أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖؕ فَرَبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَنۡ هُوَ اَهۡدٰى سَبِيۡلًا۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ اور مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے (تو اے مسلمانو) تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ ہدایت والے طریقہ پر ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ ہر شخص اپنے طریقہ اور مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے (تو اے مسلمانو) تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ ہدایت والے طریقہ پر ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٤)

نیکوں اور بروں پر قرآن مجید کے مختلف آثار :

الشاکلۃ کے معنی ہیں : طریقہ، مذہب، فطرت، مزاج، یعنی ہر شخص اپنی فطرت اور مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے، پس جن لوگوں کی روحین نیک اور پاک ہیں ان پر جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو ان میں قرآن مجید کے تقاضوں پر عمل کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی سرشت اور اٹھان توقوی اور طہارت پر ہوتی ہے اور جن کی روحیں ناپاک اور مکدر ہوتی ہیں ان پر جب قرآن پڑھا جاتا ہے تو ان میں گمراہی ور سرکشی کا اظہار ہوتا ہے، جیسے بارش اگر زرخیز زمین پر ہو تو اس میں سبزہ اور ہریالی اور زیادہ ہوتی ہے اور بنجر اور شور زمین پر ہو تو اس کی خرابی اور زیادہ ہوجاتی ہے۔

متقدمین کی پسندیدہ آیات :

حضرت ابوبکر نے فرمایا میں نے پورا قرآن اول سے آخر تک پڑھا مجھے جو آیت سب سے زیادہ اچھی لگی اور جس پر سب سے زیادہ بخشش کی امید ہے وہ یہ آیت ہے کل یعمل علی شاکلتی۔ ہر ایک اپنے طریقہ پر عمل کرتا ہے۔ بندہ کا طریقہ ہے گناہ کرنا اور اللہ کا طریقہ ہے معاف کردینا، حضرت عمر نے کہا میں نے پورا قرآن اول سے آخرتک پڑھا اور مجھے جو آیتیں اچھی لگیں اور جن سے مجھے مغفرت کی امید ہے وہ یہ آیتیں ہیں :

حم۔ تنزیل الکتاب من اللہ العزیز العلیم۔ غافر الذنب و قابل التوب شدید العقاب، ذی الطول لا الہ الا ھو، الیہ المصیر۔ (المومن : ٣۔ ١) حم۔ اس کتاب کا نزل فرمانا اللہ کی طرف سے ہے جو بہت غالب ہے علم والا ہے، گناہوں کو بخشنے والا ہے اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت عذاب والا ہے، بہت قدرت والا ہے، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے گناہوں کے بخشنے کو توبہ قبول فرمانے پر مقدم فرمایا ہے۔

حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا میں نے پورا قرآن اول سے آخر تک پڑھا مجھے جو سب سے اچھی اور سب سے زیادہ امید والی آیت لگی وہ یہ ہے :

نبئی عبادی انی انا الغفور الرحیم۔ (الحجر : ٤٩) میرے بندوں کو میرے متعلق بتایئے کہ بیشک میں بہت ہی بخشنے والا مہربان ہوں۔

اور حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا میں نے اول سے آخرتک پورا قرآن پڑھا مجھے جو آیت سب سے اچھی اور امید افزا لگی وہ یہ ہے :

قل یعباد الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا، انہ ھو الغفور الرحیم۔ (الزمر : ٥٣) آپ کہیے اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بہت بخشش اور بڑی رحمت والا ہے۔

علامہ قرطبی فرماتے ہیں میں نے سارا قرآن اول سے آخرت تک پڑھا ہے مجھے جو آیت سب سے زیادہ امید افزا لگی وہ یہ آیت ہے :

الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون۔ (الانعام : ٨٢) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک) کے ساتھ نہیں ملایا انہی کے لیے (عذاب سے) امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ٢٩٠، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

مصنف کی پسندیدہ آیت :

میں نے کئی بار قرآن مجید اول سے آخر تک پڑھا مجھے جو آیت سب سے زیادہ اچھی لگی وہ یہ ہے :

ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما۔ (النساء ؛ ١٤٧) اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ، اللہ شکر کی جزا دینے والا ہے اور بہت علم والا ہے۔

اور سب سے زیادہ امید افزا یہ آیت ہے :

وان ربک لذو مغفرۃ للناس علی ظلمھم وان ربک لشدید العقاب۔ (الرعد : ٦) اور بیشک آپ کا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود (یا دوران ظلم) بخشنے والا ہے اور بیشک آپ کا رب سخت سزا دینے والا ہے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کے بعد معاف کرنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ توبہ کے ذکر کے بغیر گناہ معاف کرنے کا ذکر فرمایا ہے۔ اور میرے حسب حال سب سے زیادہ پسندیدہ یہ آیت ہے جس کو میں سب سے زیادہ پڑھتا ہوں :

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ (الانبیاء : ٨٧) اے اللہ تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو سبحان ہے بیشک میں گنہگاروں میں سے ہوں۔

ار اس تفسیر کے قارئین سے بھی کہوں گا کہ وہ اس آیت کو زیادہ سے زیادہ پڑھا کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 84