أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَسۡتَفِزُّوۡنَكَ مِنَ الۡاَرۡضِ لِيُخۡرِجُوۡكَ مِنۡهَا‌ وَاِذًا لَّا يَلۡبَـثُوۡنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک قریب تھا کہ وہ اس زمین سے آپ کے قدم ڈگما دیں تاکہ آپ کو اس سے باہر کردیں، پھر یہ بھی آپ کے بعد بہت کم عرصہ ٹھر پاتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک قریب تھا کہ وہ اس زمین سے آپ کے قدم ڈگما دیں تاکہ آپ کو اس سے باہر کردیں، پھر یہ بھی آپ کے بعد بہت کم عرصہ ٹھر پاتے۔ آپ سے پہلے جو ہم نے رسول بھیجے تھے ان کے لیے بھی یہی دستور تھا، اور آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٧٦، ٧٧)

فتح مکہ سے قرآن مجید کی پیش گوئی کا پورا ہونا :

آیت ٧٦ کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ قتادہ نے کہا یہ اہل مکہ تھے جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا اور اگر وہ ایسا کرتے تو پھر ان کو مہلت نہ دی جاتی، یعنی وہ بھی مکہ میں نہ رہ سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو نکالنے سے روک دیا، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے خود آپ کو مکہ سے نکلنے کا حکم دیا۔

پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ سے جانے کے بعد یہ بہت کم عرصہ مکہ میں رہ سکے، حتی کہ جنگ بدر میں کافی مشرکین مارے گئے اور کافی قید ہوگئے، پھر آٹھ سال بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کو فتح کرلیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا پھر یہ بھی بہت کم عرسہ مکہ میں ٹھہر پاتے، شروع میں تو یہ صرف ایک دھمکی معلوم ہوتی تھی، مگر تقریبا نو سال کے عرصہ کے بعد یہ پیش گوئی حرف بہ حرف صادق ہوگئی، اس سورت کے نازل ہونے کے ایک سال بعد ہی مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ سے ہجرت پر مجبور کردیا اور اس کے آٹھ سال بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاتحانہ شان سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور پھر دو سال بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اعلان فرما دیا کہ جزیرہ عرب میں کوئی مشرک اور بت پرست نہیں رہے گا اور سرزمین حجاز مشرکین کے وجود سے پاک کردی گئی اور اب تک حرم کی حدود میں کوئی مشرک داخل نہیں ہوسکتا، مشرکین نے مکہ مکرمہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود گارہ نہ کیا تھا لیکن اس کے کچھ عرسہ بعد آپ اور آپ کے پیروکار مکہ معظمہ پر قابض ہوگئے اور مشرکین کو قیامت تک کے لیے مکہ مکرمہ سے نکال دیا گیا اور یوں قرآن مجید کی یہ پیش گوئی نہایت آب و تاب سے پوری ہوگئی۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کا اللہ تعالیٰ کے دستور کے موافق ہونا :

اس آیت کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے : حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو یہود نے آپ سے حسد کیا اور انہیں آپ کا قرب ناگوار ہوا، انہوں نے آپ سے کہا اے ابو القاسم ! انبیاء (علیہم السلام) تو صرف شام میں بھیجے گئے تھے اور وہی مقدس سرزمین ہے اور وہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مسکن ہے، اگر آپ شام چلے گئے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی پیروی کریں گے، اور ہمیں معلوم ہے کہ ملک شام جانے سے آپ کو صرف رومیوں کا خوف مانع ہے، اگر آپ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی رومیوں سے حفاظت کرے گا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ سے چند میل دور تک روانہ ہوئے اور ذوالحلیفہ تک پہنچ گئے اور آپ کے اصحاب بھی وہاں جمع ہوگئے اور لوگوں نے دیکھا کہ آپ نے شام کی طرف جانے کا عزم کرلیا ہے کیونکہ آپ اس پر حریص تھے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین میں داخل ہوجائیں، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ واپس مدینہ لوٹ آئے۔

پہلے قول کی تقدیر پر یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور دوسرے قول کی تقدیر پر یہ آیت مدنی ہے اور پہلا قول راجح ہے کیونکہ یہ سورج مکی ہے اس آیت کے مکی ہونے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے : اور بیشک قریب تھا کہ وہ اس زمین سے آپ کے قدم ڈگمگا دیں تاکہ آپ کو اس سے نکال باہر کردیں۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ نے آپ کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا تھا لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اور ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ کو مکہ سے باہر نکال دیا تھا :

وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک اھلکنھم فلا ناصر لھم۔ (محمد : ١٣) کتنی ہی بستیوں کو جو آپ کی اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس نے آپ کو نکال باہر کیا تھا، ہم نے ان بستی والوں کو ہلاک کردیا اور ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔

سورة بنی اسرئیل کی زیر تفسیر آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین آپ کو مکہ سے نہیں نکال سکتے تھے، اور سورة محمد کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے آپ کو مکہ سے نکال دیا تھا اور یہ واضح تعارض ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین کے نکالنے کی وجہ سے مکہ سے نہیں نکلے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنے کا حکم دیا تھا آپ اس حکم کی تعمیل میں مکہ سے باہر آئے، اور سورة محمد میں جو فرمایا ہے اس بستی نے یا اس بستی والوں نے آپ کو نکال دیا یہ اسناد ظاہری اور صورتی اعتبار سے ہے، کیونکہ بظاہر مکہ کے مشرکین نے آپ کو نکالا تھا، اور حقیقتا آپ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ سے باہر آئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ یہی سنت رہی ہے کہ نبی کے وطن میں اس کے مخالفین اس کو وطن سے ہجرت پر مجبور کردیتے ہیں، پھر کچھ عرصہ بعد نبی فاتحانہ شان سے وطن لوٹتا ہے، اور اس کے مخالفین کو شکست فاش ہوجاتی ہے جسے حضرت موسیٰ نے مصر سے مدین کی طرف ہجرت کی اور پھر مصر واپس آئے اور آپ کے دشمن فرعون اور قبطیوں کو شکست فاش ہوئی، اسی طرح آپ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ ہجرت کی اور پھر فاتحانہ شان سے مکہ واپس آئے اور قیامت تک کے لیے مشرکین کا مکہ میں ٹھہرنا ممنوع ہوگیا۔ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے کہ جس قوم نے اپنے نبیوں کو قتل یا جلا وطن کیا، پھر وہ قوم اپنے وطن میں زیادہ عرصہ نہ ٹھہر سکی، پھر یا تو وہ عذاب الہی میں ۃ لاک کردی گئی جیسے حضرت لوط کی قوم، یا اس کی دشمن قوم کو اس پر مسلط کردیا گیا جیسے بنی اسرائیل یا اس قو وم کو خود اس نبی یا اس کے پیروکاروں نے مغلوب کردیا جیسے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار مکہ کو مغلوب کردیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 76