أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:

اور آپ میرے بندوں سے کہیے کہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو، بیشک شیطان ان کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ میرے بندوں سے کہیے کہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو، بیشک شیطان ان کے درمیان پھوٹ ڈالتا ہے، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (بنی اسرائیل : ٥٣ )

آپس کی گفتگو میں اور تبلیغ میں نرمی اور حسن اخلاق سے کام لینا :

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں : ایک قول یہ ہے کہ میرے بندوں سے مراد مومنین ہیں اور دوسرا قول یہ ہے کہ میرے بندوں سے مراد کفار ہیں۔ میرے بندوں سے مومنین مراد ہونے پر یہ دلیل ہے کہ قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ عباد کا اطلاق مومنین پر کیا جاتا ہے جیسا کہ ان آیات سے ظاہر ہے :

والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا وانابوا الی اللہ لھم البشری فبشر عباد۔ (الزمر : ١٧) اور جن لوگوں نے بتوں کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا وہی بشارت کے مستحق ہیں، تو آپ میرے بندوں کو بشارت دیجیے۔

فادخلی فی عبادی۔ وادخلی جنتی۔ (الفجر : ٢٩، ٣٠) پس میرے (مومن) بندوں میں داخل ہوجا۔ اور میری جنت میں داخل ہوجا۔

عینا یشرب بھا عباد اللہ یفجرونھا تفجیرا۔ (الدھر : ٧) وہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے اور اس سے (جہاں چاہیں) نہریں نکالیں گے۔

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر دلائل قائم کیے تھے اور آپ کی نبوت کو ثابت کیا تھا اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر مشرکین کے شبہات کو ذائل فرمایا تھا، اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میرے بندوں سے کہے کہ جب تم مخالفین کو تبلیغ کرو تو ان کے سامنے نرمی، حسن اخلاق اور احسن طریقہ سے دلائل پیش کرو، اور وہ طریقہ یہ ہے کہ تمہارے دلائل سب و شتم پر مشتمل نہ ہوں، جیسا کہ ان آیات میں ہے :

ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ (العنکبوت : ٤٦) اور اہل کتاب سے صرف احسن طریقہ سے بحث کرو۔

ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم۔ (الانعام : ١٠٨) اور ان کو گالی مت دو جن کی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہیں ورنہ وہ جہالت اور عداوت کے سبب سے اللہ کو برا کہیں گے۔

پھر فرمایا : اگر تم مشرکین سے سختی سے کلام کرو گے تو وہ بھی تم سے سخت لہجہ میں بات کریں گے پھر شیطان تمہارے درمیان فسادڈال دے گا کیونکہ وہ بلا شبہ انسان کا کھلا دشمن ہے۔

اور اس آیت کا یہ بھی محإل ہے کہ جب مسلمان ایک دوسرے سے بات کریں تو نرمی، انکسار اور خندہ پیشانی سے بات کریں، بد مزاجی اور بدکلامی نہ کریں، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بدگمانی کرنے سے باز رہو کیونکہ بدگمانی کرنا سب سے جھوٹی بات ہے اور کسی کی برائیاں تلاش نہ کرو، کسی کی تفتیش نہ کرو، کسی سے بغض نہ رکھو اور کسی سے تعلق منقطع نہ کرو اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن جاؤ۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٧٤٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٢٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٩١٧، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٨٨، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٦٦، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٨٤٥، مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

اس آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ عبادی سے مراد کفار ہیں یعنی آپ میرے کافر بندوں سے کہیے، کیونکہ ان آیات سے مقصود دعوت اور ارشاد ہے اور کافروں کو بھی نرمی اور حسن اخلاق سے بات کرنے کی تلقین کریں تاکہ وہ ضد اور تعصب میں آکر ہٹ دھرمی پر نہ اتر آئیں، ٹھنڈے دل سے اسلام کے دلائل پر غور کریں تاکہ ان کے دل و دماغ میں حق بات اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 53