أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَـفۡتِنُوۡنَكَ عَنِ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِىَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ‌ ‌ۖ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور قریب تھا کہ وہ آپ کو اس چیز سے لغزش دے دیتے جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے علاوہ کوئی اور بات ہم پر گھڑ دیں اور تب یہ لوگ ضرور آپ کو اپنا دوست بنا لیتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور قریب تھا کہ وہ آپ کو اس چیز سے لغزش دے دیتے جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے علاوہ کوئی اور بات ہم پر گھڑ دیں اور تب یہ لوگ ضرور آپ کو اپنا دوست بنا لیتے۔ اور اگر (بالفرض) ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف تھوڑا سا مائل ہوجاتے۔ تو اس وقت ہم آپ کو دنیا کی زندگی میں دگنا مزہ چکھاتے اور دگنا مزہ موت کے وقت، پھر آپ ہمارے خلاف اپنا کوئی مددگار نہ پاتے۔ (بنی اسرائیل : ٧٥۔ ٧٣)

کفار کی فرمائشوں کے متعلق اقوال :

ان آیات کے شان نزول میں حسب ذیل روایات ہیں :

١۔ عطا نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ثقیف کا وفد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہا : ہمیں ایک سال تک لات کی عبادت کرنے دیں اور ہماری وادی کو بھی اسی طرح حرم بنادیں جس طرح مکہ حرم ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکار کیا تو انہوں نے اپنے سوال پر بہت اصرار کیا اور کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ عرب والوں کو ہماری فضیلت کا علم ہوجائے، اگر آپ کو یہ خطرہ ہو کہ عرب کہیں گے کہ آپ نے ان کو وہ چیز دے دی جو ہمیں نہیں دی، تو آپ یہ کہیں کہ مجھے اللہ نے یہ حکم دیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور ان کے دلوں میں طمع آگئی۔

٢۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہمیں ایک سال کی مہلت دے دیں، پھر ہم اسلام لے آئیں گے اور اپنے بتوں کو توڑ دیں گے سو آپ کو انہیں مہلت دینے کا خیال آیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔

٣۔ قتادہ نے کہا ایک رات قریش نے خلوت میں آپ سے ملاقات کی صبح تک آپ سے باتیں کرتے رہے اور آپ کی بہت تعظیم و تکریم کرتے رہے، قریب تھا کہ آپ بعض چیزوں میں ان کی موافقت کرلیتے لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔

٤۔ زجاج نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا، ان غلاموں اور پس ماندہ طبقوں کے لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیجیے، ان سے بھیڑ بکریوں کی بو آتی ہے، تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ سکیں اور آپ کی باتیں سن سکیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیال آیا کہ ان کی بات مان لی جائے ہوسکتا ہے اس سے یہ لوگ مسلمان ہوجائیںَ (زاد المسیر، ج ٥ ص ٦٧، ٦٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ثابت قدم رکھنے کی توجہیات :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر (بالفرض) ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف تھوڑا سا مائل ہوجاتے۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا یہ آیت اس موقع کی ہے جب آپ نے ان کی باتوں کے جواب میں سکوت فرمایا اور اللہ تعالیٰ آپ کی نیت کو خوب جاننے والا ہے۔

ابن الانباری نے کہا ظاہر میں یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فعل ہے اور باطن میں مشرکین کا فعل ہے اور اصل میں معنی اس طرح ہے کہ قریب تھا کہ وہ آپ کو اپنی طرف مائل کرلیتے، اور آپ کی طرف اپنی خواہشوں کو منسوب کردیتے، جن کو آپ ناپسند کرتے تھے، اور جب التباس اور اشتباہ کا خطرہ نہ ہو تو فعل کا فاعل کے غیر کی طرف منسوب کردیتے ہیں جیسے کوئی شخص دوسرے سے کہے لگتا ہے آج تو اپنے آپ کو قتل کردے گا، اور اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے لگتا ہے آج تو ایسا کام کرے گا جس کی وجہ سے تیرا دشمن تجھے قتل کردے گا۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٦٨، مطبوعہ بیروت)

القشیری نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان کی موافقت کرنے کا بالکل خیال نہ تھا اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر بالفرض آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو آپ ان کی موافقت کی طرف میلان کرتے، لیکن اللہ کا فضل آپ کے شامل حال رہا اور آپ نے ایسا بالکل نہیں کیا، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں لیکن اس آیت میں امت کے لیے یہ تعریض ہے اور ان کو یہ بتانا ہے کہ ان میں سے کوئی شخص مشرکین کے احکام کی طرف ہرگز مائل نہ ہو، پس نسبت آپ کی طرف ہے اور مراد آپ کی امت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠ ص ٢٦٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

آپ کو دگنا مزہ چکھانے کی توجیہات :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تو اس وقت ہم آپ کو دنیا کی زندگی میں دگنا مزہ چکھاتے اور دگنا مزہ موت کے وقت۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معصوم ہیں لیکن اس آیت میں تعریض ہے اور آپ کی امت کو ڈرایا گیا ہے تاکہ مومنین میں سے کوئی شخص بھی اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی شرائع میں کسی مشرک کی طرف مائل نہ ہو۔ (زاد المسیر ج ٧ ص ٦٩، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ کلام ہے کہ اگر بہ فرض محال آپ کفار کی خواہشوں کو مان لیتے اور ان کی طرف مائل ہونے کا ارادہ کرلیتے اور اس اقدام کی وجہ سے آپ اس عذاب سے دگنے عذاب کے مستحق ہوتے جو کسی مشرک کو دنیا کی زندگی میں اور آخرت کی زندگی میں دیا جاتا ہے اور اس عذاب کو دگنا کرنے کا سبب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ نعمتیں عطا فرماتا ہے تو ان کے گناہ بھی بہت بڑے ہوں گے، اور ان گناہوں کی سزا بھی بہت بڑی ہوگی۔ اور اس کی نظیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرماتا ہے :

ینساء النبی من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضعف لھا العذاب ضعفین۔ (الاحزاب : ٣٠) اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو بھی کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرے گی، اسے دہرا دہرا عذاب دیا جائے گا۔

منکرین عصمت انبیاء کے اعتراضات اور ان کے جوابات :

ان آیتوں کی وجہ سے منکرین عصمت انبیاء (علیہم السلام) نے متعدد اعتراضات کیے ہیں ہم ان کے اعتراضات کو مع جوابات کے پیش کر رہے ہیں :

١۔ آیت ٧٣ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنے کے قریب تھے اور اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتنہ میں مبتلا ہونے کے قریب تھے، عصمت کے خلاف تب ہوتا جب آپ فتنہ میں مبتلا ہوجاتے۔

٢۔ آیت ٧٤ کا معنی یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو ثابت قدم نہ رکھتا اور آپ کی حفاظت نہ کرتا تو آپ مشرکین کے دین اور مذہب کی طرف مائل ہوجاتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی میں لولا کا معنی اس طرح ہوتا ہے کہ ایک چیز کی نفی کی بناء پر دوسری چیز کا ثبوت ہو، جیسے اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتے، عمر ہلاک نہیں ہوئے اس لیے کہ علی موجود تھے، اسی طرح اس آیت میں ہے اگر اللہ آپ کو ثابت قدم نہ رکھتا تو آپ ان کی طرف کچھ مائل ہوجاتے اور چونکہ اللہ نے آپ کو ثابت قدم رکھا اس لیے آپ ان کی طرف کچھ بھی مائل نہیں ہوئے۔

٣۔ آیت ٧٥ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت بڑے عذاب کی وعید سنائی ہے، اور اگر پہلے کوئی جرم نہ ہو تو عذاب کی وعید سنانا، مناسب نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ معصیت سے ڈرانا اور دھمکانا معصیت کے اقدام کو مستلزم نہیں ہوتا جیسا کہ حسب ذیل آیات میں ہے :

ولو تقول علینا بعض الاقاویل۔ لاخذنا منہ بالیمین۔ ثم لقطعنا منہ الوتین۔ (الحاقہ : ٤٦۔ ٤٤) اور اگر (بفرض محال) یہ ہم پر کوئی بات گھڑ لیتے۔ تو ہم یقینا ان کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے۔ پھر ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیتے۔

لئن اشرکت لیحبطن عملک۔ (الزمر : ٦٥) اگر (بفرض محال) آپ نے شرک کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا۔

ولا تطع الکافرین والمنافقین۔ (الاحزاب : ٤٨) اور آپ کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کریں۔

اللہ کی مدد سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ان آزمائشوں میں کامیابی :

ان آیتوں میں ان مصائب اور آزمائشوں کی طرف اشارہ ہے جو کئی برسوں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش آرہے تھے، مشرکین مکہ سر توڑ کوشش کر رہے تھے کہ آپ کو دین اسلام کی دعوت سے باز رکھیں اور کسی نہ کسی طرح ٓٓپ کے استقلال اور عزت و ہمت میں کچھ لچک اور نرمی پیدا کریں، اور اگر آپ بالکل ان کے ہم نوا نہ ہوں تو کم از کم اتنا ہوجائے کہ آپ ان کے باطل خداؤں کی مزمت نہ کریں، اس مقصد کے لیے انہوں نے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیا، آپ کو سیم زر کے لالچ بھی دئے، عرب کی خوبصورت دوشیزاؤ کی پیش کش بھی کی، دھمکیاں بھی دیں، معاشی دباؤ بھی ڈالا، تین سال تک شعب ابو طالب میں محصور کردیا اور باہر سے غلہ پہنچنے پر پابندی لگا دی، آپ اور آپ کے اصحاب پر ظلم و ستم کی انتہا کردی اور آپ کے ساتھ وہ سب کچھ کر ڈالا جو آپ کے عزم اور حوصلہ کو پست کرنے کے لیے کیا جاسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان تمام امتحانوں میں آپ کو کامیاب اور سرخرو رکھا مشرکین طرح طرح کی ترغیبات سے آپ کو اپنی طرف مائل کرنے کوشش کر رہے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتادیا ہے کہ کوئی انسان خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ صرف اپنی ذاتی طاقت کے بل بوتے پر باطل کی قوتوں سے مقابلہ نہیں کرسکتا، جب تک اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو انسان کسی امتحان اور کسی آزمائش میں کامیاب نہیں ہوسکتا، یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا پختہ حوصلہ اور عزم و استقلال تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باطل کے ان تمام طوفانوں کے سامنے حق و صداقت کے مسلک پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور کوئی بڑی سی بڑی آزمائش کا سیلاب بھی آپ کو اپنی جگہ سے سر موہٹا نہیں سکا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 73