أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡنَا لَـكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ‌ ؕ وَمَا جَعَلۡنَا الرُّءۡيَا الَّتِىۡۤ اَرَيۡنٰكَ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الۡمَلۡعُوۡنَةَ فِى الۡقُرۡاٰنِ‌ ؕ وَنُخَوِّفُهُمۡۙ فَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا طُغۡيَانًا كَبِيۡرًا۞

ترجمہ:

اور جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ آپ کے رب نے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور ہم نے آپ کو (شب معراج) جو جلوہ دکھایا تھا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا اور اسی طرح وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈرا رہے ہیں، سو ہمارا ڈرانا تو صرف ان کی سرکشی کو ہی بہت بڑھاوا دے رہا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ آپ کے رب نے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور ہم نے آپ کو (شب معراج) جو جلوہ دکھایا تھا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا اور اسی طرح وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انہیں ڈرا رہے ہیں، سو ہمارا ڈرانا تو صرف ان کی سرکشی کو ہی بہت بڑھا وا دے رہا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٠ )

اللہ تعالیٰ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت اور نصرت فرمانا :

جب کفار مکہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑے بڑے فرمائشی معجزات کا مطالبہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ ان معجزات کو ظاہر کرنے میں مصلحت نہیں ہے تو اس سے کفار کو یہ جرات ہوئی کہ وہ آپ کی رسالت میں طعن کریں، سو انہوں نے کہا اگر آپ اللہ کی طرف سے رسول برحق ہوتے تو ضرور ہمارے فرمائشی معجزات کو لے آتے، جیسے حضرت موسیٰ اور دیگر انبیاء ایسے معجزات لاتے رہے ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تائید اور نصرت کے لیے فرمایا اور جب ہم نے آپ سے فرمایا کہ آپ کے رب نے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور اس کی تفسیر میں دو قول ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت تمام لوگوں کو محیط ہے اور سب اس کے قبضہ وقدرت میں ہیں اور جب ایسا ہے تو آپ کے مخالفین کسی ایسے اقدام پر قادر نہیں ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کی قضا اور اس کی تقدیر کے خلاف ہو، اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ہم آپ کی نصرت کریں گے اور آپ کو قوت دیں گے حتی کہ آپ ہمارے پیغام کی تبلیغ کریں اور ہمارے دین کو غلبہ حاصل ہو، حسن نے کہا وہ آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے تھے کہ اس ارادہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ حائل ہوگیا اس نے فرمایا :

واللہ یعصمک من الناس۔ (المائدہ : ٦٧) اور اللہ آپ کو لوگوں سے محفوظ رکھے گا۔

٢۔ اس آیت میں فرمایا ہے آپ کے رب نے سب کا احاطہ کیا ہوا ہے اس سے مراد ہے آپ کے رب نے اہل مکہ کا احاطہ کیا ہوا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اہل مکہ پر غلبہ عطا فرمائے گا اور ان کو مغلوب اور مقہور کردے گا، اور آپ کی حکومت ان پر قائم کردے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

قل للذین کفروا ستغلبون وتحشرون الی جھنم۔ (آل عمران : ١٢) آپ کافروں سے کہیے کہ تم عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور دوزخ کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔

شب معراب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کچھ دیکھا وہ خواب نہیں تھا :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم نے آپ کو شب معارج جو جلوی دکھایا تھا وہ صرف لوگوں کی آزمائش کے لیے تھا۔ اس فقرے کے متعدد محامل ہیں، صحیح محمل وہ ہے، جس کے موافق ہم نے ترجمہ کیا۔

اس آیت میں رویا کا لفظ ہے، بعض علماء نے کہا کہ رویا کا معنی خواب ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ معراج کی شب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جو کچھ دکھایا گیا وہ سب خواب کا واقعہ ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خواب میں معراج ہوئی ہے بیداری میں نہیں ہوئی، اس لیے پہلے ہم رویا کے معنی کی تحقیق کرتے ہیں :

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

رویا کے معنی میں اختلاف ہے اکثریت نے یہ کہا ہے کہ لغت کے اعتبار سے رویت اور رویا میں کوئی فرق نہیں ہے کہا جاتا ہے رایت بعینی رویتہ و رویا، میں نے اپنی دونوں آنکوں سے دیکھا، دیکھنا اور کم لوگوں نے یہ کہا کہ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ معراج کا پورا قصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں دیکھا تھا اور یہ قول ضعیف اور باطل ہے، اور اس مشاہدہ کے آزمائش ہونے کا معنی یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معراج کا واقعہ لوگوں کے سامنے بیان کیا تو مشرکین نے بڑی شدومد سے انکار کیا اور جو مسلمان تھے وہ اپنے ایمان پر قائم رہے بلکہ ان کا ایمان اور مضبوط ہوگیا، اگر یہ واقعہ صرف خواب کا ہوتا تو پھر کسی کو اس کے انکار کرنے کی کیا ضرورت تھی اور یہ واقعہ لوگوں کی آزمائش کس طرح ہوتا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٣١١، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے یہ رویا آنکھ سے تھا جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آنکھ سے دکھایا تھا یہ خواب کا واقعہ نہیں ہے۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦١٧، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١ٍ ٣٤)

حضرت ابوبکر صدیق سے شب معراج کی صبح کہا گیا کہ تمہارے پیغمبر کا یہ کہنا ہے کہ وہ گزشتہ شب بیت المقدس سے ہو کر آئے ہیں، حضرت ابوبکر نے کہا اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو سچ کہا ہے ان سے کہا گیا کہ آپ ان سے سننے سے پہلے تصدیق کررہے ہیں، حضرت ابوبکر نے کہا تمہاری عقلیں کہاں ہیں، میں تو آسمان کی خبروں میں ان کی تصدیق کرتا ہوں تو بیت المقدس کی خبر میں ان کی تصدیق کیوں نہیں کروں گا آسمان تو بیت المقدس سے بہت دور ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠، ص ٢٥٥، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

شجرۃ الزقوم کا معنی :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، یعنی وہ درخت بھی آزمائش ہے، کیونکہ ابو جہل نے مسلمانوں سے کہا تمہارے پیغمبر کہتے ہیں دوزخ ایسی آگ ہے جو پتھروں کو بھی جلا دیتی ہے :

وقودھا الناس والحجارۃ۔ (التحریم : ٦) دوزخ کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

اور پھر وہ کہتے ہیں کہ دوزخ میں ایک درخت ہے اور آگ تو درخت کو جلا دیتی ہے تو دوزخ میں درخت کیسے پیدا ہوگا جب ان کو تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

ان جعلنھا فتنۃ للظالمین۔ (الصافات : ٦٣) بیشک ہم نے زقوم کو ظالموں کے لیے آزمائش بنادیا ہے۔

قرآن مجید میں زقوم کے لیے فرمایا ہے بیشک وہ درخت جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ (الصافات : ٦٤) جس کے خوشے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوتے ہیں، دوزخی اس درخت سے کھائیں گے اور اسی سے پیٹوں کو بھریں گے۔ (الصافات : ٦٥، ٦٦ )

زقوم کا معنی ہے تھوہر کا درخت، یہ لفظ تزقم سے بنا ہے اس کا معنی ہے بدبودار اور مکروہ چیز کا نگلنا، اس درخت کے پھل کو کھانا دوزخیوں کے لیے سخت ناگوار ہوگا، بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ کوئی دنیاوی درخت نہیں ہے اہل دنیا کے لیے یہ غیر معروف ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ (فتح القدیر ج ٤ ص ٥٢٦، مطبوعہ دار الوفاء بیروت، ١٤١٨ ھ)

امام ابن ابی شیبہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا اگر دوزخ کے زقوم کا ایک قطرہ بھی زمین والوں پر نازل کیا جائے تو ان کی زندگیاں خراب اور فاسد ہوجائیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٤١٣٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

شجرۃ الزقوم کو معلون فرمانے کی توجیہ :

اس آیت میں فرمایا ہے اس درخت پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے حالانکہ قرآن میں اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے، اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :

١۔ اس سے مراد ہے دوزخ میں اس درخت کو کھاتے وقت کفار اس پر لعنت کریں گے۔

٢۔ ہر وہ طعام جس کا ذائقہ مکروہ ہو اور وہ نقصان دہ ہو اس کو عرب ملعون کہتے ہیں اور سورة الدخان اور الصافات میں اس کا بد ذائقہ اور مکروہ ہونا بیان فرمایا ہے۔

٣۔ ملعون کا معنی ہے دور کیا ہوا اور قرآن مجید میں اس درخت کا اس طرح ذکر ہے کہ یہ تمام اچھی صفات سے دور کیا ہوا ہے۔

٤۔ ملعون کا معنی ہے مذمت کیا ہوا اور قرآن مجید میں اس کی مذمت کی گئی ہے۔

٥۔ ملعون سے مراد ہے اس کے کھانے والے ملعون ہیں۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٥٥، تفسیر کبیر ج ٧، ص ٢٦٢، ملخصا)

اس کے بعد فرمایا ہم ان کو درخت زقوم سے ڈراتے ہیں اور ہمارا ڈرانا تو ان میں صرف بڑے طغیان کو بڑھا رہا ہے، طغیان کا معنی ہم البقرہ : ١٥ میں زکر کرچکے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 60