أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا لَنۡ نُّـؤۡمِنَ لَـكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۡۢبُوۡعًا ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انہوں نے کہا ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کردیں۔ یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو پھر آپ ان کے درمیان سے بہتے ہوئے دریا جاری کردیں۔ یا جس طرح آپ ہم سے کہتے ہیں ہم پر آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے گرا دیں یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے (بےحجاب) لے آئیں۔ یا آپ کے لیے سونے کا کوئی گھر ہو، یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں، اور ہم آپ کے چڑھنے پر (بھی) ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، حتی کہ آپ ہم پر کتاب نازل کریں جس کو ہم پڑھیں، آپ کہیے میرا رب پاک ہے میں تو صرف ایک بشر ہوں جس کو رسول بنایا گیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٩٣۔ ٩٠)

تبلیغ اسلام سے دست کش ہونے کے لیے کفار مکہ کی پیش کش :

امام ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ عتبہ ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو سفیان بن حرب، نضر بن الحارث، ابو البختری بن ہشام، الاسود بن المطلب، زمعہ بن الاسود، ولید بن مغیرہ، ابو جہل بن ہشام، عبداللہ بن ابی امیہ، العاص بن وائل، امیہ بن خلف اور دیگر بڑے بڑے کفار قریش غروب آفتاب کے وقت کعبہ میں جمع ہوئے، پھر انہوں نے ایک دوسرے کہا کسی کو بھیج کر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلاؤ اور ان سے اس دین کے متعلق بات کرو جس کی وہ دعوت دیتے ہیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے تو انہوں نے کہا تمہاری قوم کے بڑے بڑے سردار یہاں موجود ہیں، اور اللہ کی قسم ! ہم تم کو یہ بتا رہے ہیں کہ عرب کے کسی شخص نے اپنی قوم کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا تم نے اپنی قوم کو نقصان پہنچایا ہے، تم نے ان کے باپ دادا کو برا کہا، ان کے دین کی مذمت کی، ان کے خداؤں کو برا کہا، ان کے نوجوانوں کو گمراہ کیا، اور جماعت میں تفرقہ ڈالا اور کوئی برائی نہ تھی جو تم نے ہمارے ساتھ نہ کی ہو، اگر تم نے یہ سب کچھ مال و دولت کے حصول کے لیے کیا ہے تو ہم تمہارے پاس مال و دولت کا ڈھیر لگا دیتے ہیں، حتی کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ گے، اور اگر تم اس کارروائی سے شرف اور بزرگی چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا سردار مان لیتے ہیں، اور اگر تم اس سے ملک اور سلطنت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنا بادشاہ مان لیتے ہیں اور اگر کوئی جن تم پر غالب ہوگیا ہے تو ہم مال خرچ کر کے تمہارا علاج کراتے ہیں، حتی کہ تم تندرست ہوجاؤ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ؛ مجھ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جو تم کہہ رہے ہو، میں تمہیں جو دین اسلام کی دعوت دیتا ہوں اس سے میری یہ غرض نہیں ہے کہ تم سے مال حاصل کروں اور نہ میں تم پر بزرگی اور بڑائی چاہتا ہوں اور نہ میں تم پر بادشاہت چاہتا ہوں، لیکن اللہ نے مجھے رسول بنا کر تمہارے پاس بھیجا ہے اور مجھ پر کتاب نازل کی ہے، وار مجھ کو حکم دیا ہے کہ تم کو خوشخبری دوں اور ڈراؤں، پس میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچائے اور تمہاری خیر خواہ کی، پس اگر تم نے میرے لائے ہوئے دین کو قبول کرلیا تو وہ تمہاری دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے اور اگر تم نے میرے پیغام کو مسترد کردیا تو میں اللہ کے حکم کے مطابق صبر کروں گا، حتی کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا حکم آجائے۔

کفار مکہ کا فرمائشی معجزات طلب کرنا :

کفار قریش نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر تم ہماری پیش کش کو قبول نہیں کرتے تو سنو ! ہمارے شہر سے تنگ کوئی اور شہر نہیں ہے اور نہ ہم سے زیادہ سخت کسی کی معیشت ہے، تم ہمارے لیے اپنے رب سے سوال کرو جس نے تم کو بھیجا ہے کہ وہ ان پہاڑوں کو دور دور ہٹا دے جنہوں نے اس شہر کو ہم پر تنگ کیا ہوا ہے، اور ہمارے شہر کو وسیع کردے اور ہمارے لیے ایسے دریا جاری کردے جیسے ملک شام اور عراق میں دریا ہیں، اور ہمارے مرے ہوئے باپ دادا میں سے کسی کو زندہ کر کے ہمارے پاس بھیجے اور قصی بن کلاب کو بھیج دے، کیونکہ وہ سچا آدمی تھا، ہم اس سے تمہاری دعوت کے متعلق پوچھیں گے آیا تمہاری دعوت حق ہے یا باطل ہے، اگر اس نے تمہاری تصدیق کردی اور تم نے ہمارے مطالبہ کو پورا کردیا تو ہم تمہاری تصڈیق کریں گے اور ہم جان لیں گے کہ اللہ کے نزدیک تمہارا کیا مرتبہ ہے اور یہ کہ واقعی اللہ نے تمہیں رسول بنایا ہے۔

تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تمہارے پاس اس کام کے لیے نہیں بھیجا گیا ہوں، میں اللہ کے پاس سے تمہارے لیے دین کا پیغام لایا ہوں، اور میں نے اپنا پیغام تم کو پہنچا دیا ہے، اگر تم نے اس کو قبول کرلیا تو تمہارے لیے دنیا اور آخرت کی کامیابی ہے اور اگر تم نے اس کو مسترد کردیا تو میں اللہ کی تقدیر پر صبرو کروں گا، حتی کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا حکم آجائے۔ انہوں نے کہا اگر تم ہمارے لیے یہ مطالبہ نہیں کرتے تو اپنے لیے اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ بھیجے تو تمہارے دین کی تصدیق کرے اور تمہاری طرف سے ہم کو جواب دے، اور تم اپنے رب سے سوال کرو کہ وہ تمہارے لیے باغات اور محلات بنا دے اور تمہیں سونے اور چاندی کے خزانے دے حتی کہ تم تلاش معاش سے مستغنی ہوجاؤ۔ کیونکہ تم ہماری طرح بازاروں میں جاتے ہو اور ہماری طرح روزی کی تلاش میں رہتے ہو، حتی کہ ہم جان لیں کہ واقعی تم اللہ کے رسول ہو اور اللہ کے نزدیک تمہاری بہت فضیلت اور وجاہت ہے۔

تب ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ایسا نہیں کروں گا اور میں اپنے رب سے اس طرح کے سوال نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے خوشخبری سنانے کے لیے اور عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا ہے، اگر تم نے میرے پیغام کو قبول کرلیا تو یہ تمہاری دنیا اور آخرت میں کامیابی ہے، اور اگر تم نے اس پیغام کو مسترد کردیا تو میں اللہ کی تقدیر پر صبر کروں گا حتی کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کا حکم آجائے۔ پھر کفار قریش نے کہا تو پھر آسمان کے ٹکڑے ہم پر گرا دو ، جیسا کہ تم کہتے ہو کہ اگر تمہارا رب چاہے تو وہ ایسا کرے گا، ہم تم پر اسی وقت ایمان لائیں گے جب تم ایسا کر گزرو گے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے وہ اگر چاہے گا تو تمہارے ساتھ ایسا کرے گا، پھر انہوں نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیا آپ کے رب کو معلوم ہے کہ ہم آپ کی مجلس میں بیٹھے ہیں اور آپ سے سوال اور یہ مطالبے کر رہے ہیں۔ پھر آپ کا رب آپ کو بتائے گا کہ آپ کا رب ہمارے ان فرمائشئ معجزات کے متعلق کیا کرنے والا ہے، اور آپ کو اس سلسلے میں کیا جواب دے گا، کیونکہ ہم نے آپ کے پیغام کو قبول نہیں کیا اور ہم کو معلوم ہے کہ یمامہ میں ایک شخص ہے جو آپ کو سکھاتا ہے اس کا نام رحمن ہے اور ہم اللہ کی قسم رحمن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ پر حجت پوری کردی ہے اور ان میں سے ایک شخص نے کہا ہم اس وقت تک آپ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے بےحجاب لے آئیں۔ (السیرۃ النبویہ ص ٣٣٤۔ ٣٣٢، دار احیاء التراث العربی، بیروت ١٤١٥ ھ)

فرمائشی معجزات نازل نہ کرنے کی وجوہات :

علامہ ابو القاسم عبدالرحمن بن عبداللہ سہیلی متوفی ٥٨١ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار مکہ نے چند معجزات کا مطالبہ کیا کہ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے پیچھے دھکیل دیا جائے اور آپ پر فرشتے نازل کیے جائیں وغیرہ وغیرہ اور یہ ان کی اللہ تعالیٰ کے امتحان لینے کی حکمت سے جہالت تھی کہ اس کے بندے رسولوں کی تصدیق کریں اور دلائل میں غور و فکر کر کے ایمان لائیں اور اس وجہ سے ان کو ثواب ملے، اور اگر تمام حجابات اٹھا دیے جاتے اور ان کو رسولوں کی بعثت کا ہدایتا علم ہوجاتا تو پھر ثواب اور عذاب دینے کی حکمت ہی باطل ہوجاتی کیونکہ جس کام میں انسان کے غور و فکر کا کسب نہ ہو اس پر اس کو اجر نہیں دیا جاتا، اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت پر ایسے معجزات اور دلائل فراہم کیے جن میں انسان کے غور و فکر کا دخل ہو اور وہ ان دلائل میں غور و فکر کر کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرے تاکہ اس کو اجر کا مستحق قرار دیا جاسکے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر تھا کہ وہ انسانوں سے ایسا کلام کرتا جس کو وہ سن سکتے اور وہ اس سے مستغنی ہوجاتے کہ ان کی طرف کسی رسول کو بھیجا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی اور دیگر امور غیبیہ کی تصدیق کی دو قسمیں کیں۔ دنیا میں نبی کی تصڈیق کو دلائل کے ساتھ غور وفکر پر مبنی کیا کو ین کہ دنیا دار تکلیف اور دار امتحان ہے اور یہاں نبی کی تصڈیق کرنے اور نہ کرنے کو ثواب اور عذاب پر مرتب کیا، اور آخرت میں نبی کی تصدیق اضطراری اور بدیہی طور پر ہوجائے گا کیونکہ جن چیزوں کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا میں خبر دی تھی ان سب کا مشاہدہ انسان کی آنکھ کرلے گی اور آخرت کی تصڈیق میں کوئی ثواب اور جزا نہیں ہوگی کیونکہ اس میں انسان کے کسی امتحان اور کسی آزمائش کا دخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح کفار قریش نے جن معجزات کا مطالبہ کیا تھا کہ فرشتے آکر ان سے باتیں کریں، اور وہ اللہ اور فرشتوں کو بےحجاب دیکھیں اس سے اضطراری اور غیر اختیاری طور پر نبوت اور دیگر امور غیبیہ کی تصدیق ہوجاتی ہے اور ان کے امتحان اور آزمائش کا کوئی موقع نہ رہتا اور ثواب اور عذاب کا استھقاق بےمعنی ہوجاتا اور نبیوں اور رسولوں کو بھیجنے کی حکمت باطل ہوجاتی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمائشی معجزات پورے نہیں کیے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے فرمائشئ معجزات پورے کیے جیسے حضرت صالح کی قوم کے مطالبہ پر پتھر کی چٹان سے اونٹنی اور اس کے بچہ کو بر آمد کیا لیکن ان کی قوم پھر بھی ایمان نہیں لائی اور حضرت صالح کی تکذیب کی اور وہ اونٹنی جو اللہ کی نشانی تھی اس کی بےحرمتی کی اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمائشی معجزات پورے نہیں کیے، قرآن مجید میں ہے :

وما منعنا ان نرسل بالایت الا ان کذب بھا الاولون۔ (بنی اسرائیل : ٥٩) اور ہمیں (فرمائشئ) معجزات نازل کرنے سے صرف یہ چیز مانع ہے کہ پچھلی امتوں کے لوگ ان کی تکذیب کرچکے تھے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ یہ کسی حقیقت تک پہنچنے کے لیے معجزات طلب نہیں کر رہے، نہ کسی الجھن اور شک و شبہ کو دور کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ محض عناد، ضد اور ہٹ دھرمی کے طور پر سو الا کر رہے ہیں اور اگر بالفرض ان کی فرمائش کو پورا کر بھی دیا جائے تو یہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے اور ان کے یہ مطالبات صرف کٹ حجتی پر مبنی ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے فرمائشی معجزات پورے نہیں کیے۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ جب کسی قوم کی فرمائش پر کوئی معجزہ نازل کیا جائے اور وہ قوم پھر بھی ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ اس قوم پر عذاب نازل کر کے اس کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھا اللہ تعالیٰ فرما چکا ہے :

وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم۔ (الانفال : ٣٣) اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ وہ آپ کے ہوتے ہوئے ان پر عذاب نازل فرمائے۔

پانچویں وجہ یہ ہے کہ کسی انسان کے یقین اور اطمینان کے لیے جتنے معجزات کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نازل کرچکا تھا، اب مزید معجزات کی ضرورت نہ تھی۔ (الروض الانف ج ٢ ص ٤٩۔ ٤٧، ملخصا، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

معجزات کے مقدور نبی ہونے کی بحث :

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے فرمائشی معجزات نازل کرنے سے انکار فرما دیا اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معجزات صادر کرنے اور ان کے اظہار پر قادر نہ تھے، کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزات پر قادر ہونے کا معنی یہ ہے کہ جو معجزات اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دیئے تھے ان کے اظہار پر آپ کو قدرت تھی اور اختیار تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن کاموں کی قدرت عطا کی ہے ہم ان کاموں کو اپنے اختیار اور قدرت سے صادر کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قدرت اور طاقت کے بغیر ہم کوئی کام کرسکتے ہیں نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرسکتے ہیں، معجزہ کے مقدور ہونے کی مکمل بحث ہم نے الاعراف : ٢٠١ اور انفال : ١٩ کی تفسیر میں بیان کردی ہے اس بحث کو وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بشر ہونے کی تحقیق :

آیت ٩٤ میں فرمایا ہے : آپ کہیے میرا رب پاک ہے میں تو صرف بشر ہوں جس کو رسول بنایا گیا ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بشر ہونا بھی ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے اور اس میں بہت تفریط کی گئی ہے۔ بعض لوگ اس میں غلو کرتے ہیں اور آپ کو نور محض مانتے ہیں اور آپ کے بشر ہونے کا انکار کرتے ہیں اور بعض اس مسئلہ میں تفریط کرتے ہیں اور آپ کو اپنا سا بشر کہتے ہیں۔ تحقیق یہ ہے کہ آپ بشر ضرور ہیں لیکن افضل البشر ہیں اور آپ کے کسی وصف میں آپ کا کوئی مماثل نہیں ہے۔

صدر الشریعہ علامہ امجد علی متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں :

عقیدہ : نبی اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدیات کے لیے وحی بھیجی ہو اور رسول بشر کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ ملائکہ بھی رسول ہیں۔

عقیدہ : انبیاء سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن، نبی ہوا نہ عورت۔ (بہار شریعت ج ١ ص ٩، مطبوعہ شیخ غلام اینڈ سنز لاہور)

صدر الافاضل علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں :

انبیاء وہ بشر ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے یہ وحی کبھی فرشتہ کی معرفت آتی ہے کبھی بےواسطہ۔ (کتاب العقائد ص ٨، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

اعلی حضرت امام احمدرضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ سے سوال کیا گیا :

زید کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری مثل ایک بشر تھے کیونکہ قرآن عظیم میں ارشاد ہے : قل انما انا بشر مثلکم۔ اور خصائص بشریت بھی حضور انور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بلا شبہ موجود تھے، کیا کھانا پینا، جماع کرنا، بیٹا ہونا، باپ ہونا، کفو ہونا، سونا وغیرہ امور خواص بشریت سے نہیں ہیں۔ جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں موجود تھے، اگر کوئی بشریت کی بناء پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مساوات کا دعوی کرنے لگے تو یہ نالائق حرکت ہے جیسا کہ عارف بسطامی سے منقول ہے کہ لوائی ارفع من لواء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (میرا جھنڈا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھنڈے سے بلند ہے)

اعلی حضرت امام الشاۃ احمد رضا قدس سرہ اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

الجواب : مستفتی کو تعجیل اور فقیر بتیس روز سے علیل اور مسئلہ ظاہر و بین غیر محتاج دلیل، لہذا صرف ان اجمالی کلمات پر اقتصار ہوتا ہے۔ عمرو کا قول مسلمانوں کا قول ہے اور زید نے وہی کہا جو کافر کہا کرتے تھے قالوا ما انتم الا بشر مثلنا۔ کافر بولے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی، بلکہ زید مدعی اسلام کا قول ان کافروں کے قول سے بعید تر ہے وہ جو انبیاء (علیہم السلام) کو اپنا سا بشر مانتے تھے اس لیے کہ ان کی رسالت سے منکر تھے کہ ما انتم الا بشر مثلنا وما انزل الرحمن من شیء ان انتم الا تکذبون۔ تم تو نہیں مگر ہماری مثل بشر اور رحمن نے کچھ نہیں اتارا تم نرا جھوٹ کہتے ہو، واقعی جب ان خبثاء کے نزدیک وحی باطل تھی تو انہیں اپنی سی بشریت کے سوا کیا نظر آتا لیکن ان سے زیادہ دل کے اندھے وہ کہ وحی و نبوت کا اقرار کریں اور پھر انہیں اپنا ہی بسا بشر جانیں۔ زید کو قل انما انا بشر مثلکم سوجاھ اور یوحی الی نہ سوجھا جو غیر متناہی فرق کو ظاہر کرتا ہے، زید نے اتنا ہی ٹکڑا لیا جو کافر لیتے تھے، انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت جبریل کی ملکیت سے اعلی ہے وہ ظاہری صورت میں ظاہر بینوں کی آنکھوں میں بشریت رکھتے ہیں جس سے مقصود خلق کا ان سے ان انس حاصل کرنا اور ان سے فیض پانا و لہذا ارشاد فرماتا ہے ولو جعلناہ ملکا لجعلناہ رجلا وللبسنا علیھم ما یلبسون۔ اور اگر ہم فرشتے کو رسول کر کے بھیجتے تو ضرور اسے مرد ہی کی شکل میں بھیجتے اور ضرور انہیں اسی شبہ میں رکھتے جس دھوکے میں اب ہیں۔ ظاہر ہوا کہ انبیاء کی ظاہری صورت دیکھ کر انہیں اوروں کی مثل بشر سمجھنا ان کی بشریت کو اپنا سا جاننا ظاہر بینوں کو رباطنوں کا دھوکا ہے۔ شیطان کے دھوکے میں پڑے ہیں۔ 

ہمسری با اولیا برداشتند 

انبیا را ہم چو خود پنداشتند 

ان کا کھانا پینا سونا یہ افعال بشری اس لیے نہیں کہ وہ ان کے محتاج ہیں حاشا لست کا حدکم انی ابیت عند ربی یطعمنی و یسقینی ان کے یہ افعال بھی اقامت سنت وتعلیم امت کے لیے تھے کہ ہر بات میں طریقہ محمودہ لوگوں کو عملی طور سے دکھائیں سکھائیں جسے ان کا سہو و نسیان، حدیث میں ہے : انی الا انسی ولکن انسی لیستنن بی میں بھولتا نہیں بھلایا جاتا ہوں تاکہ حالت سہو میں امت کو طریقہ سنت معلوم ہو۔

امام اجل محمد عبدری ابن الحاج مکی قدس سرہ مدخل میں فرماتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احوال بشری کھانا پینا سونا جماع اپنے نفس کریم کے لیے نہ فرماتے تھے بلکہ بشر کو انس دلانے کے لیے کہ ان افعال میں حضور کی اقتدا کریں کیا نہیں دیکھتا ہے کہ عمر نے فرمایا میں عورتوں سے نکاح کرتا ہوں اور مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھے تمہاری دنیا میں سے خوشبو اور عورتوں کی محبت دلائی گئی، یہ نہ فرمایا کہ میں نے انہیں دوست رکھا اور فرمایا تمہاری دنیا میں سے توا اسے اوروں کی طرف اضافت فرمایا نہ اپنے نفس کریم کی طرف (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ معلوم ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اپنے مولی عزوجل کے ساتھ خاص ہے، جس پر یہ ارشاد کریم دلالت کرتا ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی، تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ظاہر صورت بشری اور باطن ملکی ہے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ افعال بشری محض اپنی امت کو انس دلانے اور ان کے لیے شریعت قائم فرمانے کے واسطے کرتے تھے نہ یہ کہ حضور کو ان میں سے کسی شے کی کچھ حاجت ہو جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا انہیں اوصاف جلیلہ و فضائل حمیدہ سے جہل کے باعث بیچارے جاہل یعنی کافر نے کہا اس رسول کو کیا ہواکھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا ہے، عمرو نے سچ کہا کہ یہ قول حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی طرف سے نہ فرمایا بلکہ اس کے فرمانے پر مامور ہوئے جس کی حکمت تعلیم تواضع و تانیس امت و سد غلو نصرانیت ہے، اول، دوم ظاہر اور سوم یہ کہ مسیح (علیہ السلام) کو ان کی امت نے ان کے فضائل پر خدا اور خدا کا بیٹا کہا پھر فضائل محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ کی عظمت شان کا اندازہ کون کرسکتا ہے، یہاں اس غلو کے سد باب کے لیے تعلیم فرمائی گئی کہ کہو کہ میں تم جیسا بشر ہوں خدا یا خدا کا بیٹا نہیں ہوں، ہا یوحی الی رسول ہوں دفع افراط نصرانیت کے لیے پہلا کلمہ تھا اور دفع تفریط ابلیسیت کے لیے دوسرا کلمہ اسی کی نظیر ہے جو دوسری جگہ ارشاد ہوا قل سبحن ربی ھل کنت الا بشرا رسولا تم فرما دو پاکی ہے میرے رب کو میں خدا نہیں ہوں میں تو انسان رسول ہوں انہیں دونوں کے دفع کو کلمہ شہادت میں دونوں لفظ کریم جمع فرمائے گئے۔ اشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ بندے ہیں خدا نہیں ہیں رسول ہیں خدا سے جدا نہیں، شیطنت اس کی کہ دوسرا کلمہ امتیاز اعلی چھوڑ کر پہلے کلمہ تواضع پر اقتصار کرے، اسی ضلالت کا اثر ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعوی مساوات کو صرا نالائق حرکت کہا نالائق حرکت تو یہ بھی ہے کہ کوئی بلا وجہ زید کو طمانچہ مار دے یعنی اس زید کو جس نے کفر و ضلال نہ بکے ہوں، پھر کہاں یہ اور کہا وہ دعوی مساوات کہ کفر خالص ہے، اور اس کا اولیاء (رض) کی طرف معاذ اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ارفعیت کا ادعا نسبت کرنا محض افترا اور کج فہمی سے حاشا کوئی ولی کیسے ہی مرتبہ عظیمہ پر ہو سرکار کے دائرہ غلامی سے باہر قدم نہیں رکھ سکتا، اکابر انبیاء تو دعوی مساوات کر نہیں سکتے، شیخ الانبیاء خلیل کبریا علی السلام والثنا نے شب معراج حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سن کر تمام انبیاء ومرسلین سے فرمایا : بھذا فضلکم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان وجوہ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سب پر افضل ہوئے، ولی کس منہ سے دعوی ارفعیت کرے گا اور جو کرے حاشا ولی نہ ہوگا، حضرت سیدنا بایزید بسطامی اور ان کے امثال و نظائر (رض) وقت و رود تجلی خاص شجرہ موسیٰ ہوتے ہیں سیدنا موسیٰ کلیم علیہ کو درخت سے سنائی دیا، یا موسیٰ انی انا اللہ رب العالمین اے موسیٰ بیشک میں اللہ ہوں رب سارے جہان کا، کیا یہ پیڑ نے کہا تھا حاشا للہ بلکہ واحد قہار نے جس نے درخت پر تجلی فرمائی اور وہ بات درخت سے سننے میں آئی، کیا رب العزت ایک درخت پر تجلی فرما سکتا ہے اور اپنے محبوب بایزید پر نہیں، نہیں نہیں وہ ضرور تجلی ربانی تھی کلام بایزید کی زبان سے سنا جاتا تھا جیسے درخت سے سنا گیا اور متکلم اللہ عزوجل تھا اسی نے وہاں فرمایا یموسی انی انا اللہ رب العالمین، اسی نے یہاں بھی فرمایا سبحانی ما اعظم شانی اور ثابت ہو تو یہ بھی کہ لوائی ارفع من لواء محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیشک لواء الہی لواء محمدی سے ارفع و اعلی ہے۔ (اعلی حضرت کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت بایزید نے ظاہر لوائی ارفع من لوائء محمد کہا تھا تو یہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا اور اللہ فرما رہا تھا میرا جھنڈا محمد کے جھنڈے سے بلند ہے، جیسے شجر موسیٰ سے اللہ کا کلام سنا گیا تھا اسی طرح یہاں بایزید سے اللہ کا کلام سنا گیا) (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ١٤٥۔ ١٤٣، مطبوعہ دار العلوم امجدیہ کراچی، ١٤١٣ ھ)

شیخ خلیل احمد سہارنپوری متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں :

کوئی ادنی مسلمان بھی فخر عالم (علیہ السلام) کے تقرب وشرف کمالات میں کسی کو مماثل آپ کا نہیں جانتا البتہ نفس بشریت میں مماثل آپ کے جملہ بنی آدم ہیں کہ خود حق تعالیٰ فرماتا ہے : قل انما بشر مثلکم اور بعد اس کے یوحی الی کی قید سے پھر وہی شرف تقرب بعد اثبات مماثلت بشریت فرمایا پس اگر کسی نے بوجہ بنی آدم ہونے کے آپ کو بھائی کہا تو کیا خلاف نص کے کہہ دیا وہ تو خود نص کے موافق ہی کہتا ہے۔

نیز لکھتے ہیں :

لا ریب اخوت نفس بشریت میں اور اولاد آدم ہونے میں ہے اور اس میں مساوات بہ نص قرآن ثابت ہے اور کمالات تقرب میں کوئی نہ بھائی کہنے نہ مثل جانے۔ (براہیم قاطعہ ص ٣ ص مطبوعہ بلالی ڈھوک ہند)

شیخ سہارنپوری کے اس کلام کا حاصل یہ ہے کہ نفس بشریت میں تمام انسان آپ کے مماچل اور مساوی ہیں ہمارے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) میں عام انسانوں کی بہ نسبت ایک وصف زائد ہوتا ہے جو نبوت ہے وہ حامل وحی ہوتے ہیں، فرشتوں کو دیکھتے ہیں اور ان کا کلام سنتے ہیں اس لیے نبی کی بشریت اور عام انسانوں کی بشریت مماثل اور مساوی نہیں ہے، اور اگر یہ کہ اجائے کہ نبوت سے قطع نظر تو نفس بشریت میں مساوات ہے تو میں کہوں گا کہ اس طرح تو نفس حیوانیت میں نطق سے قطع نظر انسانوں گدھوں، کتوں اور خنزیروں کے مماثل اور مساوی ہے اور ایسا کہنا انسان کی توہین ہے، اسی طرح نفس بشریت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام انسانوں کے مماثل اور مساوی کہنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین ہے، اگر یہ کہا جائے کہ قرآن مجید میں ہے قل انما انا بشر مثلکم (الکہف : ١١٠) تو اس کے دو جواب ہیں، ایک جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

وما من دابۃ فی الارض ولا طائر تطیر بجناحیہ الا امم امثالکم۔ (الانعام : ٣٨) ہر وہ جاندار جو زمین پر چلتا ہے اور ہر وہ پرند جو اپنے پروں کے ساتھ اڑتا ہے وہ تمہاری ہی مثل گروہ ہیں۔

اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ زمین اور ٖفضا کے تمام جاندار اور تمام پرند انسانوں کی مثل ہیں، تو اس طریقہ سے کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ انسان چیل، گدھ، اور بندر اور خنزیر کی مثل ہے تو کیا یہ انسان کی توہین نہیں ہے، لہذا اگر یہ کہا جائے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام انسانوں کے مساوی اور ان کی مثل ہیں تو یہ بھی آپ کی توہین ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کس چیز میں عام انسانوں کی مثل ہیں کسی وجودی وصف میں کوئی انسان آپ کی مثل نہیں ہے، بلکہ آپ کے ساتھ مماثلت عدمی وصف ہے نہ ہم خدا ہیں نہ آپ خدا ہیں، نہ ہم واجب اور قدیم ہیں نہ آپ واجب اور قدیم ہیں، نہ ہم مستحق عبادت ہیں نہ آپ مستحق عبادت ہیں اور یہ آیت اسی معنی پر دلالت کرتی ہے :

قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد۔ (الکہف : ١١٠) آپ کہیے کہ میں (مستحق عبادت نہ ہونے میں) تمہاری ہی مثل بشر ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ میرا اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔

اس بحثی کی مزید وضاحت کے لیے شرح صحیح مسلم ج ٥ ص ١٠٨۔ ٨٧۔ (مطبوعہ فرید بک سٹال ٣٨ اردو بازار لاہور کا ضرور مطالعہ فرمائیں)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 90