نہ بنیں نادان اور مان لیں یہ احسان

فقیر تقویت ثبوت کی خاطر عربی اور جملہ مصادر لکھتا ہے ۔ اُردو خوان صرف اردو پڑھ لیں لیکن مکمل تحریر پڑھیں ۔ اصلاح کا بہت بڑا حصہ اس میں ہے ۔

🌺 ابو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان الهيثمي(735 هـ – 1335 / 807 هـ – 1405) بڑے پائے کے محدث گذرے ہیں ۔ حافظ ( قرآن و حدیث ) زین الدین العراقی کے قابل فخر شاگرد اور داماد ہیں۔ اور ایک اور حافظ ابن حجر العسقلانی کے قابل قدر شیخ ہیں ۔ آپ کی تصانیف میں سے : *مجمع الزوائد ومنبع الفوائد *** بڑی مقبول ، متداول اور معتمد کتاب ہے جو آپ کی اس جد وجہد کا شاہکار ہے جو آپ نے “مسند الإمام أحمد بن حنبل”، و”مسند أبي يعلى الموصلي”، و”مسند البزار” اور الطبراني کی تینوں معاجم کی مرویات کے تفحص و تحقیق و تنقید میں کی ہیں ۔

محدثین کرام عليهم رحمة الرحمان اپنی کتب میں جو باب قائم کرتے ہیں وہ دعوی ہوتا ہے اور اس کے ذیل میں درج احادیث دلائل کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

اب ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ درج ذیل احادیث سے حضرت امام ھیثمی نے کیا سبق مستنبط کیا ہے

🥀 باب لولا أهل الطاعة هلك أهل المعصية ۔

باب : اگر اہل اطاعت نہ ہوتے تو اہل معصیت ہلاک ہو جاتے ۔

🏵 اور یہ مشاہدہ تو آپ کو بخوبی ہے کہ زیادہ تر اہل اطاعت ربانی کس طبقہ میں ہوتے ہیں ؟

کس ماحول میں زندگیاں بسر کرتے ہیں؟

کس حلیہ میں ہوتے ہیں؟

ان کی زبانوں پر کیا ہوتا ہے ؟

17690- أبو هريرة رضى الله عنه و ارضاه عنا سے مروی ، نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے :‏

‏”‏مهلاً فإن الله تبارك وتعالى شديد العقاب، فلولا صبيان رضع ورجال ركع وبهائم رتع صب عليكم العذاب – أو أنزل عليكم العذاب – ‏”‏‏.‏

رواه البزار والطبراني في الأوسط إلا أنه قال‏:‏

‏”‏لولا شباب خشع وشيوخ ركع وأطفال رضع وبهائم رتع لصب عليكم العذاب صباً ثم لرض رضاً‏”‏‏.‏ وقال‏:‏ ‏”‏مهلاً عن الله مهلاً‏”‏‏.‏

وأبو يعلى أخصر منه، وفيه إبراهيم بن خيثم وهو ضعيف‏.‏

📌مجموعی طور پر اس میں 3 حدیثیں ہیں

17691- وعن مسافع الديلي قال‏:‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم‏:‏

‏”‏لولا عباد لله ركع وصبية رضع وبهائم رتع لصب عليكم العذاب صباً ثم رض رضاً‏”‏‏.‏

رواه الطبراني في الكبير والأوسط وفيه عبد الرحمن بن سعد بن عمار وهو ضعيف‏.‏ ۔

⚘ان تمام کا خلاصہ یہ ہے کہ

اللہ تبارک و تعالی کے معاملے میں جلد بازی نہ کرو ۔ زیادہ شوخے اور تیز طرار نہ بنو ۔ اللہ تبارک و تعالی شدید سزا دینے والا ہے

اگر دودھ پیتے بچے ، خشوع رکھنے والے نوجوان ، رکوع کرنے والے مرد اور بابے ، اور چرنے پھرنے والے جانور نہ ہوتے تو اللہ کی طرف سے تم پر شدید عذاب نازل ہوتے اور تمہیں تہس نہس کر دیا جاتا ۔

🌱 مزید فائدہ کے لیئے ملاحظہ درج ذیل احادیث اور ان کے مصادر ملاحظہ فرمائیں ۔

(1) – مهلًا عن اللهِ مهلًا ، فإنَّهُ لولا شبابٌ خُشَّعٌ ، وبهائمٌ رُتَّعٌ ، وشيوخٌ رُكَّعٌ ، وأطفالٌ رُضَّعٌ ، لصُبَّ عليكمُ العذابَ صبًّا

الراوی : أبو هريرة | المحدث : البيهقي |

المصدر : السنن الكبرى للبيهقي

الصفحة أو الرقم: 3/345 |

خلاصة حكم المحدث : [فيه] إبراهيم بن خثيم غير قوي، وله شاهد بإسناد آخر غير قوي

: أخرجه البزار (8146)، وأبو يعلى (6402) باختلاف يسير، والبيهقي (6617) واللفظ له

(2) – لولا عبادٌ للهِ رُكَّعٌ ، وصبيةٌ رُضَّعٌ ، وبهائمٌ رُتَّعٌ ، لصُبَّ عليكم العذابَ صبًّا ، ثم لرُضَّ رضًّا

الراوي : مسافع الديلي أبو عبيدة | المحدث :البيهقي ۔

| المصدر : السنن الكبرى للبيهقي

الصفحة أو الرقم: 3/345 |

خلاصة حكم المحدث : إسناده غير قوي

التخريج : أخرجه ابن أبي عاصم في ((الآحاد والمثاني)) (965) واللفظ له، والطبراني (22/309) (785)، وابن عدي في ((الكامل في الضعفاء)) (4/314 )

(3) الطبراني نے الكبير ، البيهقي نے السنن میں، االغزالی نے احیاء میں مانع الديلمي رضي الله تعالى عنه سے روایت ہے ۔

🌷 : قال النبي صلى الله عليه واله وسلم :

((لولا عباد لله ركع وصبية رضع وبهائم رتع لصب عليكم العذاب صباً ثم رضّ رضا)

⚘مفہوم اوپر گذر چکا ہے ۔

✏بر حذر باش ز دود نفس مسکینان

که چنین دود هم از شعلهٔ ناری باشد

خاکساران چنین را به حقارت منگر

تو چه دانی که در آن گرد سواری باشد؟

( اوحدی مراغی )

یعنی

مسکینوں کی سانسوں کے دھوئیں سے بھرپور احتیاط کرتے رہو ۔ کہ ایسا دھواں ، آگ کے کسی شعلہ کا ہی ہوتا ہے

اس طرح کے خاک نشینوں کو حقارت سے نہ دیکھو ، تمہیں کیا خبر کہ دور اٹھتی ہوئے گرد و غبار میں کوئی شہ سوار ہو۔

🤲فقیر خالد محمود

ادارہ معارف القرآن کشمیر کالونی کراچی ۔

22 رمضان المبارک 1441 ھ

16 اپریل 2020