أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مَنَعَنَاۤ اَنۡ نُّرۡسِلَ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنۡ كَذَّبَ بِهَا الۡاَوَّلُوۡنَ‌ؕ وَاٰتَيۡنَا ثَمُوۡدَ النَّاقَةَ مُبۡصِرَةً فَظَلَمُوۡا بِهَا‌ؕ وَمَا نُرۡسِلُ بِالۡاٰيٰتِ اِلَّا تَخۡوِيۡفًا ۞

ترجمہ:

اور ہمیں (فرمائشی) معجزات، بھیجنے سے صرف یہ چیزیں مانع ہے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں، اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی جو بصیرت افراز (نشانی) تھی، سو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم صرف ڈرانے کے لیے معجزات بھیجتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہمیں (فرمائشی) معجزات، بھیجنے سے صرف یہ چیزیں مانع ہے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں، اور ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی جو بصیرت افراز (نشانی) تھی، سو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم صرف ڈرانے کے لیے معجزات بھیجتے ہیںَ (بنی اسرائیل : ٥٩ )

زیر تفسیر آیت کا شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا اور جو ظلم کرتے تھے اور کفر اور شرک پر اصرار کرتے تھے ان کو عذاب کی وعید سنائی اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کا ذکر شروع فرمایا اور مشرکین مکہ کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو شبہات تھے ان کا ازالہ فرمایا۔

سعید بن جبیر نے کہا کہ مشرکین نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ سے پہلے انبیاء تھے ان میں سے بعض کے لیے ہوا مسخر کردی گئی اور ان میں سے بعض مردوں کو زندہ کرتے تھے اگر آپ اس بات سے خوش ہوں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی تصدیق کریں تو آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ صفا پہاڑ کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی میں نے ان کا مطالبہ سن لیا ہے اگر آپ چاہیں تو ہم ان کا مطالبہ پورا کردیں لیکن اگر یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر ان پر عذاب نازل کیا جائے گا، اور اگر آپ اپنی قوم کو مہلت دینا چاہتے ہیں تو میں ان کو مہلت دے دوں، آپ نے عرض کیا اے میرے رب ان کو مہلت دے دے۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٦٩٠٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا کہ آپ ان کے لیے صفا پہاڑ کو سونے کا بنادیں، اور اس جگہ سے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ وہ اس جگہ کھیتی باڑی کرسکیں تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ ان کو مہلت دینا چاہتے ہیں تو ہم ان کو مہلت دے دیں اور اگر آپ ان کی فرمائش پوری کرنا چاہتے ہوں تو ہم ان کی فرمائش پوری کردیں لیکن اگر یہ پھر بھی ایمان نہ لائے تو پھر ان کو ہلاک کردیا جائے گا، جیسا کہ پچھلی قوموں کے کفار کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ آپ نے کہا بلکہ ان کو مہلت دے دے، تب یہ آیت نازل ہوئی وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بھا الاولون۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٦٩٠٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٣٣٣، دار الفکر بیروت و عالم الکتب بیروت)

فرمائشی معجزات نازل نہ کرنے کی وجوہ :

فرمائشی معجزات نہ بھیجنے کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

١۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے بڑے بڑے فرمائشی معجزات نازل فرما دیتا اور وہ پھر بھی ایمان نہ لاتے، بلکہ اپنے کفر پر ڈٹے رہتے تو اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق وہ آسمانی عذاب سے نیست و نابود کردیے جاتے، لیکن اس طرح کا جڑ سے اکھاڑ دینے والا عذاب اس امت پر جائز نہ تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے یا ان کی اولاد ایمان لے آئے گی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمائشی معجزات کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے یہ معجزات اس لیے نہیں نازل کیے کہ پچھلی امتوں میں ان کے آباو اجداد کے مطالبہ پر معجزات نازل کیے گئے لیکن وہ ایمان نہیں لائے اور یہ مشرکین بھی ان ہی آباو اجداد کی تقلید کرتے تھے۔

٣۔ پچھلی امتوں کے لوگوں نے اپنے فرمائشی معجزات کا مشاہدہ کرلیا پھر بھی وہ اپنے انکار پر مصر رہے سو اگر یہ لوگ بھی ان معجزات کا مشاہدہ کرلیتے تو اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ بھی انکار کرتے، اس لیے ان معجزات کا ظاہر کرنا عبث تھا، اور اللہ تعالیٰ عبث کام نہیں کرتا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی دی جو بصیرت افروز نشانی تھی سو انہوں نے اس پر ظلم کیا۔

بصیرت افروزکا معنی یہ ہے کہ جو شخص پتھر سے اونٹنی کے نکلنے اور اسکی دیگر نشانیوں پر غور و فکر کرے گا وہ حضرت صالح (علیہ السلام) کے دعوی نبوت کے صدق کو تسلیم کرلے گا، پھر فرمایا انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا یعنی اس معجزہ کی تکزیب کر کے اپنی جانوں پر طلم کیا پھر فرمایا : اور ہم صرف ڈرانے کے لیے معجزات بھیجتے ہیں اسپر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ معجزہ تو اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نبی کے دعوی نبوت کے صدق پر دلیل ہو تو پھر اس کی کیا توجیہ ہے کہ ہم صرف ڈرانے کے لیے معجزات بھیجتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہرچند کہ معجزہ نبی کے دعوی نبوت کے صدق کی دلیل ہوتا ہے، لیکن وہ اس حکم کو متضمن ہوتا ہے کہ اگر اس فرمائشی معجزہ کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو پھر تم ہلاک اور ملیا میٹ کردینے والے عذاب کے مستحق ہوگے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 59