أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوۡكِ الشَّمۡسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيۡلِ وَقُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ‌ؕ اِنَّ قُرۡاٰنَ الۡـفَجۡرِ كَانَ مَشۡهُوۡدًا ۞

ترجمہ:

آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک نماز قائم کریں، اور فجر کی نماز میں قرآن پڑھیں، بیشک فجر کی نماز کے قرآن پڑھنے میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک نماز قائم کریں، اور فجر کی نماز میں قرآن پڑھیں، بیشک فجر کی نماز کے قرآن پڑھنے میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اور رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز پڑھیں، جو خصوصا آپ کے لیے زیادہ ہے، عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ (بنی اسرائیل : ٧٨، ٧٩)

دلوک کا معنی :

علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ دلوک کا معنی ہے سورج کا غروب کی طرف مائل ہونا، دلوک کا لفظ دلک سے بنا ہے اس کا معنی ہے ہتھیلیوں کو ملنا، جب سورج نصف النہار پر ہوتا ہے تو لوگ ہتھیلیوں کو ماتھے پر رکھ کر سورج کی طرف دیکھتے ہیں۔ (المفرادت ج ١ ص ٢٢٨، ٢٢٩، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

ابو عبیدہ نے کہا آفتاب کے نصف النہار سے زوال سے لیکر غروب کی طرف میلا تک کو دلوک کہتے ہیں، ذجاج نے کہا نصف النہار سے میلا بھی دلوک ہے، اور غروب کی طرف میلا بھی دلوک ہے، الازہری نے کہا کلام عرب میں دلوک کا معنی زوال ہے، اسی لیے جب سورج نصف النہار سے زائل ہو اس کو بھی دلوک کہتے ہیں اور جب وہ افق سے زائل ہونے لگے اس کو بھی دلوک کہتے ہیں۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٧١، ٧٢)

پانچ نمازوں کی فرضیت :

دلوک کی تفسیر میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ حضرت ابن مسعود نے کہا اس سے مراد غروب آفتاب ہے، حضرت ابن عباس کا ایک قول بھی اسی طرح ہے، فرا اور ابن قتیبہ کا بھی یہی قول ہے، مگر اس کے دلائل قوی نہیں ہیں۔

دوسرا قول یہ ہے کہ دلوک سے مراد سورج کا نصف النہار سے زائل ہونا ہے، یہ حضرت ابن عمر، حضرت ابو برزہ، حضرت ابو یرہرہ اور حسن، شعبی، سعید بن جبیر، اوب العالمیہ، مجاہد، عطا، عبید بن عمیر، قتادہ، ضحاک، مقاتل، اور الازہری کا قول ہے۔

اس قول کی دلیل یہ ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے منتخب کردہ اصحاب کی دعوت کی پھر سورج کے نصف النہار سے زوال کے وقت وہ باہر آئے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی باہر آئے اور فرمایا اے ابوبکر باہر آؤ اور وہ دلوک شمس کا وقت تھا۔ 

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جبریل (علیہ السلام) دلوک شمس کے وقت آئے، جب سورج نصف النہار سے زائل ہوچکا تھا اور مجھے ظہر کی نماز پڑھائی۔

حضرت ابو بریرہ بیان کرتے ہیں کہ جب سورج نصف النہار سے زائل ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھی اور یہ آیت تلاوت فرمائی : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس۔ (جامع البیان، جز ٥، ص ١٧١، ١٧٢، مطبوعہ دار الکفر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو موسیٰ کی طرف مکتوب لکھا کہ ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج نصف النہار سے زائل ہوجائے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج صاف اور سفید ہوجائے اور پیلا نہ پڑار ہو، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہوجائے اور عشا کو اس وقت تک موخر کرو جب تک کہ تم کو نیند نہ آئی ہو، اور صبح کی نماز اس وقت پڑھو جب ستارے ظاہر ہوں اور ان کا جال بنا ہوا ہو۔ (موطا امام مالک رقم الحدیث : ٧، مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت، ١٤٢٠ ھ)

الازہری نے کہا جب دلوک شمس سے مراد زوال شمس سے لیکر غروب آفتاب تک کا وقت ہوگا تو اس میں ظہر اور عصر داخل ہوگی، اس کے بعد فرمایا رات کے اندھیرے تک اس میں مغرب اور عشا داخل ہیں، پھر فرمایا و قرآن الفجر اس میں فجر کی نماز آگئی، اس طرح یہ آیت پانچوں نمازوں کو شامل ہوگئی۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٧٢)

اوقات نماز کے متعلق احادیث اور مذاہب :

غسق الیل کا معنی ہے رات کی سیاہی اور اس کا اندھیرا اور جب رات کی سیاہی اور اندھیرا چھا جائے تو پھر عشا کا وقت شروع ہوجاتا ہے، اب ہم ظہر، عصر، مغرب عشا اور فجر کی نمازوں کے مستحب اوقات احادیث کی روشنی میں ذکر کر رہے ہیں :

اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب آفتاب نصف النہار سے زائل ہوجائے تو ظہر کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور جب تک اصلی سایہ نکل کر ہر چیز کا سایہ ایک مثل تک رہے اس وقت تک ظہر کا وقت رہتا ہے۔ امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد کا یہی نظریہ ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک دو مثل سائے تک ظہر کا وقت ہے، ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے بیت اللہ کے پاس جبریل نے دو دن نماز پڑھائی پہلے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زوال کا سایہ تسمہ کے برابر تھا، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا، پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج غروب ہوگیا اور جب روزہ دار روزہ افطار کرلیتا ہے، پھر آپ نے عشا کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوجاتی ہے۔ (غروب آفتاب کے بعد کچھ دیر تک سفیدی رہتی ہے اس کو شفق کہتے ہیں) پھر صبح کی نماز اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہوگئی اور جب روزہ دار کے لیے سحری کا وقت ختم ہوجاتا ہے، اور آپ نے دوسرے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوگیا تھا جس وقت پہلے دن عصر کی نماز پڑھی تھی اور دوسرے دن عصر کی نماز اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا تھا، پھر مغرب اپنے اول وقت میں پڑھی اور عشا اس وقت پڑھی جب تہائی رات گزر گئی اور دوسرے دن صبح اس وقت پڑھی جب سفیدی پھیل گئی، پھر جبریل نے میری طرف التفات کر کے کہا یا محمد ! یہ آپ سے پہلے نبیوں کی نمازوں کا وقت ہے اور نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٤٩، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٨٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٣١٧، مسند احمد ج ١ ص ٣٣٣، سنن ابو داؤأد رقم الحدیث : ٣٩٣، مسند ابو عیلی رقم الحدیث : ٢٧٥٠، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٧٥٢، المستدرک ج ١ ص ١٩٣، سنن کبری ج ١ ص ٣٦٥، شرح السنۃ رقم الحدیث : ٣٤٨ )

امام ابوحنیفہ کی طرف سے اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ امامت جبریل کی یہ حدیث بخاری اور مسلم میں بھی ہے۔ لیکن اس میں ایک مثل سائے کے وقت عصر پڑھنے کا ذکر نہیں ہے یہ الفاظ صرف ترمذی، ابو داؤد اور نسائی کی روایت میں ہیں، اور بخاری اور مسلم کی روایت ان کی روایت پر مقدم ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ دوسرے دن ایک مثل سایہ ہونے کے بعد اس وقت ظہر پڑھی جس وقت پہلے دن عصر پڑھی تھی اس لیے یہ حدیث ان احادیث سے منسوخ ہے جن میں زکر ہے کہ عصر کا وقت ظہر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وقت الظھر ما لم یحظر العصر۔ ظہر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک عصر کا وقت شرو نہ ہو۔ (صحیح مسلم باب اوقات الصلوۃ الخمس : ١٣٦٠، ١٧٢)

نیز قرآن مجید میں ہے :

ان الصلوۃ کا نت علی المومنین کتاب موقاتا۔ (النساء : ١٠٣) بیشک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض کی گئی ہے۔

یعنی ہر نماز کا الگ الگ وقت ہے اور ایک نماز دوسری نماز کے وقت میں نہیں پڑھی جاسکتی سو یہ حدیث قرآن مجید کے خلاف ہے اس لیے لائق استدلال نہیں ہے۔

امام ابوحنیفہ کے موقف پر دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، موذن نے اذان دینے کا اردہ کیا، آپ نے فرمایا ٹھنڈا وقت ہونے دو ، اس نے پھر اذان دینے کا ارادہ کیا، آپ نے فرمایا ٹھنڈا وقت ہونے دو ، اس نے تیسری بار اذان دینے کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا ٹھنڈا وقت ہونے دو حتی کہ سایا ٹیلوں کے برابر ہوگیا، اور آپ نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کے سانس سے ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٣٩، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٠١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٢٤٥ )

یہ حدیث دو وجہوں سے امام اعظم کے مسلک پر دلالت کرتی ہے اولا یہ کہ آپ نے ایک مثل سائے کے بعد اذان دینے کی اجازت دی، اور نماز بہرحال اس کے کچھ دیر بعد پڑھی اس سے ثابت ہوا کہ ظہر کا وقت ایک مثل سائے کے بعد بھی رہتا ہے، ثانیا اس وجہ سے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گرمی کی شدت ایک مثل سائے کے بعد کم ہوتی ہے اور متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے آپ نے فرمایا گرمیوں میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔

دوسری حدیث یہ ہے :

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زوال آفتاب کے بعد انسان کا سایہ اس کے طول کے برابر ہوجائے تو ظہر کا وقت ہوتا ہے جب تک عصر کا وقت نہ آجائے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٧٢، (٦١٢) ١٣٦٠ )

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ ایک مثل سائے کے بعد ظہر کا وقت ختم نہیں ہوتا۔

اور تیسری حدیث یہ ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، پہلی امتوں کی بہ نسبت تمہارا زمانہ عصر سے غروب آفتاب تک ہے، اہل تورات کو تورات دی گئی اور وہ ظہر تک عمل کرنے کے بعد تھک گئے انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی انہوں نے عصر تک عمل کیا، پھر تھک گئے انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر ہمیں قرآن دیا گیا اور ہم نے غروب آفتاب تک عمل کیا ہم کو دو دو قیراط دیئے گئے، تو تورات اور انجیل والوں نے اعتراض کیا : اے اللہ ! تو نے ان کو دو دو قیراط دیئے اور ہم کو ایک ایک قیراط دیا، حالانکہ ہم نے ان سے زیادہ کام کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا میں نے تمہاری اجرت سے کچھ کم کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ میرا فضل ہے جسے چاہے زیادہ عطا کروں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٥٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٥٠٨، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٥٦٥ )

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اہل انجیل جنہوں نے ظہر سے عصر تک کام کیا تھا ان کے کام کا وقت مسلمانوں کے کام کے وقت کی بہ نسبت زیادہ تھا کیونکہ مسلمانوں نے عصر سے مغرب تک کام کیا تھا، اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ظہر کا وقت دو مثل سائے تک ہو، تب ظہر کا وقت عصر سے زیادہ ہوگا اور اگر ظہر کا وقت ایک مثل سائے تک ہو تو عصر کا وقت ظہر کے برابر یا زیادہ ہوجائے گا۔ 

عصر کا وقت بھی اسی اختلاف پر متفرع ہے، ائمہ ثلاثہ کے نزدیک عصر کا وقت ایک مثل سائے سے شروع ہوگا، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک دو مثل سائے سے شروع ہوگا۔

اور مغرب کا وقت سب کے نزدیک غروب آفتا کے بعد شروع ہوگا اور شفق کی سفیدی غائب ہونے تک رہے گا جب بالکل اندھیرا پھیل جائے اور یہ وقت ہر موسم میں ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ تک رہتا ہے، ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کے نزدیک شفق سے مراد وہ سرخی ہے جو غروب آفتاب کے بعد افق پر دکھائی دیتی ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اسی سرخ کے غائب ہونے کے بعد سفیدی چھا جاتی ہے اور شفق سے مراد یہ سفیدی ہے اور جب یہ سفیدی بھی غائب ہوجائے اور بالکل اندھیرا چھا جائے تو پھر عشا کا وقت ہوتا ہے۔

عشا کے وقت کی ابتدا سے اسی اختلاف پر مبنی ہے، ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سرخی غائب ہونے کے بعد عشا کا وقت شروع ہوتا ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک غروب آفتاب کے بعد سرخی ظاہر ہوتی ہے اور اس کے بعد سفیدی پھیلتی ہے اور اس کے غائب ہونے کے بعد عشا کے وقت کی ابتدا ہوتی ہے، اور عشا کا مستحب وقت آدھی رات تک ہے اور عشا پڑھنے کا جواز طلوع فجر تک ہے۔

فجر کی نماز کا وقت اس وقت شرو ہوتا ہے جب فجر صادق طلوع ہوتی ہے اور سحری کھانے کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور طلوع آٖتاب تک فجر کی نماز کا وقت رہتا ہے۔ جبریل نے دوسرے دن آپ کو اس وقت نماز پڑھائی تھی جب خوب سفیدی پھیل گئی تھی۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اسی وقت فجر کی نماز پڑھنا مستحب ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اول وقت میں صبح کی نماز پڑھنا مستحب ہے۔ امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ حدیث ہے۔ حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبح کی نماز کو سفیدی میں پڑھو اس سے بہت زیادہ اجر ملتا ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٥٤، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٤٠٩، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٣٢١، مسند احمد ج ٣ ص ٤٦٥، سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٢٢٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٢٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٧٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ١٤٨٩، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٤٢٨٥)

اس آیت میں فرمایا ہے آپ فجر کی نماز پڑھیں بیشک فجر کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے پاس رات کے اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوجاتے ہیں، پھر رات کے فرشتے اللہ کے پاس پہنچتے ہیں اللہ ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ اللہ کو ان کا خوب علم ہوتا ہے، فرماتا ہے تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا، فرشتے کہتے ہیں ہم ان کو نماز پڑھتا چھوڑ کر آئے تھے اور جب ہم ان کے پاس گئے وہ اس وقت بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٥٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٦٣٢، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٤٨٦، ٤٨٧، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٧٦٠ )

تہجد کا معنی :

آیت ٧٩ میں فرمایا ہے اور آپ رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز پڑھیں۔

ابن قتیبہ نے کہا تھجدت کا معنی ہے میں بیدار ہوا، ھجد کا معنی ہے سونا اور باب تفعل کا خاصہ ہے سلب ماخذ اس لیے تہجد کا معنی ہے نیند کو زائل کرنا، اگر انسان رات کو جاگ رہا ہو اور پھر نماز پڑھے تو یہ تہجد نہیں ہوگی، نیند سے اٹھ کر نماز پڑھے تو تہجد ہوگی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور آپ رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز پڑھیں، اس کا معنی یہ ہے کہ اگر انسان ساری رات جاگ کر نفل پڑھتا رہے تو وہ تہجد نہیں ہے، تہجد کی نماز تب ہوگی جب وہ عشا پڑھ کر وجائے پھر تہجد کے لیے بیدار ہو اور نماز پڑھے۔

تہجد کی رکعات :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ شمول وتر تہجد کی مختلف رکعات مروی ہیں۔ امام بخاری نے حضرت عائشہ سے سات اور نو رکعات کو روایت کیا ہے۔ خالد بن زید نے گیارہ رکعات کو بیان کیا ہے، اور امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ آپ نے تہجد کی تیرہ رکعات پڑھیں اور طلوع فجر کے بعد دو رکعت سنت فجر پڑھیں، ان مختلف روایات میں تطبیق یہ ہے کہ آپ نے اوائل عمر میں زیادہ رکعات پڑھیں، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب آپ سن رسیدہ ہوگئے تو رات کو سات رکعات پڑھتے تھے۔ اور اس میں حکمت یہ ہے کہ امت کے لیے توسیع اور آسانی ہو اور جو شخص اپنی قوت، حالت اور وقت کی گنجائش کے اعتبار سے ان رکعات میں سے جتنی رکعات پڑھے گا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو پالے گا، بہرحال آپ نے بشمول وتر تہجد کی کم سے کم سات رکعات پڑھی ہیں اور زیادہ سے زیادہ تیرہ رکعات پڑھی ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امت دونوں کے لیے تہجد نفل ہے، لیکن نفل کی حیثیت میں فرق ہے :

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز پڑھیں جو خصوصا آپ کے لیے نفل ہے۔

لغٖت میں نفل کا معنی ہے جو اصل پر زائد ہو، اور تہجد کے زائد ہونے کے متعلق دو قول ہیں :

١۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر نے کہا ہے کہ آپ پر جو نمازیں فرض تھیں یہ ان پر زائد ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ تہجد کی نماز آپ پر فرض ہے اور آپ پر رات میں قیام کرنا فرض کردیا گیا تھا۔

٢۔ ابو امامہ، حسن اور مجاہد نے کہا : تہجد کی نماز فرض پر زائد ہے اور خود فرض نہیں ہے، اور یہ صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نفل ہے۔ مجاہد نے کہا چونکہ آپ اپنی اگلی اور پچھلی زندگی میں مغور ہیں تو جو چیز بھی آپ کے فرائض پر زائد ہو وہ آپ کے لیے نفل اور فضیلت ہے اور آپ کے غیر کے لیے گناہوں کا کفارہ ہے۔

بعض اہل علم نے کہا کہ تہجد کی نماز اتبدا میں آپ پر فرض تھی، پھر آپ کو اس کے ترک میں رخصت دی گئی اور تہجد کی نماز آپ کے لیے نفل ہوگئی، ابن الانباری نے اس میں دو قول ذکر کیے ہیں۔

١۔ مجاہد نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نفل پڑھتے تھے تو اس لیے نہیں پڑھتے تھے کہ نوافل سے آپ کی مغفرت ہوگی، کیونکہ آپ کی مغفرت کلی کا تو پہلے ہی اعلان ہوچکا ہے، جبکہ آپ کا غیر جب نفل پڑھتا ہے تو وہ یہ امید رکھتا ہے کہ ان نوافل سے اس کے گناہ مٹ جائیں گے، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نوافل حاجت سے زیادہ ہیں اور آپ کے غیر کے لیے نوافل اس کی حاجت کے مطابق ہیں، کیونکہ اس کو اپنے گناہوں کی مغفرت کی حاجت ہے اور وہ ان نوافل سے عذاب کے دور ہونے کی توقع رکھتا ہے۔

٢۔ آپ کی امت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں کے لیے تہجد نفل ہے، اس آیت میں ہرچند کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے لیکن اس خطاب میں آپ کی امت بھی داخل ہے، لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تہجد اس لیے نفل ہے کہ اس سے آپ کے درجات بلند ہوں اور اللہ کے ساتھ آپ کے قرب میں اضافہ ہو اور آپ جو استغفار فرماتے ہیں اس کا بھی یہی محمل ہے، اور امت کے لیے تہجد اس لیے نفل ہے کہ تہجد کے ذریعہ ان کے گناہ معاف ہوں۔ (ازاد المسیر ج ٥، ص ٧٦، ٧٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : تہجد کی نماز خصوصیت سے آپ کے لیے زائد (نفل) ہے، اس کی توجیہ میں مجاہد نے خوبصورت بات کہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اگلے پچھلے خلاف اولی کاموں کی مغفرت فرما دی ہے اس لیے آپ فرائض کے علاوہ جو بھی عبادت کرتے ہیں وہ گناہوں کے مٹانے کے لیے نہیں ہوتیں (کیونکہ اول تو آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا کیونکہ آپ معصوم ہیں اور امت کی تبلیغ اور تشریح کے لیے اور اعمال میں ان کے لیے نمونہ فراہم کرنے لیے آپ نے بعض اوقات جو بظاہر خلاف اولی کام کیے اللہ تعالیٰ نے ان کی بھی مغفرت فرما دی ہم نے ان کاموں کو بظاہر خلاف اولی ہے اس لیے یہ کام حقیقت میں فرائض نبوت سے ہیں۔ مثلا ایک موقع پر آپ کھڑے ہو کر پانی پیا یہ بظاہر خلاف اولی ہے لیکن حقیقت میں فرائض نبوت سے ہے کیونکہ آپ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ کھڑے ہو کر پانی پینا بھی جائز ہے، سو ان کاموں میں بھی آپ کو فرائض کا اجر ملے گا، ہمارے حق میں یہ خلاف اولی ہیں اور آپ کے حق میں فرائض نبوت میں سے ہیں) ۔ تو امام رازی فرماتے ہیں آپ کا نوافل پڑھنا تکفیر ذنوب کے لیے نہیں ہے بلکہ درجات میں زیادتی اور کثرت ثواب کے لیے ہے، اس وجہ سے نوافل آپ کے حق میں زائد ہیں، اس کے برخلاف امت کے گناہ ہیں اور انہیں ان گناہوں کے کفارہ کی احتیاج ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تہجد اور اس نوع کی دیگر عبادات صرف نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے نوافل اور زوائد ہیں اور آپ کے غیر کے حق میں نفل اور زائد نہیں ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تہجد خصوصا آپ کے لیے نفل ہے۔ علامہ آلوسی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٣٨٧، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ، روح المعانی جز ١٥، ص ٢٠١، علامہ بدر الدین عینی اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے بھی یہی لکھا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ١٦٥، فتح الباری ج ٣ ص ٣)

یہ کہنا صحیح نہیں کہ آپ پر تہجد فرض ہے :

بعض علماء نے اس آیت کا یہ معنی بیان کیا کہ آپ پر باقی پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد کی نماز زائد فرض ہے اور یہ صرف آپ کی خصوصیت ہے یعنی باقی امت پر تہجد کی نماز فرض نہیں ہے۔ 

علامہ قرطبی فرماتے ہیں یہ تاویل دو وجہ سے بعید ہے اولا اس لیے کہ فرض پر نفل کا اطلاق صحیح نہیں ہے اور اگر یہ اطلاق مجازا ہو تو بلا ضرورت ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٤٢٠، مسند احمد ج ٥ ص ٣١٥، اور حدیث قدسی میں ہے : (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) یہ (عددا) پانچ نمازیں ہیں اور (اجرا) پچاس نمازیں ہیں اور میرے قول میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣) ان حدیثوں میں یہ تصریح ہے کہ صرف پانچ نمازیں فرض ہیں تو پانچ نمازوں پر ایک زائد نماز کیسے فرض ہوسکتی ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠ ص ٢٧٧، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے پھر تہجد کی فرضیت پانچ نمازوں کی فرضیت سے منسوخ کردی گئی۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٢٤، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

حافظ بدر الدین عینی فرماتے ہیں : پہلے رات کو قیام کرنا فرض تھا، اور جب پانچ نمازیں فرض ہوگئیں تو تہجد کی فرضیت منسوخ ہوئی، جیسے زکوۃ کی فرٖضیت کے بعد ہر قسم کے صدقہ کی فرضیت کو منسوخ کردیا گیا اور ماہ رمضان کے روزوں نے ہر قسم کے روزوں کی فرضیت کو منسوخ کردیا۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ١٨٩، مطبوعہ مصر، ١٣٤٨ ھ)

اس مسئلہ کی زیادہ تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم ج ٢ ص ٤٧٢۔ ٤٧٠، میں کی ہے وہاں بھی مطالعہ فرمائیں۔

مقام محمود کی تحقیق :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔

مقام محمود کی تفسیر میں چار قول ذکر کیے گئے ہیں۔

(١) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شفاعت کبری عطا فرمانا

(٢) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حمد کا جھنڈا عطا فرمانا

(٣) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوزخ سے مسلمانوں کو نکالنے کے لیے شفاعت کا اذن عطا فرمانا

(٤) اللہ تعالیٰ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ساتھ عرش پر بٹھانا (یہ قول مخدوش ہے) ۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ٢٨٠۔ ٢٧٦)

شفاعت کبری کے متعلق احادیث :

شفاعت کبری سے مراد وہ شفاعت ہے جو سب سے پہلی شفاعت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ محشر والوں کا حساب شروع کرے، اس دن اللہ تعالیٰ اس قدر جلال میں ہوگا کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کی جرات نہیں کرے گا، سب خوف زدہ ہوں گے اس وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرش کے نیچے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اذن شفاعت دے گا یہی مقام محمود ہے کہ جو کام کوئی نہ کرسکے گا آپ قیامت کے دن وہ کام کریں گے اور تمام اولین اور آخرین آپ کی تعریف اور تحسین کریں گے۔ 

حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ مختلف گروہوں میں بٹ جائیں گے، ہر گروہ اپنے نبی کی پیروی کرے گا، وہ کہیں گے اے فلاں شفاعت کیجیے، حتی کہ شفاعت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچے گی، یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٤٧١٨، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٢٥٨٥)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا : عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا۔ آپ نے فرمایا یہ شفاعت ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٣٧، مسند احمد ج ٢ ص ٤٤١، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٥ ص ٤٨٤)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا : عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا۔ آپ نے فرمایا یہ وہ مقام ہے جس میں، میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا۔ (مسند احمد، رقم الحدیث : ٩٦٩٠، طبع دار الفکر، جامع البیان رقم الحدیث : ١٧٠٧٠)

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن سورج قریب آگجائے گا حتی کہ لوگوں کے آدھے کانوں تک پسینہ پہنچ جائے گا، وہ اسی حال میں ہوں گے پھر حضرت آدم سے فریاد کریں گے، پھر حضرت موسیٰ سے، پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے، پھر آپ شفاعت کریں گے تاکہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کیا جائے، پھر آپ جاکر جنت کے دروازے کے حلقے کو پکڑ لیں گے پس اس وقت اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا اور تمام اہل محشر آپ کی تعریف اور تحسین کریں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٧٥، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٠٤٠، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٢٥٨٥)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگ دریا کی موجوں کی طرح بےقرار ہوں گے، پھر وہ حضرت آدم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، وہ کہیں گے کہ میں اس کے لیے نہیں ہوں، لیکن تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ وہ خلیل الرحمن ہیں پھر لوگ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے کہ میں اس کے لیے نہیں ہوں، لیکن تم حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ وہ اللہ کے کلیم ہیں، پھر لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے کہ میں اس کے لیے نہیں ہوں لیکن تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ وہ اللہ کی پسندیدہ روح اور اس کا کلمہ ہیں، پھر لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے کہ میں اس کے لیے نہیں ہوں لیکن تم پر لازم ہے کہ تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ، پھر وہ میرے پاس آئیں گے پس میں کہوں گا میں اس کے لیے ہوں، پھر میں اپنے رب سے اجازت طلب کروں گا تو میرے لیے اجازت دی جائے گی اور میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی حمد سے ایسے کلمات ڈالے جائیں گے جو اس وقت مجھے مستحضر نہیں ہیں اور میں ان کلمات سے اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گا، اور اللہ کے لیے سجدہ میں گر جاؤں گا، پھر کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھایئے، آپ کہئیے آپ کی بات سنی جائے گی اور سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا اور آپ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، میں کہوں گا اے میرے رب ! میری امت، میری امت، آپ سے کہا جائے گا آپ جایئے اور دوزخ سے ان کو نکال لیجیے جن کے دل میں ایک جو کے برابر بھی ایمان ہو، پس میں جاؤں گا اور اسی طرح کروں گا، پھر میں واپس آکر ان ہی کلمات سے اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گا، اور پھر اللہ کے حضور سجدہ میں گرجاؤں گا، پھر کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھایئے اور کہیے آپ کی بات سنی جائے گی اور سوال کیجیے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، میں کہوں گا اے میرے رب ! میری امت، میری امت، پھر کہا جائے گا آپ جایئے اور جس کے دل میں ایک جو یا رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لیجیے۔ پھر میں سہ بارہ آکر ان ہی کلمات سے اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گا، پھر اس کے لیے سجدہ میں گر جاؤں گا، پھر کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سرا ٹھایئے اور کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، آپ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا، آپ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں کہوں گا اے میرے رب ! میری امت، میریا مت، پس اللہ فرمائے گا آپ جایئے جس کے دل میں ادنی، ادنی، ادنی رائی کے درجہ کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لیجیے۔ پس میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا، پھر میں چوتھی بار جاؤں گا اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حمد کروں گا، پھر اللہ کے لیے سجدہ میں گرجاؤں گا، پس کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھایئے، اور کہیے سنا جائے گا اور سوال کیجئیے آپ کو دیا جائے اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، میں کہوں گا اے میرے رب ! مجھے اس شخص کے لیے اجازت دیجیے جس شخص نے لا الہ الا اللہ پڑھا ہو، پس وہ فرمائے گا میری عزت اور میرے جلال اور میری کبریائی اور میری عظمت کی قسم ! جس شخص نے لا الہ الا اللہ پڑھا وہ میں اس شخص کو دوزخ سے نکال لوں گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٧٥١٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٣، السنن الکبری رقم الحدیث : ١١٢٤٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣١٢)

قیامت کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت کی اقسام :

نقاش نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین قسم کی شفاعت کریں گے : ایک شفاعت کبری ہے، دوسری دخول جنت کے لیے شفاعت کریں گے اور تیسری گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لیے شفاعت کریں گے، اور ابن عطیہ نے کہا مشہور صرف دو قسمیں ہیں شفاعت عامہ اور گنہگاروں کو دوزخ سے نکالنے کے لیے شفاعت اور یہ شفاعت دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ علماء بھی کریں گے۔

قاضی عیاض نے کہا قیامت کے دن ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت پانچ قسم کی ہوگی۔ (١) شفاعت عامہ (٢) ایک گروہ کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرنے کے لیے شفاعت (٣) آپ کی امت میں سے جو لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ کے مستحق تھے پھر ان کے لیے اور جن کے لیے اللہ تعالیٰ چاہے گا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کریں گے اور وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (٤) جو گنہگار دوزخ میں داخل ہوچکے تھے پھر وہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء علیہم السلام، ملائکہ اور بعض نیک مسلمانوں کی شفاعت سے دوزخ سے نکال دیئے جائیں گے۔ (٥) اہل جنت کے درجات میں اضافہ کے لیے شفاعت فرمائیں گے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ٢٧٨، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے اذان سننے کے بعد یہ دعا کی کہ اس دعوت کامل اور اس کے بعد کھڑی ہونے والی نماز کے رب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں بلند درجہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے تو اس کے حق میں میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٤٧١٩)

قیامت کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حمد کا جھنڈا عطا کیا جانا :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور فخر نہیں، اور میرے ہی ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور فخر نہیں۔ الحدیث (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٤٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٠٨، سنن ابو داؤأد رقم الحدیث : ٤٦٧٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٥، المستدرک ج ٢ ص ٣٥٩، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ٣٦٤، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٤٤٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٦٠، مسند احمد ج ٥ ص ٣٨٧)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے دوزخ سے مسلمانوں کو نکالا جانا :

یہ مقام محمود کا تیسرا معنی ہے، اور اس کے متعلق ہم شفاعت کبری کے زیر عنوان احادیث ذکر کرچکے ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرش پر اپنے ساتھ بٹھانا :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

مجاہد نے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ساتھ عرش پر بٹھائے گا، اس کو امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے روایت کیا ہے۔ (جامع البیان جز ١٥، ص ١٨٣) اس کی تاویل محال نہیں ہے، کیونکہ تمام چیزوں کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ عرش پر بذاتہ قائم تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو پیدا کیا، اور اسے ان کو پیدا کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ وہ اپنی قدرت کا اظہار کرنا چاہتا تھا، اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو، اس کی توحید کو، اس کی قدرت اور اس کے کمال کو اور اس کے تمام افعال محکمہ کو پہچانا جائے، اور اس نے اپنے لیے عرش کو پیدا کیا اور اس پر مستوی ہوا، بغیر اس کے کہ عرش اس کا مکان ہو یا وہ عرش کو مس کر رہا ہو، وہ عرش پر اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوا اور تمام مخلوق میں کوئی چیز اس کے مماثل نہیں ہے، اور اس تقدیر پر برابر ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زمین پر بٹھائے یا عرش پر، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عرش پر متوی ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ ایک حال سے ودسرے حال کی طرف منتقل ہوتا ہے، یا کھڑا ہوتا ہے یا بیٹھتا ہے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرش پر بٹھانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ عبدیت کی صٖفت سے نکل گئے، اور ربوبیت کی صفت میں داخل ہوگئے بلکہ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام مخلوق پر شرف، عزت اور وجاہت کو ظاہر کرنا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠، ص ٢٨٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

یہ صرف مجاہد کا قول ہے، اس کے متعلق کوئی صحیح، حسن، یا ضعیف حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی نہیں ہے اور نہ اس کی تائید میں صھابہ اور تابعین سے کوئی اثر یا قول مروی ہے۔ امام ابن جریر اور علامہ قرطبی نے اس پر زور دیا ہے کہ اس کی مخالفت میں کوئی حدیث یا صحابہ اور تابعین کا کوئی قول نہیں ہے اور نہ یہ محال ہے لیکن صرف اتنی سی بات ہے یہ قول ثابت نہیں ہوگا جب تک کہ اس کی تائید میں کوئی حدیث یا اثر نہ ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 78