حدیث نمبر 262

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ ص میں سجدہ کیا اور فرمایا کہ حضرت داؤد نے توبہ کے طور پر یہ سجدہ کیا تھا اور ہم شکر کے طور پر یہ سجدہ کرتے ہیں ۱؎(نسائی)

شرح

۱؎ اس کا شکریہ کہ رب تعالٰی نے ان کی توبہ قبول فرمائی جیسے عید الاضحٰی کی نماز حضرت ابراہیم کی قربانی قبول ہونے کے شکر میں پڑھی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اہم واقعات کی یادگاریں منانا اور ان پر عبادتیں کرنا سنت سے ثابت ہے۔لہذا میلاد شریف گیارہویں شریف،عرس بزرگانِ دین منانا اور ان موقعوں پر نوافل،صدقات وغیرہ عبادتیں ناجائز نہیں ہوسکتیں۔