حکایت نمبر309: جان کی قربانی دینے والی مؤمنہ

حضرتِ سیِّدُناسَدِی علیہ رحمۃ اللہ الولی سے منقول ہے کہ” ایک بادشاہ بڑی عیش وعشرت سے شاہانہ زندگی گزار رہا تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام ”خِضَر” تھا۔ وہ بہت مُتّقِی وپرہیز گار تھا۔ ایک دن بادشاہ کے پاس اس کابھائی الیاس گیا اور کہا: ”بھائی جان! اب آپ کی عمر بہت ہوگئی ہے ، آپ کا بیٹا خضر حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ، آپ خضر کی شادی کرادیں تاکہ اس کی اولاد میں سے کوئی آپ کا جانشین بن کر تختِ شاہی سنبھال لے اور اس طر ح حکومت ہمارے ہی خاندان میں رہے۔” بھائی کی بات بادشاہ کو پسند آئی اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا: ” بیٹا ! تم شادی کرلو۔” شہزادے نے انکار کیا تو بادشاہ نے کہا:” تمہیں شادی ضرور کرنا پڑے گی۔ سعادت مند بیٹے نے جب باپ کا اصرار دیکھا تو شادی کے لئے تیار ہوگیا ۔ بادشاہ نے ایک دوشیزہ سے اس کی شادی کردی۔ شہزادہ اپنی رفیقۂ حیات کے پاس گیااور کہا:”مجھے عورتوں میں کچھ رغبت نہیں، اگر تو چاہے تو میرے ساتھ رہ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کر، تیرا نان ونفقہ شاہی خزانے سے ادا کیا جائے گا۔لیکن ہمارے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہوسکے گا ، اگر اس بات پر راضی ہے تو میرے ساتھ رہ اور اگر چاہے تو میں تجھے طلاق دے دیتاہوں ؟”

سعادت مند بیوی نے کہا:” میرے سرتاج! آپ سے دوری مجھے گوارا نہیں ،میں آپ کے ساتھ رہ کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی

عبادت کرو ں گی۔” شہزادے نے کہا:”اگر یہی بات ہے تو میرا راز کسی پر ظاہر نہ کرنا ،اگر تو میرا راز چھپائے گی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اپنے حفظ وامان میں رکھے گا۔ اگر میرا راز فاش کرے گی تواللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہلاکت میں مبتلا کردے گا ۔” اس نے یقین دہانی کرائی کہ میں یہ راز پوشیدہ رکھوں گی۔ چنانچہ، دونوں میاں بیوی دن رات اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں مشغول رہنے لگے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے ہاں اولاد نہ ہوئی تو بادشاہ نے اپنی بہو کو بلایا اور کہا :” میرا بیٹا بالکل نوجوان ہے تم بھی جوان ہو ، پھر بھی تمہارے ہاں اولاد کیوں نہ ہوئی؟” سعادت مند و وفاشِعار بیوی نے کہا:” اولاداللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہوتی ہے، جب وہ چاہے گا اولاد عطا فرمائے گا۔” پھر بادشاہ نے اپنے بیٹے خضر کو بلایا اور کہا:” ایک سال گزرنے کے باوجود تمہارے ہاں اولاد کیوں نہ ہوئی ؟” کہا :” اولاد حکمِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے ہوتی ہے ، جب وہ چاہے گا عطا فرمادے گا۔”

پھر بادشاہ سے کہا گیا: شاید! یہ عورت بانجھ ہے اسی لئے اولاد نہ ہوئی ، آپ شہزادے کی شادی کسی ایسی عورت سے کرائیں جو بانجھ نہ ہو اور اس کے ہاں اولاد ہوچکی ہو۔ بادشاہ نے شہزادے کو بلایا اور حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ، شہزادے نے کہا: ”ابا جان ! اسے مجھ سے جدا نہ کریں، وہ بڑی بابر کت اور قابلِ رشک عورت ہے ۔” بادشاہ نے کہا:” تجھے میری بات ماننا پڑے گی، بالآخر شہزادے نے سرِتسلیم خم کرتے ہوئے مجبوراً طلاق دے دی ۔” بادشاہ نے شہزادے کی شادی ایک بیوہ سے کرادی جس کے ہاں پہلے بھی اولاد ہوچکی تھی ۔ شہزادہ جب اپنی اس نئی دلہن کے پاس پہنچا تو اس سے بھی وہ بات کہی جو پہلی بیوی سے کہی تھی۔ اس نے بھی شہزادے کے ساتھ رہ کر عبادت کرنا منظور کرلی ، دن رات دونوں عبادتِ الٰہی میں مصروف رہتے ، ان کے درمیان ایک مرتبہ بھی ازدواجی تعلق قائم نہ ہو ا۔ سال گزرنے کے باوجود جب اولاد کے آثا ر نظر نہ آئے تو بادشاہ نے اس عورت کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ”اپنے پہلے خاوند سے تیرے ہاں اولاد ہوئی ، اب میرے بیٹے کی اولاد تجھ سے کیوں نہ ہوئی ، حالانکہ میرا بیٹا خوبر و نوجوان ہے اور تو بانجھ بھی نہیں۔” اس نے کہا:” اولا د جبھی ہوتی ہے جب میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو آپ کا بیٹا تو ہر وقت عبادت وریاضت میں مشغول رہتا ہے ، اس نے ایک مرتبہ بھی وظیفۂ زوجیت ادا نہیں کیا۔” 

بادشاہ یہ سن کر بہت غصہ ہوا ، اس نے خادم بھیج کر شہزادے کو بلوایا ، لیکن شہزادہ وہاں سے بھاگ گیا ۔ تین سپاہی اس کے پیچھے گئے تو شہزادہ مل گیا ۔ سپاہیوں نے بادشاہ کے پاس لے جانا چاہا تو اس نے جانے سے انکار کردیا ۔ دو سپاہی لے جانے پر بضد رہے توتیسرے نے کہا:” شہزادے پر سختی نہ کرو، اگر ہم اس وقت اسے بادشاہ کے پاس لے گئے تو ہوسکتا ہے کہ بادشاہ غصہ میں آ کر اپنے اس نیک بیٹے کو قتل کروا دے۔ بہتری اسی میں ہے کہ شہزادے کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ دونوں سپاہی تیسرے کی بات سے متفق ہوگئے اور شہزادے کو وہیں چھوڑ کر بادشاہ کے پاس پہنچے۔بادشاہ نے شہزادے کے متعلق پوچھا: تودو سپاہی کہنے لگے: عالی جاہ! ہم نے تو اسے پکڑا لیا تھا لیکن ہمارے رفیق نے اسے چھڑوا دیا۔ بادشاہ نے غصہ میں آکر تیسرے سپاہی کو قید میں ڈال دیا ۔ پھر بادشاہ شہزادے کے متعلق سوچنے لگا ، اچانک اس نے دونوں سپاہیوں کو بلوایا جب وہ سامنے آئے تو کہا:” تم دونوں نے میرے بیٹے کو خوفزدہ کیا اسی لئے وہ مجھ سے دور چلاگیا ،اے جَلَّاد! انہیں پکڑ کر لے جا اور ان کے سر قلم کردے۔” پھر شہزادے کی دوسری بیوی کو بلوایا اور کہا:” تونے میرے بیٹے کا راز فاش کیا تیری وجہ سے وہ مجھ سے دور چلا گیا اگر تو اس کے راز کو چھپاتی تو آج وہ میری آنکھوں کے سامنے ہوتا، اے جلاد! اسے بھی قتل کردے۔” پھر بادشاہ نے تیسرے سپاہی اور شہزادے کی مُطَلَّقَہ کو بلایا اور کہا: ” تم دونوں جہاں چاہو جاؤ، میری طر ف سے تم آزاد ہو۔”
وہ نیک سیرت عورت اپنے شہر کے دروازے کے پاس ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہنے لگی۔ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر بیچتی اور اپنا گزارہ کرتی۔ایک دن ایک غریب شخص اس طر ف آنکلا اس نے جھونپڑی دیکھی توقریب آیا اور”بسم اللہ” شریف پڑھنے لگا ، عورت اس کی آواز سن کر باہر آئی اورکہا:” اے مسافر !کیا تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے متعلق جانتا ہے ؟ کیا تو اس ”وَحدَہٗ لاَشریک” ذات پر ایمان رکھتا ہے ؟” اس نے کہا:” ہاں ! میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کو مانتا ہوں، میں شہزادہ خضر کا دوست ہوں۔” عورت نے یہ سنا توکہا:” میں خضر کی مُطَلَّقَہ ہوں ۔”پھران دونوں نے شادی کرلی ، اللہ ربُّ العزَّت نے انہیں اولاد کی دولت سے نوازا اس طر ح ان کی زندگی کے شب وروز خیریت سے گزرتے رہے ۔
اس عورت کو فرعون کی بیٹی نے اپنی خادمہ رکھ لیا ایک دن اس کے سر میں کنگھی کرتے ہوئے کنگھی ہاتھ سے گر گئی ، تو اس نیک سیر ت عورت کی زبان سے بے اختیار ”سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ” کی صدابلند ہوئی ،فرعون کی کافرہ بیٹی نے جب یہ آوازسنی تو کہا: ”کیا تُونے میرے باپ فرعون کی تعریف کی ہے ؟” اس مؤمنہ نے جواباً کہا: ” نہیں ! میں نے تیرے باپ کی تعریف نہیں کی بلکہ میں نے تو اس پاک پرودرگار عَزَّوَجَلَّ کی پاکی بیان کی ہے جو میرا، تیرے باپ فرعون کا اور تمام کائنات کا خالق ہے ، عبادت کے لائق صرف وہی ”وَحدَہٗ لا شریک ”ذات ہے۔” اس مؤمنہ کی ایمان بھری گفتگو سن کر فرعون کی بیٹی نے کہا: ”میں تمہارے بارے میں اپنے والد کو بتاؤں گی کہ تم اسے خدا نہیں مانتی۔” عورت نے کہا:”بے شک بتادو۔” فرعون کی بیٹی نے اپنے باپ کو بتایا تو اس نے نیک سیرت مؤمنہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا:” ہم نے سنا ہے کہ تُو ہمارے علاوہ کسی اور کو خدامانتی ہے ، تیری سلامتی اسی میں ہے کہ تُو اس نئے مذہب کو چھوڑ کر ہماری عبادت کر اور ہمیں خدا مان ورنہ تجھے دردناک سزادی جائے گی۔” عورت نے کہا: ”جو چاہے کر، میں کبھی بھی شرک کی طرف نہ آؤں گی۔” فرعون نے جب ایک ایمان دار اورنیک سیرت عورت کی ایمان افروز گفتگو سنی تو بہت غضب ناک ہواا ور تانبے کی دیگ میں تیل گرم کرنے کا حکم دیا۔ جب تیل خوب کھولنے لگا تو اس کے بچے کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا ، کچھ ہی دیر میں بچے کی ہڈیاں تیل پر تیر نے لگیں۔ظالم فرعون نے عور ت سے کہا:”کیا تو مجھے خدا مانتی ہے ؟” اس نے کہا:” ہرگز نہیں، میرا خدا وہی ہے جو تمام جہانوں کا خالق ومالک ہے ۔”

فرعون نے اس کا دوسرا لڑکا منگوایا اور اُبلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا ۔ پھر اس عورت کو شرک کی دعوت دی اس نے صاف انکار کر دیا۔ فرعون نے اس کے ایک اور بچے کو تیل میں ڈال دیا ۔ اسی طر ح اس باہمت صابرہ وشاکرہ عورت کے تمام بچو ں کو ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا لیکن اس نے اپنا ایمان نہ چھوڑا ۔ ظالم فرعون نے حکم دیا کہ اسے بھی اس کے بچوں کی طر ح تیل میں ڈال دو! سپاہی جب اسے لے جانے لگے تو فرعون نے کہا:” اگر تمہاری کوئی آرزو ہو تو بتاؤ۔”کہا:” ہاں! میری ایک خواہش ہے اگر ہو سکے تو یہ کرنا کہ جب مجھے تیل کی ابلتی ہوئی دیگ میں ڈال دیا جائے اور میرا سارا گو شت جل جائے تو اس دیگ کو شہر کے دروازے پر بھجوادینا وہاں میری ایک جھونپڑی ہے دیگ اس میں رکھوا کر جھونپڑی گرا دینا تاکہ ہمارا گھر ہی ہمارے لئے قبرستان بن جائے ۔” فرعون نے کہا:” ٹھیک ہے، تمہاری اس خواہش کو پورا کرناہمارے ذِمَّہ ہے ۔” پھر اس جرأ ت مند ، مؤمنہ کو اُبلتے ہوئے تیل میں ڈال دیا گیا کچھ ہی دیر بعد اس کی ہڈیاں بھی تیل کی سطح پر تیرنے لگیں۔ 

حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ” نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم، شافعِ اُمَم رسولِ مُحتَشَم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:”شب ِ معراج، میں نے ایک بہترین خوشبو سونگھی تو کہا : اے جبریل (علیہ السلام)! یہ خوشبو کیسی ؟ کہا : فرعون کی بیٹی کی خادمہ اور اس کے بچو ں کی خوشبو ہے ۔”

(کنزالعمال، کتاب الفضائل،باب فی فضائل من لیسوا من الصحابۃ وذکرہم ،الحدیث ۳۷۸۳۴،ج۱۴،ص۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)

(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! کیسا پختہ ایمان تھا اس مؤمنہ،صابرہ و شاکرہ عورت کا کہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ایک ایک کر کے شہید ہوتا دیکھا لیکن پھر بھی اس کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی۔ خود اپنی جان دے دی لیکن ایمان کی دولت ہاتھ سے نہ جانے دی۔ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! جنہیں ایمان کی قدر معلوم ہوتی ہے وہ کسی بھی قیمت پر لمحہ بھر کے لئے ایمان نہیں چھوڑ تے، انہیں دین وایمان کی خاطر سرکٹا نے میں لذتِ ایمانی ملتی ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں جان دینا انہیں محبوب ہوتا ہے ، دنیا کی تمام مصیبتیں اور غم اس وقت کا فور ہوجائیں گے جب جنت کی نعمتوں میں غوطہ دیا جائے گا ۔

خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم ! اگر دنیا میں انسان کے پاس دنیوی نعمتوں کی بہت زیادہ کمی ہو لیکن ایمان کی دولت اس کے سینے میں ہو اور ایمان سلامت لے کر دنیا سے چلا جائے تو وہ کامیاب ہے۔ ہر مسلمان کو اپنے ایمان کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ گناہوں کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑجاتاہے۔ جب بھی کوئی گناہ سرزد ہوفوراً سچے دل سے تو بہ کرلینی چاہے ۔ہوسکے توسونے سے پہلے” صلوٰۃُ التوبہ” پڑھ لی جائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا ایمان سلامت رکھے اور اپنی دائمی رضا سے مالامال فرمائے اورسرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ ،صاحبِ مُعَطَّر پسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاسچا عشق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)