أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبُّكُمُ الَّذِىۡ يُزۡجِىۡ لَـكُمُ الۡفُلۡكَ فِى الۡبَحۡرِ لِتَبۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِهٖؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا ۞

ترجمہ:

تمہارا رب وہ ہے جو تمہاری لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارا رب وہ ہے جو تمہاری لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٦٦ )

اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں :

ان چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور توحید پر دلائل ذکر فرمائے ہیں اور اپنی قدرت، اپنی حکمت اور اپنی رحمت کا ذکر فرمایا ہے۔ ، اس آیت میں اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہے کہ اس نے سمدنر کو تمہارے سفر کے لیے مسخر کردیا تاکہ تم سمندری سفر کے ذریعہ دور دراز علاقوں میں جاسکو اور ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے کے لوگوں سے واقف ہوں، اور ان کی تہذیب اور تمدن سے آگاہ ہوں اور ان کی ضروریات سے مطلع ہو کر وہاں سامان تجارت لے جائیں اور اس طرح ان کی روزی اور معاش کا بندوبست ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 66