اور آپ نے اس کو کنویں سے نکال لیا۔ (مصنف عبدالرزق ج ١١ ص ١٤، رقم الحدیث : ١٩٧٦٤، الطبقات الکبری ج ٢ ص ١٥٢، مطبوعہ ١٤١٨ ھ)

ایک اور حدیث میں ہے :

عطا خراسانی یحییٰ بن یعمر سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سال تک ان کے پاس نہیں جاسکے، پھر جس وقت آپ سوئے ہوئے تھے آپ کے پاس دو فرشتے آئے، ایک آپ کے سر کی جانب بیٹھ گیا اور دوسرا پیروں کی جانب، پھر ایک نے دوسرے سے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا ہے، دوسرے نے کہا ہاں ان پر ابو فلاں نے کنویں میں جادو کیا، پھر جب صبح کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے تو آپ نے اس کو نکالنے کا حکم دیا سو اس کو کنویں سے نکال لیا گیا۔ (مصنف عبدالرزاق ج ١١ ص ١٤، رقم الحدیث : ١٩٧٦٥، الطبقات الکبری ج ٢ ص ١٥٢ )

اور محمد بن سعد نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے اور ازواج کے پاس جانے ور کھانے پینے پر قادر نہ ہوئے پھر آپ کے دو فرشتے آئے اور اسی طرح مکالمہ کیا جس طرح صحیح بکاری میں ہے اور اس کے آخر میں ہے :

پھر جب وہ فرشتے چلے گئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی اور حضرت عمار کو بلا کر فرمایا تم اس کنویں پر جاؤ اس کا پانی مہندی کے رنگ کا ہوگا تم اس میں سے پتھر کے نیچے سے کھوکھلا شگوفہ نکالنا انہوں سے اس میں سے وہ شگوفہ نکالا اس میں گیارہ گرہیں تھیں، اور اس وقت یہ دو سورتیں نازل ہوئیں۔ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایک آیت پڑھتے گئے اور ایک ایک گرہ کھلتی گئی حتی کہ ساری گرہیں کھل گئیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحت مند ہوگئے اور اپنی ازواج اور کھانے پینے میں مشغول ہوگئے۔ (الطبقات الکبری ج ٢ ص ١٩٨، ١٩٩، مطبوعہ دار صادر الطبقات الکبری ج ٢ ص ١٥٢، ١٥٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٩ ھ)

پس ان روایات سے ظاہر ہوگیا کہ جادو کا اثر آپ کے جسم اور آپ کے ظاہری اعضا پر ہوا تھا، آپ کی عقل سلیم، آپ کے قلب اور آپ کے اعتقاد پر نہیں ہوا تھا اور حدیث میں جو یہ الفاظ ہیں کہ حتی کہ آپ یہ گمان کرتے تھے کہ آپ اپنی اہلیہ کے پاس جائیں گے اور آپ ان کے پاس نہیں جاتے تھے اور یہ بھی ہے کہ آپ کی طرف یہ خیال ڈالا جاتا تھا ان کا معنی یہ ہے کہ پہلے جو آپ کو ان پر قدرت تھی آپ اسی پر خوش تھے، اور جب آپ ان کے قریب جاتے تو جادو کے اثر سے آپ ان پر قادر نہ ہوتے، اور حضرت عائشہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ آپ کی طرف یہ خیال ڈالا جاتا کہ آپ نے ایک کام کیا ہے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا ہوتا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ جادو کے اثر سے آپ کی نظر میں فرق پڑگیا تھا، آپ یہ گمان فرماتے کہ آپ نے اپنی ازواج میں سے کسی کو کہیں دیکھا ہے یا کسی اور کو دیکھا ہے یا کسی اور کو کوئی کام کرتے ہوئے دیکھا ہے اور ایسا نہیں ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ جادو سے آپ کی بصر متاثر ہوگئی تھی، اس سے ظاہر ہوا کہ آپ پر جادو کا کوئی ایسا اثر نہیں ہوا تھا جس سے آپ پر اپنی رسالت میں کوئی اشتباہ ہوگیا ہو اور نہ ایسی کوئی بات ہوئی تھی جس کی وجہ سے گمراہوں کے لیے آپ کی رسالت میں کسی اعتراض یا طعن کی گنجائش ہو۔ (اکمال العلم بفوائد مسلم ج ٧ ص ٨٨۔ ٨٦، مطبوعہ دار الوفاء، ١٤١٩ ھ)

علامہ ابو العباس احمد بن عمر مالکی القرطبی المتوفی ٦٥٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

بعض کج رو وں نے اس حدیث کو نبوت میں طعن کا ذریعہ بنا لیا ہے، انہوں نے کہا جس شخص کا یہ حال ہو کہ اس نے ایک کام نہ کیا ہو اور اس کا گمان یہ ہو کہ اس نے وہ کام کرلیا ہے اس کے دعوے نبوت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض ان کی کم علمی اور کم فہمی کی وجہ سے صادر ہوا ہے، کم فہمی یہ ہے کہ حضرت عائشہ کی مراد یہ تھی کہ جماع کرنے سے پہلے آپ کا خیال یہ ہوتا تھا کہ آپ یہ کام کرلیں گے لیکن جادو کے اثر سے آپ اس عمل پر قادر نہ ہوتے تھے اور صحیح مسلم کے علاوہ دوسری کتب حدیث میں (مثلا مصنف عبدالرزاق، طبقات ابن سعد) اس کی تصریح ہے۔ اسی طرح آپ کا خیال ہوتا تھا کہ آپ کھا پی سکیں گے لیکن جادو کی وجہ سے جو مرض عارض ہوا تھا اس کی وجہ سے آپ کھانے پینے پر قادر نہیں ہتے تھے، اور ان احادیث کا معنی یہ نہیں ہے کہ جادو کی وجہ سے آپ کی عقل میں کوئی خلل ہوگیا تھا یا آپ کا کلام خلط ملط ہوگیا تھا، کیونکہ آپ کا صدق معجزہ ثابت ہے اور امور تبلیغیہ میں غلطی واقع ہونے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم رکھا ہے، اور معترض کی کم عقلی یہ ہے کہ اس کو نبوات کے احکام اور معجزہ کی دلالت کا علم نہیں ہے، گویا کہ وہ نہیں جانتے کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی بشر ہیں اور ان پر بیماری، درد، غضب، رنج اور غم، عجز، نظر لگنا، جادو کیا جانا، اور دیگر تمام عوارض بشریہ کا اس طرح طاری ہونا ممکن ہے جس طرح یہ عوارض دوسرے لوگوں پر طاری ہوتے ہیں لیکن انبیاء (علیہم السلام) اس چیز سے معصوم ہیں کہ ان پر کوئی ایسی چیز طاری ہو جو معجزہ کی دلالت کے مناقض اور منافی ہیں، مثلا اللہ تعالیٰ کی معرفت، ان کا صادق ہونا اور امور تبلیغیہ میں کسی غلطی کا واقع نہ ہونا اور اسی معنی کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے :

قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی۔ (الکہف : ١١٠) آپ کہیے کہ میں محض تمہاری مثل بشر ہوں، مجھ پر وحی کی جاتی ہے۔

بشر کی حیثیت سے آپ پر وہ تمام امور جائز ہیں جو دیگر انسانوں پر جائز ہیں، اور نبوت کے خواص کی حیثیت سے آپ عام انسانوں سے ان تمام چیزوں میں ممتاز ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے شہادت دی کہ آپ کی بصر نے نہ کجی کی اور نہ حد سے بڑھی، اور آپ نے جو مشاہدہ کیا اس میں جھوٹ نہیں کہا اور آپ کا قول اللہ کی وحی ہے جو آپ کی طرف کی جاتی ہے اور آپ اپنی خواہش سے نہیں بولتے۔ (المعجم ج ٥ ص ٥٧٠، ٥٧١، مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

علامہ یحییٰ بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ نے اس حدیث کی شرح میں اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھا بلکہ امام رازی کی وہ عبارت نقل کردی ہیں جو قاضی عیاض نے نقل کی ہیں اور اس کے بعد قاضی عیاض نے اس حدیث کی جو تاویل کی ہے اس کا بھی ذکر کردیا ہے۔

علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں :

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آپ کو خیال ہوتا کہ آپ ازواج کے پاس جائیں گے لیکن آپ اس پر قادر نہ ہوتے اور ایک اور روایت میں فرمایا آپ کا خیال ہوتا کہ آپ نے ایک کام کیا ہے، لیکن آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی بینائی میں خلل ہوگیا تھا اور آپ کو یہ گمان ہوتا کہ آپ نے اپنی ازواج میں سے کسی کو یا کسی اور شخص کو دیکھا ہے اور واقعہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا کیونکہ آپ کی بصر میں کچھ قصور ہوگیا تھا، یہ وجہ نہیں تھی کہ آپ کی بصر کے علاوہ کسی اور عضو میں کچھ کمی ہوگئی تھی، کیونکہ جادو کے اثر سے آپ کی رسالت میں کوئی خلل نہیں ہوسکتا تھا اور اس میں گمراہوں کے لیے نبوت میں طعن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٧، ص ٣٦٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٥ ھ)

ان تمام توجیہات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ پر جادو کا اثر ہوا تھا، جیسا کہ ودسرے انسانوں پر ہوتا ہے اور جادو کی تاثیر سے آپ کی مرومی قوت جاتی رہی تھی یا آپ کی نظر میں فتور ہوگیا تھا (العیاذ باللہ) غرض جادو کی تاثیر سے آپ کے ظاہری اعضاء کی کارکردگی میں فرق آگیا تھا لیکن آپ کی عقل میں اور آپ کے کلام کے صدق میں کوئی خلل واقع نہیں ہو اور معجزہ کی دلالت اور نبوت اور رسالت کا تعلق آپ کی عقل اور آپ کے کلام کے صدق سے ہے، لہذا ان احادیث سے آپ کی وحی اور رسالت پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیے جانے کے متعلق متاخرین کا نظریہ :

متاخرین میں سے علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی امام رازی کی تاویل اور توجیہ کو اختیار کیا ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات کی تائید اور توثیق کی ہے۔ (روح المعانی جز ٣٠، ص ٥٠٦۔ ٥٠٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں :

٧ ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد رو وسا یہود نے لبید بن اعصم یہودی سے کہا تو اور تیری لڑکیاں جادوگری میں یکتا ہیں، حضور پر جادو کر، لبیدن نے حضور کے ایک یہودی غلام سے حضور کی شکستہ کنگھی کے دندانے اور کچھ بال شریف حاصل کرلیے اور موم کا ایک پتلا بنایا اس میں گیارہ سوئیاں چبھوئیں، ایک تانت میں گیارہ گرہیں لگائیں، یہ سب کچھ اس پتلے میں رکھ کر، بیروان میں پانی کے نیچے ایک پتھر کے نیچے دبا دیا، اس کا حضور کے خیال شریف میں یہ اثر ہوا کہ دنیاوی کاموں میں بھول ہوگئی، چھ ماہ تک اثر رہا، پھر جبرائیل امین یہ دونوں سورتیں، سورة فقل، ناس لائے، جن میں گیارہ آیتیں ہیں اور حضور کو اس جادو کی خبر دی، حضرت علی کو اس کنویں پر بھیجا گیا آپ نے جادو کا یہ سامان پانی کی تہہ سے نکالا، حضور نے یہ سورتیں پڑھیں، ہر آیت پر ایک گرہ کھلتی تھی، تمام گرہیں کھل گئیں اور حضور کو شفا ہوگئی، اس سے چند فائدے حاصل ہوئے ایک یہ کہ جادو اور اس کی تاثیر حق ہے، دوسرے یہ کہ نبی کے جسم پر جادو کا اثر ہوتا ہے، جیسے تلورا، تیر اور نیزے کا، یہ اثر خلاف نبوت نہیں، موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں جادوگر فیل ہوئے کیونکہ وہاں جادو سے معجزہ کا مقابلہ تھا، بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال پر بھی اس جادو نے اثر کیا۔ (نور العرفان حاشیہ قرآن ص ١٦٥، مطبوعہ ادار کتب اسلامیہ گجرات، تفسیر سورة فلق)

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا بیماری کا اثر ہوجانا اس لیے کہ انبیاء (علیہم السلام) بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے۔ جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے، بخار اور درد ہوسکتا ہے، ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے، کیونکہ وہ بھی خاص اسباب طبعیہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے اور حدیث میں ثابت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سحر کا اثر ہوگیا تھا، آخری آیت میں کفار نے جو آپ کو مسحور کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی اس کا حاصل وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی مراد درحقیقت مسحور کہنے سے مجنون کہنا تھا، اس کی تردید قرآن نے فرمائی ہے اس لیے حدیث سحر اس کے خلاف اور متعارض نہیں ہے۔ (معارف القرآن ج ٥ ص ٤٩٠، ٤٩١، مطبوعہ ادارۃ القلم کراچی، اکتوبر ١٩٩١ ء)

بعض متقدمین اور متاخرین علماء نے ان روایات کا انکار کیا ہے ور یہ کہا ہے کہ نبی پر جادو کا اثر نہیں ہوسکتا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کے اثر کا انکار کرنے والے علماء :

امام ابوبکر احمد بن علی رزای جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں :

بعض لوگوں نے یہ زعم کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی جادو کا عمل کی گیا اور آپ پر جادو کا اثر ہوا حتی کہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ آپ نے کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا تھا، اور ایک یہودی عورت نے کھجور کے کھوکھلے شگوفے میں اور کنگھی کے دندانوں میں اور کنگھی میں لگے ہوئے بالوں میں عمل کیا تھا، حتی کہ آپ کے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے بتایا کہ آپ پر ایک عورت نے کنگھی میں جادو کیا ہے جو راعوفہ کنویں کے نیچے ہے، اس کنگھی کو نکال لیا گیا اور آپ سے جادو کا اثر جاتا رہا، اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے اس دعوی کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا ہے :

اذ یقول الظالمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا۔ (بنی اسرائیل : ٤٧) ظالم یہ کہتے ہیں کہ تم صرف ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جس پر جادو کیا ہوا ہے۔

اور اس قسم کی احادیث ملحدین کی گھڑی ہوئی ہیں، جنہوں نے دین کو کھیل بنا لیا ہے اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات کو باطل کرنے کی سعی میں لگے رہتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ انبیاء علہیہم السلام کے معجزات اور جادوگروں کے افعال میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ ایک ہی قسم میں سے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولا یفلح الساحر حیث اتی۔ (طہ : ٦٩) اور جادوگر جہاں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ جادگروں کی تکذیب کرتا ہے اور یہ لوگ جادوگروں کی تصدیق کرتے ہیں، اور ہوسکتا ہے کہ ایک یہودی عورت نے اپنی جہالت سے یہ کام کیا اور یہ گمان کیا ہو اور اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قصد کیا ہو اور یہ گمان کیا ہو کہ جادو کا اجسام میں اثر ہوتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی اثر ہوگا، اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو جادو کی جگہ پر مطلع فرما دیا اور اس عورت کی جہالت اور اس کے کرتوتوں کو اور اس کی توقعات کو ظاہر فرما دیا تاکہ یہ واقعہ آپ کی نبوت کے دلائل سے پوجائے اور ایسا نہیں ہوا کہ اس جادو کا آپ پر اثر ہوا ہو، اور اس سے آپ کو ضرر پہنچا ہو، اور کسی راوی نے یہ نہیں کہا کہ آپ پر معاملات مشتبہ ہوجاتے تھے ان الفاظ کا حدیث میں اضافہ کیا گیا ہے اور ان کی کوئی اصل نہیں ہے اور معجزات اور جادو میں فرق ہوتا ہے کہ معجزات حقائق پر مبنی ہوتے ہیں اور ان کا بطل بھی ان کے ظاہر کی طرح ہوتا ہے، اور جادو میں باطن ظاہر کی طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ باطن میں کسی چالاکی اور شعبدہ بازی پر مبنی ہوتا ہے، اور جادوگر اپنی قوت مخیلہ سے کام لیتا ہے اور انسان کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ حقیقت نہیں ہوتی بلکہ جادوگر کی قوت مخیلہ کی کارستانی ہوتی ہے۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٤٩، مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور، ١٤٠٠ ھ)

متاخرین سے سید محمد قطب شہید متوفی ١٣٨٥ ھ لکھتے ہیں :

یہ روایات فعل اور قول میں عصمت نبویہ کی اصل کے مخالف ہیں اور جبکہ اعتقاد یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال میں سے ہر فعل اور آپ کے اقوال میں سے ہر قول سنت اور شریعت ہے اور یہ روایات اس اعتقاد کے مخالف ہیں اسی طرح یہ روایات قرآن مجید کی نفی اور تکذیب کرتی ہیں کیونکہ قرآن مجید نے کفار کے اس قول کو باطل قرار دیا ہے، کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیا گیا ہے اور اس کو ظلم اور گمراہی فرمایا ہے اور ان روایات میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آپ پر جادو کیا گیا ہے اس وجہ سے ہم ان روایات کو مستبعد سمجھتے ہیں اور اخبار احاد کا عقائد میں اعتبار نہیں کیا جاتا، عقائد میں صرف قرآن عظیم کی طرف رجوع کیا جاتا ہے اور احادیث متواترہ کی طرف، اور عقائد اور اصول میں احادیث کو قبول کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ متواتر ہوں اور یہ روایات متواتر نہیں ہیں، نیز ان روایات کے مطابق یہ واقعہ مدینہ منورہ میں ہوا ہے ور سورة الفلق اور سورة لناس مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں اور یہ ایک اور وجہ ہے جو ان روایات کی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔ (فی ظلال القرآن جز ٣٠ ص ٢٩٤، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٣٨٦ ھ)

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ ان روایات کے متعلق لکھتے ہیں :

معتزلہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیے جانے کا کئی وجوہ سے انکار کیا ہے :

١۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولا یفلح الساحر حیث اتی۔ (طہ : ٦٩) جادوگر جہاں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصف میں یہ فرمایا ہے :

وقال الظالمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا۔ (الفرقان : ٨) اور ظالموں نے کہا تم لوگ تو صرف جادو کیے ہوئے شخص کی پیروی کرتے ہو۔

اور اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہوجاتا تو کفار کے اس قول کی مذمت نہ کی جاتی کہ آپ پر جادو کیا ہوا ہے۔

٣۔ اگر جادو سے یہ کام ممکن ہوتا تو پھر معجزہ جازہ سے ممتاز نہ ہوتا، پھر انہوں نے کہا یہ دلائل یقینیہ ہیں اور جن روایات کا تم نے ذکر کیا ہے وہ سب اخبار احاد ہیں جو ان دلائل قطعیہ سے معارضہ کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٦٢٦، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

تفسیر کبیر میں امام رازی کا طریقہ ہے کہ جہاں ان کو معتزلہ کے دلائل سے اختلاف ہوتا ہے وہاں ان کے دلائل کا جواب دیتے ہیں لیکن یہاں انہوں نے ان کے دلائل کا جواب ذکر نہیں کیا اس سے معلوم ہوا کہ امام رازی ان دلائل سے متفق ہیں اور ان کا بھی یہی نظریہ ہے کہ آپ پر جادو کا اثر نہیں ہوسکتا۔ 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کیے جانے کے متعلق مصنف کا نظریہ :

ہمارے نزدیک حسب ذیل وجوہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر کیے جانے کی روایات صحیح نہیں ہیں :

١۔ بعض روایات میں ہے کہ جس کنگھی اور جن بالوں پر جادو کیا گیا تھا ان کو کنویں سے نکال لیا گیا تھا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٧٦٥ )

٢۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے اس کو کنویں سے نہیں نکالا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدی : ٥٧٦٦ )

٣۔ بعض روایات میں ہے کہ جادو کے اثر سے آپ کو یہ خیال ہو تاکہ آپ نے کوئی کام کرلیا ہے، حالانکہ آپ نے وہ کام نہیں کیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٦٥ )

٤۔ بعض احادیث میں ہے کہ آپ کی نظر متاثر ہوگئی تھی، اور آپ دیکھتے کچھ تھے اور آپ کو نظر کچھ آتا تھا۔ (طبقات کبری ج ٢ ص ١٥٢) 

٥۔ بعض احادیث میں ہے کہ جادو کے اثر سے آپ کی مردانہ قوت متاثر ہوگئی یحییٰ بن یعمر کی روایت میں ہے آپ ایک سال تک حضرت عائشہ سے رکے رہے یعنی مقاربت نہیں کرسکے۔ (العیاذ باللہ) (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٩٧٦٥ )

٦۔ بعض احادیث میں ہے کہ کنویں سے جب شگوفہ نکالا گیا تو اس میں گیارہ گرہیں تھیں اس وقت آپ پر سورة فلق اور سورة ناس نازل ہوئیں آپ ان میں سے ایک ایک آیت پڑھتے جاتے تھے اور گرہیں کھلتی جاتی تھیں۔ (طبقات کبری ج ٢ ص ١٥٣، دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

ایک تعارض تو یہ ہے کہ اور کسی روایت میں ان آیتوں سے گرہیں کھلنے کا زکر نہیں ہے۔ اور دوسرا قوی اعتراض یہ ہے کہ ان کذابین کو یہ خیال نہیں رہا کہ یہ واقعہ مدینہ کا ہے اور ان سورتوں کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا تھا۔ 

٧۔ جو خبر واحد صحیح ہو وہ بھی قرآن مجید کے مزاحم نہیں ہوسکتی، جبکہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، حدیث صحیح وہ ہوتی ہے جو غیر معلل ہو اور یہ حدیث معلل ہے کیونکہ اس میں علل خفیہ قادحہ ہیں، یہ حدیث منصب نبوت کے منافی ہے۔

٩۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ جادو کے اثر سے جماع پر قادر نہ ہوئے اور ایک سال تک حضرت عائشہ سے رکے رہے اور نامرد ہونا ایسی بیماری ہے جو لوگوں میں معیوب سمجھی جاتی ہے، نیز اس میں مذکور ہے آپ کی نظر میں فرق آگیا تھا اور بھینکا ہوتا لوگوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے اور نامردی اور بھینگے پن سے لوگ عار محسوس کرتے ہیں اور نبی کی شرائط میں سے یہ ہے کہ اس کو کوئی ایسی بیماری نہ ہو جو لوگوں میں معیوب اور باعث عار سمجھی جاتی ہو اور لوگوں کو اس بیماری سے گھن آتی ہو۔

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں :

نبوت کی شرائط یہ ہیں : وہ مرد ہو اس کی عقل کامل ہو، اس کی رائے قوی ہو وہ ان چیزوں سے سلامت ہو جن کو لوگ برا جانتے ہیں، مثلا اس کے آبا و اجدا اور زنانہ کرتے ہوں اور اس کے سلسلہ نسب میں مائیں بدکار نہ ہوں اور وہ ایسی بیماریوں سے محفوظ ہو جن کو لوگ برا جانتے ہیں مثلا برص، اور جذام وغٰرہ اور کم تر پیشوں سے اور ہر اس چیز سے جو مروت اور حکمت بعثت میں مخل ہو۔ (شرح المقاصد، ج ٥ ص ٦١، مطبوعہ منشورات الرضی ایران، ١٤٠٩ ھ)

علامہ محمد احمد السفارینی متوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں :

نبوت کی شرائط میں سے یہ ہے کہ نبی ہر اس چیز سے سلامت ہو جس سے لوگ متنفر ہوں جیسے ماں باپ کی بدکاری اور ایسے عیوب جن سے لوگ نفرت کرتے ہوں جیسے برص ور جذام وغیرہ۔ (لوامع الانوار ج ٢ ص ٢٦٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤١١ ھ)

اس پر دلیل قرآن مجید کی یہ آیتیں ہیں :

وانھم عندنا لمن المصطفین الاخیار۔ (ص : ٤٧) بیشک وہ سب (نبی) ہمارے نزدیک پسندیدہ اور بہترین لوگ ہیں۔

ان اللہ اصطفی آدم ونوحا وال ابراہیم وال عمران علی العالمین۔ (آل عمران : ٣٣) بیشک اللہ نے آدم کو اور نوح کو اور آپ ابراہیم کو اور آل عمران کو تمام لوگوں سے پسندیدہ بنایا۔

اور جس شخص کو ایسی بیماری ہوجائے جس سے ایک سال تک وہ اپنی ازواج سے مقاربت نہ کرسکے اور جس کو صحیح نظر نہ آئے وہ تمام لوگوں سے پسندیدہ نہیں ہوسکتا، سو اس قسم کی وضعی روایت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی بنیاد ہی منہدم کردیتی ہیں۔ 

١٠۔ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ آپ پر جادو کیا گیا تھا تو جادو گر آپ کو نقصان پہنچانے میں اور آپ کے حواس اور قوی معطل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ولا یفلح الساحر حیث اتی : طہ : ٦٩) اور جادوگر کہیں سے بھی آئے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔

ان عبادی لیس لک علیھم سلطان الا من اتبعک من الغوین۔ (الحجر : ٤٢) بیشک میرے (مقبول) بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا سو ان کے جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں گے۔

١١۔ یہ درست ہے کہ یہ روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں، اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی عظمت اور حرمت ہمارے دلوں میں پیوست ہے، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور حرمت ہمارے دلوں میں ان سے کہیں زیادہ ہے بلکہ تمام مخلوق سے زیادہ ہے، یہ احادیث اضطراب اور تعارض سے قطع نظر معلل ہیں ان میں متعدد علل خفیہ قادحہ ہیں جن میں مخالف قرآن اور منافی عظمت رسول ہونا سب سے زیادہ نمایاں ہے، ہمارے لیے یہ زیادہ آسان ہے کہ ہم ایک سال یا چھ ماہ تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کا اثر ہونے کے بجائے یہ مان لیں کہ اس حدیث کی صحت میں امام بخاری سے چوک ہوگئی، اور اس حدیث میں امام بخاری اور مسلم صحت حدیث میں اپنے مقرر کردہ معیار کو برقرار نہیں رکھ سکے، ہوسکتا ہے کہ یہ حدیث روایتا صحیح ہو، لیکن یہ حدیث درایتا صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے ہم لکھ چکے ہیں کہ امام بخاری اور امام مسلم نے یہ روایت کیا ہے کہ جب قریش نے کعبہ کی تعمیر کی تو عباس اور حضور بھی کندھے پر پتھر رکھ کر لارہے تھے عباس نے آپ کا تہبند اتار کر آپ کے کندھے پر رکھ دیا تاکہ پتھر کندھے میں نہ چبھے۔ آپ بےلباس ہوگئے اور بےہوش ہو کر گرگئے، اور ہوش میں آکر فرمایا میرا تہبند، یہ اعلان نبوت سے پانچ سال قبل کا واقعہ ہے اس وقت آپ کی عمر شریف ٣٥ سال تھی، ہم نے اس جگہ بھی لکھا تھا یہ حدیث معلل ہے اور درایتا صحیح نہیں ہے، کسی کم عمر کے بچے کے متعلق تو یہ بات متصور ہوسکتی ہے اپنا تہبند کندھے پر رکھ لے، لیکن ٣٥ سال کے مرد کے لیے یہ قرین قیاس نہیں ہے اور اس عمر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بےلباس ہوجانا ہمارے نزدیک لائق قبول نہیں ہے، اور یہ ناموس رسالت کے منافی ہے اور ہر ایسی حدیث لائق قبول نہیں ہے اس کی مفصل بحث کے لیے دیکھیے تبیان القرآن ج ٤ ص ١٠٥، ١٠١)

١٢۔ اس حدیث کی زیادہ سے زیادہ تاویل یہ ہوسکتی ہے کہ جو علامہ ابوبکر جصاص نے کی ہے کہ یہودیوں نے اپنے منصوبہ کے مطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جادو کرایا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبہ کو ناکام کردیا اور آپ پر جادو کا کوئی اثر نہیں ہوا اور جن احادیث میں یہ جملے مزکور ہیں کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ میں نے یہ بات کہہ دی ہے حالانکہ آپ نے نہیں کہی تھی یا آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے یہ کام کرلیا ہے اور آپ نے وہ کام نہیں کیا تھا اسی طرح اور دوسری خرافات بیا کیں ہیں یہ سب کسی بےدین راوی کا اضافہ ہے، اور حضرت ام المومنین پر بہتان ہے، یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے اور اس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبلیغی، تعلیمی اور فتوحات کے اعتبار سے بہت مصروف سال گزارا ہے اگر جادو کے اثر سے آپ کے حواس اور قوی ایک سال تک معطل رہے ہوتے تو اس سال یہ تمام کام کس طرح انجام دیئے جاسکتے تھے، حدیث کی صحت کی تحقیق کرنے میں امام بخاری اور امام مسلم کی شخصیت مسلم ہے لیکن وہ بہرحال انسان ہیں نبی یا فرشتے نہیں ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ راویوں کی چھان پھٹک میں بعض اوقات ان سے کوئی سہو ہوگیا ہو، اور کسی ایک آدھ جگہ سہو ہوجانے سے ان کی عظمت اور مہارت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 47