عید الفطر کی نماز اور ہمارے مفتیان کرام

تعجب اور بہت تعجب کی بات
تحریر: قاضی مشتاق احمد رضوی نظامی
افسسوس ہوتا ہے ہمارے اُن اداروں کے تعلق سے کہ حکومت نے ابھی تلک عید کی نماز کو لیکر نہ کوئی اپنا فیصلہ سنایا ہے نہ کوئی سرکیولر جاری کیا ہے 
پہلے ہی  سے یہ چند ادارے اپنے لیٹر پیڈ استعمال کرکے دھڑادھڑ اپنے فیصلے فتووں کی شکل میں سناتے جارہے ہیں 
جیسے اس عید کی نماز کو لیکر کوئی فتووں کا مقابلہ ہورہا ہو
جب  بریلی شریف سے  کور میٹنگ بلا کر حکومت کو ایک میمورینڈم کی شکل میں اطلاع دی گئی ہے
 حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ جمعةالوداع اور عید کی نماز کو لیکر مسجدوں کو بحال کیا جائے 
کیا ہی اچھا ہوتا *بریلی شریف سے اٹھی اس آواز* کے ساتھ آواز ملاکر
 اپنے اپنے صوبہ کی حکومتوں سے مانگ کرتے کہ *عیدالفطر کے لئے مساجد* کی بحالی ہو
مگر یہ سب نہ کرکے پہلے ہی سی اس بات کی ترغیب دی جارہی ہے کہ عیدکی نماز کی بجائے اشراق پڑھ لو چاشت پڑھ لو اتنی رکعتیں وغیرہ
ذرا سی کوشش کریں تو عیدالفطر کی نماز عیداگاہیں یا مساجدوں میں پڑھنے کے لئے حکومتوں سے ہم سب منوا بھی سکتے ہیں 
*سارے مرکزی ادارے اپنے اپنے شہروں میں میٹنگیں کریں اور اپنی صوبہ کی حکومت کو لکھیں* 
کہ ہم ہر صورت *سوشیل ڈسٹینس مینٹیننس* کرکے سارے لاک ڈون کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے نماز عید *مسجدوں یا عیدگاہوں* میں ادا کرینگے 
جیسے بازاروں میں کپڑے کی دوکانوں میں شراب کی دوکانوں وغیرہ میں جس طرح لاک ڈون کے قوانین کے شرائط کے ساتھ کھول کر دن بھر تجارت کرنے کی اجازت دی گئی ہے 
اسی طرح چند شرائط کے ساتھ مساجد میں یا عیدگاہوں میں نماز عید پڑھنے کی اجازت دی جائے 
یہ سب نہ کرکے
ایسا لگ رہا ہے پہلےہی سے آپ لوگ حکومتوں کو  چوکنا کر رہے ہو کہ ہم عید کی نماز نہ پڑھ کے چاشت اشراق  پر اکتفا کرلینگے خود بتا رہے ہو کہ یہ کرو یہ نہ کرو عید کی نماز کیسے ہوگی کیسے نہیں ہوگی وغیرہ 
برائے کرم سارے اداروں کے سربراہوں سے راقم کی یہ گزارش ہے اسطرح کے خطوط جاری کرنے سے پہلے حکومتوں کو خطوط لکھ کر عید الفطر کی نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی جائے 
اور بتایا جائےکہ جس طرح آج تلک مسلمان لاک ڈون کے قوانین کی پابندی کرتے آئے ہیں  
 اسی طرح عید الفطر کے لئے جو شرائط حکومت کی جانب سے طیے ہونگے ان قوانین کی پابندی کرتے ہوئے عید کی نماز ادا کرینگے