أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ اَمِنۡتُمۡ اَنۡ يُّعِيۡدَكُمۡ فِيۡهِ تَارَةً اُخۡرٰى فَيُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيۡحِ فَيُغۡرِقَكُمۡ بِمَا كَفَرۡتُمۡ‌ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوۡا لَـكُمۡ عَلَيۡنَا بِهٖ تَبِيۡعًا ۞

ترجمہ:

یا تم اس بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ (سمندری سفر پر) بھیج دے، پھر تم پر تندوتیز ہواؤں کے جھکڑ بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعث تم کو غرق کردے، پھر تم ہمارے خلاف کوئی چارہ جوئی کرنے والا نہ پاسکو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا تم اس بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ (سمندری سفر پر) بھیج دے، پھر تم پر تندو تیز ہواؤں کے جھکڑ بھیج دے اور تمہارے کفر کے باعث تم کو غرق کردے، پھر تم ہمارے خلاف کوئی چارہ جوئی کرنے والا نہ پاسکو۔ (بنی اسرائیل : ٦٩ )

جب ایک بار انسان کو اللہ تعالیٰ کسی مصیبت سے نجات دے دے تو اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور دوبارہ ایسے برے کام نہ کرے جن کی وجہ سے اس پر وہ مصیبت آئی تھی اور اس بات سے بےخوف نہ ہو کہ اب دوبارہ اس پر وہ مصیبت نہیں آئے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 69