أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ جَعَلۡنَا بَيۡنَكَ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسۡتُوۡرًا۞

ترجمہ:

اور جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٥ )

آپ کے قرآن پڑھتے وقت کفار کی آنکھوں پر پردہ ڈالنا :

حجاب مستور کی دو تفسیریں ہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ مستور بمعنی ساتر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں پر ایسا حجاب ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ نہیں سکتے تھے، اور نہ دیکھنے کی وجہ سے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا نہیں پہنچا سکتے تھے۔

امام ابو محمد عبدا الملک بن ہشام المعافری المتوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں :

ابو لہب کی بیوی ام جمیل کو جب معلوم ہوا کہ اس کی اور اس کے خاوند کی مذمت میں قرآن مجید کی آیتیں نازل ہوئیں ہیں تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئی اس وقت آپ حرم کعبہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق تھے، ام جمیل کے ہاتھ میں ایک بڑا پتھر تھا، جب وہ آپ کے اور حضرت ابوبکر کے پاس کھڑی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے سے اس کی بصارت کو سلب کرلیا اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ دیکھ سکی تو وہ کہنے لگی۔ اے ابوبکر ! تمہارے صاحب کہاں ہیں ؟ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ وہ میری ہجو کرتے ہیں قسم اللہ کی اگر وہ مجھے مل جائیں تو میں پتھر ان کے منہ پر ماروں گی، سنو خدا کی قسم میں شاعرہ ہوں پھر اس نے یہ اشعار کہے :

مذمما عصینا وامرہ ابنیا ودینہ قلینا۔ مذمت کیے ہوئے شخص کا کہنا ہم نے نہیں مانا اس کے حکم کا ہم نے انکار کیا اور اسکے دین کو ہم نے اکھاڑ پھینکا۔ 

پھر وہ واپس چلی گئی، حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اس کو دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا اس نے مجھے نہیں دیکھا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے اس کی بصارت کو سلب کرلیا تھا۔

ابن اسحاق نے کہا قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام مذمم (مذمت کیا ہوا) رکھ دیا تھا پھر وہ آپ کو برا کہتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم اس پر تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کے سب و شتم اور ان کی لعنت کو مجھ سے کس طرح دور کردیا ہے وہ مذمم کو سب و شتم اور لعنت کرتے ہیں اور میں محمد ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٣٣٣، مسند حمیدی رقم الحدیث : ١ٍ ١٣٦، مسند احمد ج ٢ ص ٢٤٤، قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٨١١، سنن کبری للبیہقی ج ٨، ص ٢٥٢) (السیرۃ النبویہ مع الروض الانف ج ٢ ص ١٤٠، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

یہ آیت ان کافروں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس وقت ایذا پہنچاتے تھے جب آپ قرآن کریم پڑھتے تھے اور وہ ابو سفیان، النضر بن الحارث، ابو جہل اور بو لہب کی بیوی ام جمیل تھے تو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھنے سے ان کی بصارت کو اس وقت سلب کرلیا جب آپ قرآن پڑھتے تھے وہ آپ کے پاس آتے، آپ کے پاس سے گزرتے اور آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔ (زاد المسیر، ج ٥ ص ٤١، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

آپ کے قرآن پڑھتے وقت کفار کے دلوں پر پردہ ڈالنا :

اس آیت کی دوسری تفسیر وہ ہے جس کو امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے ذکر کیا وہ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محمد ! جب آپ ان مشرکین پر قرآن مجید پڑھیں جو بعثت کو نہیں مانتے اور نہ ثواب اور عذاب کا قرار کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان ایک پردہ ڈال دیتے ہیں جو ان کے دلوں پر حجاب بن جاتا ہے کہ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں وہ اس کو سمجھ نہ سکیں اور نہ اس سے نفع اٹھا سکیں یہ ہماری طرف سے ان کے کفر کی سزا ہے، اور حجاب مستور سے مراد ہے حجاب ساتر۔ قتادہ نے کہا حجاب مستور ان کے دلوں پر ایک ڈاٹ ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن کو سمجھ سکتے ہیں نہ اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ (جامع البیان جز ١٥، ص ١١٧، ١١٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 45