أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِيۡدًا۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو پھر ہم کو ازسر نو بنا کر کھڑرا کردیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں ہوجائیں گے اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو پھر ہم کو از سر نو بنا کر کھڑرا کردیا جائے گا۔ آپ کہے تم پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں بہت سخت وہ تو عنقریب وہ کہیں گے ہم کو دوبارہ کون پیدا کرے گا ؟ آپ کہیئے کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا، اس پر وہ آپ کی طرف (انکارا) سر ہلائیں گے اور کہیں گے تو یہ کب ہوگا ؟ آپ کہیے کیا تعجب ہے کہ وہ وقت قریب آپہنچا ہو۔ جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی عمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور تم یہ گمان کرو گے کہ تم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے۔ (بنی اسرائیل : ٥٢۔ ٤٩ )

مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر دلائل، قبروں سے نکلنے کی کیفیت اور آپ کی نبوت کی صداقت :

قرآن مجید کے چار اہم موضوع ہیں : اللہ تعالیٰ کی توحید، رسالت، قیامت اور مرنے کے بعد اٹھنا اور تقدیر۔ آیت نمبر ٤١، ٤٢ میں توحید کا بیان ہے۔ فرمایا : آپ کہیے اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ اب تک عرش والے تک کوئی راہ ڈھونڈ چکے ہوتے۔ الآیات۔ اور آیت ٤٨۔ ٤٥ میں رسالت کا بیان ہے۔ فرمایا : اور جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان پوشیدہ حجاب ڈال دیتے ہیں، الآیات۔ اور آیت ٥٢۔ ٤٩ تک مرنے کے بعد اٹھنے کا بیان ہے۔

اس آیت میں رفاتا کا لفظ ہے اس کا معنی ہے کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے چور چور کردیا جائے بھوسے کو بھی رفات کہتے ہیں۔

مشرکین مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا انکار کرتے تھے، اور ان کا شبہ یہ تھا کہ انسان کی موت کے کچھ عرسہ بعد اس کا جسم گل سڑ جاتا ہے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر ٹوٹ جاتی ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں، پھر ایک مردہ کے ذرات دوسرے مردہ کے ذرات کے ساتھ مخلوط ہوجاتے ہیں، پھر مرور زمانہ انقلابات سے یہ ذرات فضا میں بکھر جاتے ہیں تو قیامت کے دن یہ ذرات کیسے مجتمع ہوں گے اور ایک دوسرے سے کیسے متمیز اور ممتاز ہوں گے، پھر ان منتشر ذرات سے دوبارہ کس طرح جسم بنایا جائے گا اور اس کو زندہ کیا جائے گا، اس کا جواب یہ ہے کہ ان منتشر اور مختلط ذرات کو متمیز کرنا اس کے لیے مشکل ہے جس کا علم ناقص ہو اور ان کو مجتمع کر کے دوبارہ ایک زندہ جسم میں ڈھال دینا اس کے لیے مشکل ہے جس کی قدرت ناقص ہو، لیکن جس کا علم غیر متناہی اور جس کی قدرت بےاندازہ ہے اس کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں وہ تم کو اسی طرح دوبارہ زندہ کرے گا جس طرح پہلی بار تم کو عدم سے وجود میں لایا تھا۔

پھر فرمایا تم تو مٹی کے اجسام ہو بالفرض اگر تم پتھر یا لوہے یا کسی اور ایسے جسم سے بن جاؤ جو تمہارے خیال میں بہت سخت ہو، جس کا بظاہر حیات قبول کرنا بعید ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں بھی حیات پیدا کردے گا۔

پھر فرمایا عنقریب وہ کہیں گے کہ ہم کو دوبارہ کون پیدا کرے گا، آپ کہیے کہ وہی جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا اس پر وہ آپ کی طرف (انکارا) سر ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا۔

اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے برحق ہونے اور قرآن مجید کی صداقت پر دلیل ہے، کیونکہ جن باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین یہ کہیں گے اور آپ اس کا یہ جواب دیں پھر وہ یہ کہیں گے اور آپ اس کا یہ جواب دیں، چاہیے تھا کہ مشرکین وہ باتیں نہ کہتے اور پھر کہتے کہ قرآن جھوٹا ہوگیا قرآن نے پیشگوئی کی تھی کہ ہم یہ کہیں گے اور ہم نے نہیں کہا لیکن وہی ہوا جو قرآن مجید نے کہا تھا اور قرآن مجید کی پیش گوئی سچی ہوگئی، یہ سچے نبی کی شان ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مخالفین کی زبانوں کے متعلق پیش گوئی کی اور مخالفین نے آپ کی پیش گوئی کے متعلق باتیں کر کے آپ کو سچا ثابت کردیا۔ والحمدللہ 

اس کے بعد فرمایا جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آؤ گے۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ کفار اور مشرکین قبروں سے سبحانک وبحمدک کہتے ہوئے اٹھیں گے، قتادہ نے کہا وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اطاعت کے ساتھ اٹھیں گے۔

پھر فرمایا اور تم یہ گمان کرو گے کہ تم تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے، اس کی تفسیر میں تین قول ہیں :

١۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے راویت کیا اس سے دو مرتبہ صور پھونکنے کا زمانہ مراد ہے، جو چالیس سال ہے اس عرسہ میں ان سے عذاب منقطع رہے گا اس لیے وہ سمجھیں گے کہ وہ بہت کم عرسہ رہے۔

٢۔ حسن نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ دنیا میں بہت کم عرصہ رہے، کیونکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔

٣۔ مقاتل نے کہا اس سے مراد ہے قبر کا زمانہ کیونکہ آخرت کے عذاب کے مقابلہ میں قبر میں گزارا ہوا زمانہ بہت کم ہے۔

بعض مفسرین نے کہا اس آیت میں مومنین سے خطاب ہے کیونکہ جب ان کو منادی بلائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے احسانات پر اس کی حمد کرتے ہوئے چلے آئیں گے اور قبر میں گزارے ہوئے زمانہ کو کم کہیں گے کیونکہ وہ قبروں میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور نعمتوں میں رہے، اور نعمت کے ایام کم معلوم ہوتے ہیں۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٤٦، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 49