الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر 261

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ وَالنَّجْم پڑھی تو اس میں آپ نے بھی سجدہ کیا اور انہوں نے بھی جو آ پ کے ساتھ تھے ۱؎ ایک قریشی بڈھے کے سوا ء جس نے ایک مٹھی کنکریا مٹی اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگا لی اور بولا مجھے یہی کافی ہے ۲؎ عبداﷲ فرماتے ہیں میں نے بعد میں اسے دیکھا کہ کافر مارا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)اور بخاری نے اپنی روایت میں زیادہ کیا کہ وہ امیہ ابن خلف تھا ۴؎

شرح

۱؎ یعنی مؤمنین،مشرکین،انسان،جن جو بھی وہاں حاضر تھے سب سجدے میں گر گئے۔اس کی وجہ پہلے بیان ہوچکی کہ چونکہ سورۂ والنجم میں یہاں لات و عزیٰ کا بھی ذکر ہے۔اس لیے مشرکین نے ان کی تعظیم کرتے ہوئے سجدہ کیا یا اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت میں ایسی ہیبت تھی کہ مشرکین بھی بے اختیار سجدے میں گر گئے۔ یا اس وقت شیطان نے بتوں کی تعریف کی،مسلمان تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر سجدے میں گرے ا ور کفار شیطان کی آواز پر۔یہ محض باطل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر بے اختیار اس وقت بتوں کی آواز آگئی،نعوذ باﷲ،امام عسقلانی نے شرح بخاری میں شیطان والے قصہ کو ثابت کیا ہے،رب تعالٰی نے فرمایا:”اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہ”۔

۲؎ اس کی یہ حرکت غرور و تکبر کے لیے تھی کہ سب کے ساتھ میرا سجدہ کرنا میری شان کے خلاف ہے۱۲

۳؎ یعنی جن مشرکین نے آج سجدہ کیا تھا وہ سب بعد میں اسلام لے آئے جس نے سجدہ نہ کیا وہ کافر ہی مارا گیا۱۲

۴؎ جو بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں بری طرح مارا گیا جیسے یہ حضرت بلال کو برچھیوں اور نیزوں سے چھیدا کرتا تھا اسی طرح بدر میں صورت یہ بنی کہ اسے چھید چھید کر ہی مارنا پڑا کیونکہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایفائے عہد کرتے ہوئے اسے بچانے کے لیے خود کو اس کے اوپر ڈال دیا تھا اور اس کا بھائی ابی بن خلف جنگ احد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مارا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے صرف اسی کو قتل فرمایا ہے۱۲