أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَئِنۡ شِئۡنَا لَنَذۡهَبَنَّ بِالَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَـكَ بِهٖ عَلَيۡنَا وَكِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور اگر (بالفرض) ہم چاہیں تو ہم ضرور اس تمام وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، پھر ہمارے مقابلہ میں آپ کو کوئی حمایتی نہ مل سکے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر (بالفرض) ہم چاہیں تو ہم ضرور اس تمام وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے، پھر ہمارے مقابلہ میں آپ کو کوئی حمایتی نہ مل سکے۔ ماسوا آپ کے رب کی رحمت کے، بیشک آپ پر اللہ کا بہت بڑا فضل ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٦، ٨٧)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ کی رحمت اور اس کے فضل کی دلیل :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو بہت کم علم دیا ہے اور اس آیت میں فرمایا اگر اللہ چاہے تو لوگوں کے دلوں سے اس کم علم کو بھی نکال لے۔ بایں طور کہ دلوں سے اس علم کو مٹا دے اور کتابوں سے بھی اس کو محو کردے، اگرچہ ایسا ہونا عادت کے خلاف ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے۔

اس کے بعد فرمایا ماسوا آپ کے رب کی رحمت کے یعنی اس وحی کا سینوں اور صحیفوں میں باقی اور محفوظ رہنا صرف آپ کے رب کی رحمت اور اس کے فضل سے ہی ہوسکتا ہے اور چونکہ قرآن مجید مسلمانوں کے سینوں اور صحیفوں میں محفوظ ہے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے رب کی رحمت اور اس کا فضل آپ کے شامل حال ہے۔

دلوں سے علم کا نکل جانا :

زیاد بن لبید بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چند اشیاء کا ذکر کیا اور فرمایا یہ اس وقت ہوگا جب علم چلا جائے گا، میں نے کہا یا رسول اللہ ! علم کیسے چلا جائے گا ؟ حالانکہ ہم خود قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں اور ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور یونہی قیامت تک ہوتا رہے گا، آپ نے فرمایا زیاد ! تمہاری ماں تم پر روئے۔ میرا خیال تھا کہ تم مدینہ میں سب سے زیادہ سمجھ دار شخص ہو، کیا یہ یہود اور نصاری تورات اور انجیل کو نہیں پڑھتے، وہ تورات اور انجیل پر لکھے ہوئے کے موافق بالکل عمل نہیں کرتے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٤٨، مسند احمد ج ٤ ص ١٦٠، ٢١٨، ٢١٩، المستدرک ج ١ ص ١٠٠، یہ حدیث ضعیف ہے)

حضرت حذیفہ بن یمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسلام اس طرح مٹ جائے گا جس طرح کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں، حتی کہ یہ معلوم نہیں ہوگا کہ روزہ کیا ہے اور نماز کیا ہے اور قربانی کیا ہے اور صدقہ کیا ہے۔ ایک رات میں کتاب اللہ چلی جائے گی اور زمین میں اس کی ایک آیت بھی نہیں رہے گی اور لوگوں کے گروہ باقی رہیں گے، بہت بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت، یہ کہیں گے ہم نے اپنے باپ دادا کو یہ کلمہ پڑھتے ہوئے پایا، لا الہ الا اللہ سو ہم بھی یہ کلمہ پڑھتے ہیں۔ حضرت حذیفہ سے صلہ نے کہا لا الہ الا اللہ ان لوگوں کو نجات نہیں دے سکتا جبکہ وہ نہ جانتے ہوں کہ نماز کیا ہے، روزہ کیا ہے، قربانی کیا ہے، اور صدقہ کیا ہے۔ حضرت حذیفہ نے اس سے اعراض کیا، صلہ نے اپنی بات کو تین بار دہرایا اور ہر بار حذیفہ نے اس کی بات کو رد کیا، پھر تیسری بار اس کی طرف متوجہ ہو تین بار کہا اے صلہ ! ان کو یہ کلمہ نجات دے دے گا۔ (سنن ابن مارجہ رقم الحدیث : ٤٠٤٩، المستدرک ج ٤ ص ٤٧٣، اس حدیث کی سند صحیح ہے )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 86