أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَى الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ‌ۚ وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـئُوۡسًا ۞

ترجمہ:

اور جب ہم انسان کو کوئی انعام دیتے ہیں تو وہ (بجائے شکر کے) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے، اور جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم انسان کو کوئی انعام دیتے ہیں تو وہ (بجائے شکر کے) منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو تہی کرتا ہے، اور جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٣)

انسان کا کمزور دل اور ناشکرا ہونا :

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ نوع انسان کے اکثر افراد کا یہ حال ہے کہ جب انہیں اپنا مقصود حاصل ہوجاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی عبادت سے غافل ہوجاتے ہیں اور بغاوت اور سرکشی پر اتر آتے ہیں، اور جب اللہ تعالیٰ ان کی ناشکری کی وجہ سے ان سے وہ نعمت چھین لیتا ہے یا ان کے ظلم اور جرم کی پاداش میں ان پر کوئی مصیبت نازل کرتا ہے تو پھر وہ مایوس ہوجاتے ہیں جیسا کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

فاما الانسان اذ امابتلہ ربہ فاکرمہ ونعمہ فیقول ربی اکرمن۔ واما اذا ما ابتلہ فقدر علیہ رزقہ فیقول ربی اھانن۔ (الفجر : ١٥، ١٦) پس جب انسان کا اس کا رب امتحان لیتا ہے اور اس کو عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت دار بنایا۔ اور جب اس کا رب اس کی آزمائش کرتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردتیا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری اہانت کی۔

ان الانسان خلق ھلوعا۔ اذا مسہ الشر جزوعا۔ واذا مسہ الخیر منوعا۔ (المعارج : ٢١۔ ١٩) انسان بہت کمزور دل بنایا گیا ہے۔ جب اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو گھبرا جاتا ہے۔ اور جب اسے راحت پہنچتی ہے تو وہ بخل کرنے لگتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 83