شب قدر کی عظمت ملحوظ رکھیں!!

تحریر: انوارالحق قاسمی نیپالی
خالق لم یزل نے جس طرح تمام دنوں میں ،یوم آدینہ  کو اور تمام مہینوں میں، رمضان المبارک کے مہینے کو شرف و عزت اور سربلندی عطا کیا ہے، اس سے کہیں مستزاد "ليلة القدر "کو تمام لیالی کی بنسبت، غیر معمولی تفوق وبرتری سےسرفراز فرمایاہے،خودسرورکائنات محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:افضل اللیالی لیلةالقدر. عظمت و توقیر اوربزرگی  میں  تمام راتوں سے افضل و  متبرک شب قدر ہے ،شرف و مجد اور تکریم  وسربلندی اگر کسی شب کو حاصل ہے ،تووہ  صرف شب قدر کو حاصل ہے، شب قدر کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادات و اطاعات سے افضل و برتر ہے، ہزار ماہ کی مقدار تراسی سال کے بقدر ہوتی ہے ؛گویا فقط” شب قدر” کی عبادت کا مقام مرتبہ تراسی سال کی عبادات سے بڑھا ہوا ہے، شب قدر کی دیگر لیالی پرفضیلت یوں ہی نہیں؛ بل کہ اس شب کی نمایاں خصوصیات ہیں :وہ یہ کہ اسی شب میں قرآن کریم کا نزول ہوا ہے ،جو ساری دنیا کے لیے سراپا ہدایت ہے، جادہ مستقیم سے منحرف ہوئے شخص کے لئے ،راہ ہدایت پر آنے کا ایک انمول تحفہ ہے ، جس نے اس قرآن کو منزل من اللہ کتاب تسلیم کیا ،اور اس کے اوامر کو بجا لایا اور منہیات سے احتراز کیا ،وہ دنیا و آخرت میں فوز و فلاح سے ہم کنار ہوا ،اور جس نے اس سے اعراض کیا ،وہ دونوں جہاں میں ناکام و نامراد ہوا ،اسی طرح اس میں عام فرشتوں کے علاوہ، سید الملائکہ ،رفیق معراج، روح الامین حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان سے دنیا میں تشریف لاتے ہیں ، اورقادر مطلق کی اجازت سے، ہرروح کی جانب امور خیر لے کر نازل ہوتے ہیں، اور ہر ایک کو سعادت و بھلائی کی جانب مائل کرتے ہیں، اس شب کی اہمیت آشکارا کرتے ہوئے ،خداوندعالم نے اپنے ازلی و ابدی اور تاقیامت پیدا ہونے والے نوع انسانی کے لئے معجز”قرآن کریم "میں ارشاد فرماتے ہیں:إنا أنزلناه في ليلة القدر.  کہ  بے شک  ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل فرمایا ہے ،غافلین  اور بے پرواہ انسانوں کے ذہنوں کو بیدار کرنے، اور بیدار ذہنوں میں عظمت و سربلندی کا احساس پیدا کرنے کے لئے، باری تعالی نے سوالیہ لہجہ اختیار کیا، اور فرمایا:وما ادراك ما ليلة القدر.  آپ کو خبر بھی ہے کہ” شب قدر "کیا چیز ہے؟ خالق کائنات کا یہ سوالیہ لہجہ عظمت شب قدر کواجا گرکررہا ہے ،کہ دیکھو” شب قدر” کومعمولی راتوں کی مانند ،معمولی سمجھ کر ،معمول کے مطابق ہی مت گزار دینا ؛بل کہ اس کی فضیلت و اہمیت کے مدنظر اس شب، اور دیگر راتوں میں فرق ہونا چاہئے،  یہ پوری رات عبادت خداوندی اور ذکر الہی میں بسر کرو! اگر تمہیں نہیں معلوم، تو ہم بتائیں گے ،کہ  شب قدر کی کیا فضیلت ہے ؟ارشاد باری ہے:ليلة القدر خير من ألف شهر.  "شب قدر” ہزار مہینوں سے بہتر اور افضل ہے؛ گویا اگر ایک ہزار مہینوں کی راتوں کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے، اور پھر وہ تمام راتیں  ایک جگہ مل کر شب قدر کا مقابلہ کرنا چاہیں، تو وہ یقینا شکست سے دوچار ہوں گی ؛ کیوں کہ شب قدر کوئی عام شب نہیں ہے ، نزول ملائکہ کو بیان کرتے ہوئے، ارشاد باری ہے :تنزل الملائکة والروح فيها. کہ یہ وہ شب ہے جس میں، ملائکہ اور روح القدس اپنے پروردگار سے اجازت طلب کر کے نازل ہوتے ہیں، اس شب کی یہ خاصیت ہے ،کہ فلک نشیں ملائکہ بھی زمین پر نازل ہوتے ہیں؛ لہذا ہر مومن و مسلم کا فریضہ بنتا ہے،کہ  وہ ملائکہ کا استقبال کریں ،تاکہ وہ  انگشت بدنداں رہ جائیں، کہ خدا کے نیک بندے کتنی زیادہ عبارت انجام دیتے ہیں،  ایسا نہ ہو کہ وہ کف افسوس ملتے رہ جائیں، کہ جن بندوں کو، خدا وند عالم نے اپنی لاتعداد اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، وہ اپنے پروردگار کو کیسے بھول بیٹھے ہیں، اور شب قدر جیسی عظیم شب میں بھی، انہیں عبادت الہی سے زیادہ نیند عزیز اور محبوب ہے، شب قدر کو سلامتی کی رات بتاتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے:سلام هي حتى مطلع الفجر.  یہ رات سراپا  سلامتی اور بھلائی والی ہے، یعنی: یہ شب قدر غروب آفتاب سے لے کر ،طلوع  فجر تک ،ہر امیر غریب، بادشاہ و  فقیر، عالم وجاہل  کے اوپر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرتی رہتی ہیں؛ گویا اس رات میں عذاب الہی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، یہ بھی صرف اسی رات کی خصوصیت ہے، کہ اس شب میں مالک الملک نے اپنے بندوں کو اپنے قہر و غضب سے امان دی ہے ،یقینا یہ  بڑی خوش بختی کی بات ہے، خالق کے ہراس مطیع و فرمان بردار بندہ کے لئے،جو اپنی  زیست میں اس  عظمت والی رات کو پائے ،اور پھر اس کی عظمت کو ملحوظ رکھے، اور اس سے بڑا بداقبال اور محروم القسمت اس  کرہ ارضی پر کون  ہوسکتا ہے؟جو اس شب کو پائے اور پھر اس کی عظمت کو پامال  کردے، یعنی اس رات کو غیر معمولی اہمیت نہ دے،  اسی طرف مشیر ہے، یہ حدیث پاک:عن أنس رضي الله عنه قال دخل رمضان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان هذا الشهر فقد حضركم وفيه ليلة خير من ألف شهر من حرمها فقد حرم الخير كله ولايحرم خيرها إلا محروم.  حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی حدیث ہیں، وہ فرماتے ہیں :کہ ایک دفعہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا ،تو ختم المرسلین محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے اس کی اہمیت کے پیش نظر فرمایا: کہ اے لوگو! تم پر ایک غیر معمولی عظمت وفضیلت کاحامل  مہینہ ،اپنی تمام تر خیرات و برکات کے ساتھ سایہ فگن ہو چکا ہے، اور اس میں ایک ایسی شب ہے ،جو ہزار مہینوں سے زائد و مستزاد متبرک ہے، جو مسلمان اس سے محروم رہ گیا ،وہ خیر کثیر سے محروم ہوگیا، اور یہ بات بھی حاشیہ خیال میں بیٹھا لو! کہ اس میں بھلائی سے محروم صرف خفتہ اقبال  اور بد قسمت ہی شخص  ہوتا ہے۔
    یہ  رات کوئی آج سے نہیں ؛بل کہ چودہ صدیوں سے، حسب معمول آرہی ہے ،عہد نبی صلی اللہ وسلم میں بھی کئی بار آئی ہے؛ مگر فخر کائنات محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یوں ہی میٹھی نیند سو کر ضائع نہیں کر دیا؛ بل کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت واطاعت  کے اندر غیر معمولی جدوجہد کرتے، اور ریاضت و مجاہدہ کے لئے پوری طرح کمربستہ ہوجاتے اور شب زندہ داری کا ثبوت دیتے، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار مسلمانوں کو بھی چاہیے،کہ  رمضان المبارک کے آخری عشرے میں صلوات مفروضہ ،سنن موکدہ  اور نماز تراویح کے علاوہ نوافل کابھی کثرت سے اہتمام کریں، اور اس شب میں زیادہ سے زیادہ اس دعا کا ورد کرتے رہیں :اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عني. اے اللہ  تو معاف کرنے والاہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے؛ اس لیے ناچیز ،گناہکار، سیاہ کار کو بھی معاف فرما ،اس وقت تک دربار الہی میں اپنی جبین  نیاز کرکے بتضرع گڑگڑاتے اور خوب گریہ وزاری کرتے رہیں؛  تا آن کہ  رحمت خداوندی متوجہ  ہو کر گناہوں سے مجلی و مصطفی نہ کردے ۔
   شب قدر کی تعیین کی  بشارت وخوشخبری دینے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے،کہ یکایک  دیکھتے کیا ہیں،  کہ دو آدمیوں کے مابین معرکہ ،تنازع اور لڑائی جاری ہے، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ،حسرت و افسوس کے لہجہ میں فرماتے ہیں : کہ میں نے  تعیین شب قدر کی خوشخبری دینے آیا تھا ؛مگر اس سب  وشتم اور  جھگڑے کی بنا”تعیین” اٹھا لی گئی،  ممکن ہے عدم تعیین ہی میں مسلمانوں کیلئے بھلائی اور خیر ہو۔
    جمہور علماء کے نزدیک” لیلةالقدر ” رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں ،یعنی : 29/27/25/23/21 میں ہے ،اس کی دلیل و برہان اور حجت یہ حدیث ہے:عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تحرواليلة القدر في الوتر وفي العشر الأواخر من رمضان. ہے،اور اکثر  محدیثین 27ویں شب میں معتبر مانا ہے ،الغرض جو شخص بھی ،آخری  عشرہ کی راتوں میں، باری تعالی کی عبادت و اطاعت کرے گا ،وہ ضرور "شب قدر” پالے گا ۔
   اللہ تبارک و تعالی تمام مومنوں کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں خوب خوب اپنی عبادت و اطاعت کے لئے قبول فرمائے، آمین