أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ مِّنۡ قَرۡيَةٍ اِلَّا نَحۡنُ مُهۡلِكُوۡهَا قَبۡلَ يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ اَوۡ مُعَذِّبُوۡهَا عَذَابًا شَدِيۡدًا‌ ؕ كَانَ ذٰ لِكَ فِى الۡـكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم ہر بستی کو قیامت کے دن سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اس کو سخت عذاب دینے والے ہیں، یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم ہر بستی کو قیامت کے دن سے پہلے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اس کو سخت عذاب دینے والے ہیں، یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٥٨ )

کھلم کھلا سود کھانا اور فحش کام کرنا نزول عذاب کا موجب ہے :

قتادہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور تقدیر سے ہے جس سے فرار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، یا تو اللہ تعالیٰ اس بستی کے لوگوں کی روحوں کو قبض کر کے ان کو ہلاک کردے یا اس بستی پر عذاب نازل فرمائے گا جس سے وہ بستی نیست و نابود ہوجائے گی۔ (مومنین کو موت سے ہلاک کرے گا اور سرکش کافروں کو عذاب سے)

عبدالرحمن بن عبداللہ نے کہا جب کسی بستی میں علی الاعلان زنا ہوگا اور سود کھایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس بستی کو ہلاک کرنے کی اجازت دے دے گا۔ (جامع البیان ج ١٥، ص ١٣٣، ١٣٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے :

وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا۔ وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظالمون۔ (القصص : ٥٩) آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان بستیوں کے مرکز میں کسی رسول کو نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیات کی تلاوت کرے، اور ہم اس وقت تک کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتے، جب تک اس بستی کے رہنے والے ظلم پر کمر نہ باندھ لیں۔

لہذا اس آیت میں ایسی بستیاں مراد ہیں جن کے رہنے والے کفر اور فحش گناہوں پر اصرار کرنے والے ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 58