أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَمۡشِ فِى الۡاَرۡضِ مَرَحًا‌ ۚ اِنَّكَ لَنۡ تَخۡرِقَ الۡاَرۡضَ وَلَنۡ تَبۡلُغَ الۡجِبَالَ طُوۡلًا ۞

ترجمہ:

اور زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چلو کیونکہ نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی تم طول میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چلو کیونکہ نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ ہی تم طول میں پہاڑوں تک پہنچ سکتے ہو۔ ان تمام کاموں کی برائی آپ کے رب کے نزدیک سخت ناپسند ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٧، ٣٨)

اکڑ اکڑ کر چلنے کی ممانعت :

اس آیت میں مرحا کا لفظ ہے، مرحا کا معنی ہے اترا اترا کر، تکبر اور غرور سے اکڑ اکٹر کر چلنا۔

اس آیت میں تکبر سے اور اکٹر اکٹر کر چلنے سے منع فرمایا ہے اور یہ اس حکم کو متضمن ہے کہ زمین میں تواضع اور انکسار سے چلنا چاہیے اس کی نظیر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ہیں :

وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔ (الفرقان : ٦٣) رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستگی کے ساتھ چلتے ہیں۔

ولا تصعر خدک للناس ولا تمش فی الارض مرحا، ان اللہ لا یحب کل مختال فخور۔ (لقمان : ١٨) اور تکبر سے رخسار ٹیڑھے نہ کرو، اور زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چل، بیشک اللہ کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا۔

واقصد فی مشیک واغضض من صوتک، ان انکر الاصوات لصوت الحمیر۔ (لقمان : ١٩) میانہ روی سے چل اور اپنی آواز کو پست رکھ، بیشک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیونکہ تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ طول میں پہاڑ تک پہنچ سکتے ہو، زمین کو پھاڑنے اور پہاڑ تک پہنچنے سے مقصود یہ ہے کہ تم ایسے طاقتور نہیں ہو کہ زمین پر قدم رکھو تو تمہارے زور سے زمین میں سوارخ ہوجائے اور نہ ایسے بلند قامت ہو کہ قدم اٹھاؤ تو تمہارا قدم پہاڑ تک پہنچ جائے، اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ تم تکبر کیوں کرتے ہو جب کہ تمہارے قدم رکھنے سے زمین میں سوارخ نہیں ہوسکتا، تمہارے اوپر پہاڑ ہیں جن تک تم پہنچ نہیں سکتے، تمہارے نیچے جامد زمین ہے اور تمہارے اوپر سخت پہاڑ ہیں، تم دونوں طرف سے محاط ہو پھر تکبر کس بات پر کر رہے ہو، اور تکبر کرنا اور اکڑ اکڑکر چلنا یہ ایسی صفات ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔

تکبر کی مذمت میں احادیث :

حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے عزت میری ازار (تہبند) ہے اور کبریاء میری چادر ہے جس شخص نے بھی ان کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کی میں اس کو عذاب دوں گا۔ (مسند حمیدی، رقم الحدیث : ١١٤٩، مسند احمد ج ٢ ص ٢٤٨، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٢٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٠٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤١٧٤)

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا، ایک شخص نے کہا ایک آدمی یہ چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، اور اس کے جوتے اچھے ہوں، آپ نے فرمایا اللہ جمیل (حسین) ہے وہ جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر حق کا انکار کرنا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٤١٢، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٩١، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٠٩١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٩، ٤١٧٣)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن متکبرین کو مردوں کی صورت میں چیونٹیوں کی جسامت میں اٹھایا جائے گا، ان کو ہر جگہ سے ذلت ڈھانپ لے گی، ان کو جہنم کے اس قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا جس کا نام بولس ہے ان کے اوپر آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور ان کو دوزخیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔ (مسند حمیدی، رقم الحدیث : ٥٩٨، مسند احمد ج ٢ ص ١٧٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٩٢، الادب المفرد رقم الحدیث : ٥٥٧ )

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے لوگو ! تم سے اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کا بوجھ اور اپنے آبا و اجداد پر فخر کرنے کو دور کردیا ہے، لوگوں کی دو قسمیں ہیں ایک وہ ہیں جو نیک اور متقی ہیں اور اللہ عز وجل کے نزدیک کریم ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو فاجر ہیں، بدبخت ہیں اور اللہ عزوجل کے نزدیک ذلیل ہیں، تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں اور اللہ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے، اور تم کو گروہوں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کردیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرسکو اور اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو، بیشک اللہ بہت علم والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔ (الحجرات : ١٣) ( سنن الترمزی، رقم الحدیث : ٣٢٧٠، صحیح ابن خزیمہ، رقم الحدیث : ٢٧٨١)

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے تکبر سے (قدموں کے نیچے) کپڑا لٹکایا، اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی طرف نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٨٥، موطا امام مالک رقم الحدیث : ٥٧٠، مسند احمد ج ٢ ص ٥٦ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پچھلی امتوں میں ایک آدمی اتراتا ہوا ایک حلہ (ایک قسم کی دو چادریں) پہن کر چل رہا تھا اس نے اپنے بالوں میں سیدھی کنگھی کی ہوئی تھی وہ تکبر سے چل رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں گڑگڑاہٹ کے ساتھ دھنستا رہے گا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٩٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٨٨، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٧٨٨)

حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں، انہوں نے لوگوں سے کہا تم مجھے کہتے ہو کہ مجھ میں تکبر ہے، حالانکہ میں گدھے پر سواری کرتا ہوں اور چوڑی چادر پہنتا ہوں اور بکری کا دودھ دوہتا ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ کام کرے گا اس میں بالکل تکبر نہیں ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠٠١، جامع الاصول رقم الحدیث : ٨٢٢٥ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 37