نماز اور اسلامی تصور

علامہ قمرالزماں خان اعظمی

[سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن، لندن]

پیشکش: نوری مشن مالیگاؤں

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ۔[العنکبوت:آیت۴۵]

’’ بے شک نماز انسان کو تمام برائیوں اور بے شرمیوں سے منع کرتی ہے۔‘‘

آج کے دَور کا سب سے بڑا مسئلہ انسانی معاشرے میں پھیلی ہوئی وہ برائیاں اوربے حیائیاں ہیں جنہوں نے پوری دُنیا کو جہنم میں تبدیل کر دیاہے۔ دُنیا کی تمام متمدّن قومیں اس بات کی کوشش کر رہی ہیں کہ دُنیا سے برائیوں کا خاتمہ ہوجائے، مگر ہزاروں کوششوں کے باوجود برائیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں اور اب تو عالَم یہ ہے کہ برے انسانوں کی دست برد سے دُنیا کا کوئی فرد، کوئی سوسائٹی اور کوئی حکومت محفوظ نہیں ہے۔ حالاں کہ جرم وسزا کے موضوع پر لٹریچر کی بھرمار ہے۔ جاسوسی کا نظام؛ جرائم کو کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے۔ حکومتوں کے کارندے برائیوں کے خلاف مصروفِ عمل ہیں۔ مجرموں کے لیے قید وبند کے علاوہ ان کی اصلاح کے لیے ہزاروں سائنٹیفک طریقے ایجاد کر لیے گئے ہیں۔ جرم کی دریافت کے لیے ہزاروں مسلّح آنکھیں ہر وقت مصروفِ عمل ہیں۔ عقلاے روز گار اور دانش ورانِ عالَم برائیوں کے خلاف کتابوں کے انبار لگارہے ہیں، مگر ان تمام کوششوں کے باوجود برائیوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شر کی قوتوں نے پورے عالَمِ انسانی کو اپنے آ ہنی پنجوں میں جکڑ رکھا ہے، اور اس کی مضبوط گرفت کے نیچے ہر انسان کراہ رہا ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد اور انسانی دُنیا پر برائیوں کی یلغار آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے، جس کا جواب دُنیا کے پاس نہیں ہے مگر قرآن عظیم اس چیلنج کا جواب دے رہا ہے:

’’بے شک نماز انسان کو تمام برائیوں اور بے شرمیوں سے روک دیتی ہے۔‘‘ خداے واحد کی کتابِ مقدس نے دُنیا کے تمام جرائم، برائیوں اور بدکرداریوں کو ختم کرنے کے لیے -نماز- کا نسخہ تجویز فرمایا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن برائیوں کو پوری دُنیا اپنے تمام وسائل اور ذرائع کو بروے کار لاکربھی دور نہیں کرسکتی ان کو نماز کس طرح دور کرسکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ: دُنیا کی تمام کوششیں انسان کے ظاہری جسم کی پابندیوں سے متعلق ہیں، قیدوبند کی صعوبتیں ہوں یا قوانین کی زنجیریں، یہ سب انسانی دست وپاکو پابندِ سلاسل کرتی ہیں،مگر نماز قلبِ انسانی کو آراستہ کرتی ہے اور اس کے اندر پوشیدہ -خیر- کی قوتوں کو بیدار کرکے- شر-کا خاتمہ کرتی ہے۔

قلبِ انسانی ہی جملہ اعضا اور جوارح کو حکم دیتا ہے۔ قلبِ انسان حاکم ہے اور دیگر اعضا وجوارح محکوم ہیں۔ اگر اس کی اصلاح ہوجائے تو پورا جسم سنور جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان کا حملہ قلبِ انسانی پر سب سے پہلے ہوتا ہے۔ طبعی اعتبار سے قلب کا کام جسمِ انسانی میں خون کی سپلائی ہے لیکن اگر اس پر شیطان کا قبضہ ہوجائے تو خون کے ساتھ شر بھی انسانی رگ وپے میں سرایت کر جاتا ہے۔ حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الشیطان یجری فی الانسان مجری الدم۔

’’شیطان جسمِ انسانی میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ‘‘

لیکن جب نماز قلبِ انسانی کو شیطانی اثرات سے پاک کر دیتی ہے تو پھر شر کے بجائے خیر گردش کرتا ہے، اور انسان مجسمۂ خیر وخوبی بن جاتا ہے۔ حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جسمِ انسانی میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ سنورجائے تو پورا جسم سنور جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑجاتاہے آگاہ ہوجاؤ کہ وہ قلب ہے۔‘‘

ایک دفعہ حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم؛ صحابۂ کرام کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے تھے، آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ باری باری ایک پتھر کو دھکا دے رہے ہیں۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ: تم لوگ اس پتھر کو کیوں دھکا دے رہے ہو، تو اُنہوں نے عرض کی: تاکہ ہم جان لیں کہ ہم میں سب سے زیادہ طاقت ور کون ہے۔ حضور نے ارشاد فرمایا:

الشدید من غلب علٰی نفسہ۔

’’طاقت ور وہ ہے جو اپنے دل کو قابو میں کرلے۔‘‘

دل قابو میں ہو تو جسم کی طاقت کم زوروں کو سہارا دینے اور گرے ہوئے لوگوں کو اُٹھانے میں صرف ہوگی اور اگر نفس قابو میں نہ ہو تو تمام توانائیاں غریبوں کے استحصال اور بے کسوں کو تباہ کرنے میں خرچ ہوں گی۔ پتا چلا کہ قلبِ انسانی خیر وشر کا منبع ہے اور نماز قلب ِانسانی کو شرسے پاک وصاف کرکے خیر کی آماج گاہ بنادیتی ہے۔

نماز گناہوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ارأیتم لو ان نھرًا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یومٍ خمسًا ھل یبقٰی من درنہ شیٌٔ قال فذا لک مثل الصلوٰۃ الخمس یمحواللّّٰہ بھن الخطایا۔[بخاری و مسلم]

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک دریا ہو ا وروہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اُس کے بدن پر کوئی مَیل باقی رہ جائے گا؟ حضور نے فرمایا: یہی مثال پانچ وقت کی نمازوں کی ہے۔ اللہ ان نمازوں کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔

اسلام میں جزا اور سزا کا قانون نافذ ہے۔ قرآن عظیم میں صراحۃً ارشاد فرمایا گیا:

وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ وَمَنْ یَّعْمَلْ مَثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ [الزلزال:آیت۷۔۸]

’’انسان اس دُنیا میں جوکچھ کرے گا آخرت میں اسی کا بدلہ دیا جائے گا۔‘‘

اس سلسلے میں خداے شہید وبصیر جو کائنات کے ذرّے ذرّے کا مشاہدہ کر رہا ہے اور کائنات کی ہر شے اُس کی نگاہِ قدرت کے سامنے ہے۔ اس نے اپنے بندے کو مطمئن فرمانے کے لیے یہ اہتمام فرمایا ہے کہ کراماً کاتبین نامۂ اعمال مرتب کر رہے ہیں۔ اعضاے جسمِ انسانی اپنے کرتوتوں کی گواہی دیں گے، فرشتے، کتابِ الٰہی، اعمال اور زمینِ عمل یہ سب گواہ ہوں گے تاکہ بندہ کہیں یہ نہ محسوس کرے کہ اس کو سزا اس کے گناہوں کے تناسب سے زیادہ دی جارہی ہے۔ جزا اور سزا کے اسی قانون کے پیشِ نظر حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید وبصیر بناکر بھیجا گیا ہے۔ مسیحی اپنے پیغمبر کو صرف بشیر مانتے ہیں اور یہودی صرف نذیر، مگر حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم بشیر ونذیر دونوں ہیں۔ قرآن عظیم میں کہیں ان کی مبشرانہ حیثیت کو پیش کیاگیا ہے اور کہیں وہ منصبِ انذار پر فائز نظر آتے ہیں، کہیں وہ اعمالِ حسنہ کی جزا کے طورپر جنت کی بشارت دیتے ہیں اور کبھی وہ بداعمالیوں کی سزا کے نتیجے میں دوزخ کے درد ناک عذاب سے ڈراتے ہیں۔

حضور کا بشیر ونذیر ہونا اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ اسلام میں جزا اور سزا کا قانون نافذ ہے، یہی اصل ہے اور اسی کے مطابق فیصلے ہوں گے۔

انسان بشارتوں کے نشے میں مدہوش ہوکر انجام سے بے خبر گناہوں میں ڈوبتا چلا جائے گا۔وہ یہ یقین کر لے گا کہ خواہ ہم کچھ بھی کریں محض ایک بار صلیبِ مسیح کے سامنے اعترافِ گناہ ہمیں گناہوں سے بچالے گا اور صرف انذاربھی جہنم سے نہیں بچاسکتا اس لیے کہ انذارِ محض کے بطن سے مایوسی جنم لیتی ہے، اور انسان یہ سوچ لے گا کہ گناہ تو ہوچکے اب اگر جنت سے محرومی مقدر بن چکی ہے تو دُنیاوی لذتوں سے کیوں دست کش ہوا جائے۔ اس طرح اللہ کی رحمت سے مایوسی اُس کو جہنم میں پہنچا دے گی۔ لیکن انسان جب مغفرت کی اُمید اور سزا کا خوف دونوں رکھے گا تو پھر اُس کے قدم صراطِ مستقیم پر گام زَن ہوں گے۔ یہی میزانِ عدل ہے اور اسی کے بارے میں حضور نے ارشاد فرمایا:

الایمان بین الخوف والرجا۔

’’ایمان امید وبیم کے درمیان ہے۔‘‘

اگرچہ اسلام نے بداعمالیوں کی بڑی سخت سزائیں مقرر کی ہیں، مگر بے شمار ایسے مواقع عطا فرمائے گئے ہیں جہاں انسان اپنے رب کے حضور میں رحمت کا طلب گار ہوکر اپنے گناہوں کی مغفرت کرا سکتا ہے۔ انہیں منجیات میں سے نماز بھی ہے۔ مندرجہ بالا حدیث پاک میں نماز کو دریاے رحمتِ الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی ایک انسان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ دریاے رحمتِ الٰہی میں غوطہ زَن ہوتا ہے، اور جو رحمتِ الٰہی کے دریا میں غوطہ زَن ہو اُس کے جسم پر گناہوں کی کثافت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضور سیّد عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج مبارک یہ تھا کہ بعض وقت تکوینی حقائق کا مشاہدہ کرانے کے بعد اللہ کے انعام و اکرام کو ذہنِ انسانی میں منتقل فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک بار حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درخت کی خزاں رسیدہ شاخ کو اپنے دستِ کرم سے ہلایا تو اُس کے خزاں رسیدہ پتّے زمین پر بکھر گئے اور شاخ عُریاں ہوگئی۔ آپ نے صحابۂ کرام کو مخاطب کرکے فرمایا کہ: جس طرح اس شاخ کے ہلانے سے درخت کے پتّے جھڑ گئے ہیں اسی طرح نماز سے انسان کے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔

حدیثِ پاک کا صحیح ذوق رکھنے والا یہ نتیجہ ضرور اَخذ کرے گا کہ جب تک خزاں رسیدہ پتّے جھڑنہ جائیں درخت پر نئے برگ وبار نہیں آسکتے جو بہار کی ضمانت ہیں۔ اسی طرح جب تک گناہوں کے خزاں رسیدہ پتّوں کو نماز کی تحریک سے جھاڑنہ دیا جائے اُس وقت تک حیاتِ انسانی کے چمن میں بہار نہیں آسکتی اور جب خزاں کے پتّے جھڑجائیں گے تو اعمالِ حسنہ کے شاداب برگ وبار انسانی زندگی کو جنت کی بہاروں سے ہم کنار کر دیں گے، جہاں کبھی خزاں نہ آئے گی۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصل بہار ہے؛ اصل خزاں نہیں ہے، یعنی اعمالِ حسنہ ہی اصل ہیں۔ انسان فطرتِ اسلامیہ پر پیدا کیا گیا ہے، ہاں کبھی کبھی گناہوں کی بادِ سموم چلتی ہے تو شجرِحیات مُرجھا جاتا ہے مگر اس کو دوبارہ بہارِ جاوداں سے ہم کنار کرنے کے لیے نماز کا پابند بننا پڑے گا۔

تارکِ نماز اللہ کے ذمّۂ کرم سے دور ہوجاتاہے: قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تترکن صلٰوۃ مکتوبۃ متعمدًا فان من ترک صلوٰۃ مکتوبۃ فقد برئَ ت منہ ذمۃ اللّٰہ۔

’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قصداً فرض نمازیں ہر گزمت چھوڑو اس لیے کہ جو جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑتا ہے اُس کو اللہ اپنے ذمّۂ رحمت سے دور کردیتا ہے۔‘‘

اس حدیث کے راوی حضرت سیّدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ یہ ایک طویل حدیث کا ایک حصہ ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو چند اہم باتوں کی وصیت فرمائی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ: خبردار نماز کو قصداً مت چھوڑنا ورنہ اللہ تم سے بری الذمہ ہوجائے گا۔حدیث پاک میں یہ لب ولہجہ اس وقت اختیار فرمایا جاتا ہے جب اللہ رب العزت کی انتہائی ناراضی کو واضح کرنا مقصود ہو۔ انسان نماز کے ذریعے اپنے قلب کے اندر مخفی ایمان کی عملی تصدیق کرتا ہے کہ اگر وہ خدا پر یقین رکھتا ہے تو اُس کا سجدہ ضرور کرے گا۔ اگر وہ جنت ودوزخ پر یقین رکھتا ہے تو نماز کے ذریعے جنت کے حصول اور جہنم سے بچنے کی ضرور کوشش کرے گا۔ نماز پڑھنے سے اُن تمام عقائد کی عملی تصدیق ہوتی ہے جو قلبِ انسانی کے اندر پوشیدہ ہیں، گویا نماز ایمان کے صحت مند بیج کا حسین وجمیل پودا ہے۔

نماز کی ادائیگی اگر گناہوں سے مغفرت اور حصولِ جنت کا ذریعہ ہے تو ترکِ نماز عذاب ِالٰہی اور جہنم کا موجب ہے۔ انسان کی آخری امید اللہ رب العزت کا کرم اور اُس کی بخشش ہے، مگر وہ انسان کتنا بدنصیب ہے جس کے بارے میں رحمت عالَم صلی اللہ علیہ وسلم یہ خبر دیں کہ: وہ اللہ کی رحمت سے دور کردیا گیا ہے اور اب آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

نماز جہاں انسان کو قربِ خداوندی کے شرف سے نوازتی ہے، وہیں آخرت کی کامیابیوں کی ضمانت بھی ہے۔ نماز انسان کے اندر پوشیدہ خیر کی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے والی ہے، اس لیے کہ انسان خیر پر پیدا کیا گیا ہے۔ کل مولود یولد علی الفطرۃ الاسلامیۃ لیکن کبھی کبھی شَر کی قوتیں غالب آجاتی ہیں اور انسان اپنی فطرتِ اولیٰ سے بغاوت کرکے فطرتِ ثانیہ پیدا کرلیتا ہے۔ انسان اگر نماز کا پابند ہوجائے تو وہ فطرتِ اصلیہ کی طرف لوٹ آتا ہے، لیکن جو بدنصیب اللہ کی تخلیق کر دہ فطرت سے انحراف کرکے برائی کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ اس دُنیا میں بھی اللہ کے کرم، اس کی بخشش اور عطا سے محروم رہتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے جہنم کے درد ناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

[اخذ و ترجمہ از: ریاض الصا لحین للعلامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ]

٭٭٭

[ماخوذ: مقالاتِ خطیب اعظم، مرتب غلام مصطفی رضوی، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی]


ماہ رمضان المبارک 1441ھ