أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرَبُّكَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَلَقَدۡ فَضَّلۡنَا بَعۡضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰى بَعۡضٍ‌ وَّاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور آپ کا رب ان کو خوب جاننے والا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں، اور ہم نے بعض نبیوں کو دوسرے بعض نبیوں پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔

تفسیر:

بعض نبیوں کی بعض نبیوں پر فضیلت :

اس کے بعد فرمایا : اور آپ کا رب ان کو خوب جاننے والا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اور ہم نے بعض نبیوں کو دوسرے بعض نبیوں پر فضیلت دی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ (بنی اسرائیل : ٥٥ )

یعنی ہمارا علم صرف تم میں اور تمہارے احوال میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہمارا علم تمام موجودات اور معدومات اور تمام زمینوں اور آسمانوں کو محیط ہے اور وہ ہر ہر شخص کو تفصیلا جانتا ہے اور اچائیوں اور برائیوں میں سے کیا چیز اس کے لائق ہے اور کیا نہیں، اسی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دی، حضرت داؤد کو زبور اور حضرت عیسیٰ کو انجیل عنایت کی اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن عطا فرمایا، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام نبیوں اور رسولوں سے افضل ہیں، اور آپ کے افضل الرسل ہونے پر ہم نے البقرہ : ٢٥٣ میں تفصیل سے لکھ دیا ہے۔

حضرت داؤد (علیہ السلام) کے خصوصیت کے ساتھ ذکر کی توجیہ :

اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے اس کی تین وجہیں ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ زبور میں یہ لکھا ہوا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں اور آپ کی امت تمام امتوں سے افضل ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون۔ (الانبیاء : ١٠٥) ہم زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے (نیک بدنوں سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت ہے)

دوسری وجہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ اہل کتاب خصوصا یہودیوں کو بہت مانتے تھے اور اس آیت میں یہود کا رد ہے کیونکہ یہود کہتے تھے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور تورات کے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی حالانکہ حضرت موسیٰ کے بعد حضرت داؤد آئے اور تورات کے بعد زبور آئی، لہذا ان کو چاہیے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور نزول قرآن کا انکار نہ کریں، تیسری وجہ یہ ہے کہ کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرتے تھے کہ آپ دنیاوی امور کھانے پینے اور بال بچوں میں مشغول رہتے ہیں تو آپ نبی کیسے ہوسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا داؤد بھی تو نبی تھے حالانکہ وہ بادشاہ تھے اور بادشاہ سے زیادہ دنیاوی امور میں کون مشغول ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی امور میں مشغول ہونا نبوت کے منافی نہیں ہے۔

نوٹ : زبور میں حلال اور حرام اور فرائض اور حدود کا ذکر نہیں ہے، اس میں صرف دعائیں ہیں اور اللہ کی تمجید اور اس کی زبرگی اور بڑائی کا ذکر ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد پر (زبور کا) پڑھنا آسان کردیا تھا وہ اپنی سواری پر زین ڈالنے کا حکم دیتے اور زین رکھے جانے سے پہلے اس (زبور) کو پڑھ لیتے اور صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤١٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٨١٤٥، عالم الکتب)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 55