أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـقَدۡ كَرَّمۡنَا بَنِىۡۤ اٰدَمَ وَحَمَلۡنٰهُمۡ فِى الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ وَرَزَقۡنٰهُمۡ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلۡنٰهُمۡ عَلٰى كَثِيۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِيۡلًا۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے اولاد آدم کو فضیلت دی اور ان کو خشکی اور سمندر کی سواریاں دیں اور ان کو طیب چیزوں سے رزق دیا، اور ان کو ہم نے اپنی مخلوق میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے اولاد آدم کو فضیلت دی اور ان کو خشکی اور سمندر کی سواریاں دیں اور ان کو طیب چیزوں سے رزق دیا، اور ان کو ہم نے اپنی مخلوق میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔(بنی اسرائیل : ٧٠)

انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی وجوہ :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیگر مخلوقات پر متعدد وجوہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس فضیلت کی تمام وجوہ کا ادراک تو بہت مشکل ہے تاہم مفسرین نے بعض اہم وجوہ ذکر فرمائی ہیں جن کا بیان درج ذیل ہے :

١۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق میں سے صرف انسان کو اپنا نائب اور خلیفہ بنایا، واذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ۔ (البقرہ : ٣٠)

٢۔ اللہ تعالیٰ نے نوع انسان کے پہلے فرد کو فرشتوں سے زیادہ علم عطا فرمایا اور فرشتوں کو سجدہ کرایا۔ (البقرہ : ٣١، ٣٤)

٣۔ تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے لفظ کن سے پیدا کیا اور انسان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا، قرآن مجید میں ہے :

قال یابلیس ما منعک ان تسجد لما خلقت بیدی۔ (ص : ٧٥) فرمایا اے ابلیس ! تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس نے منع کیا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔

٤۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو مارے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم، البر والصلہ : ١١٥، (٢٦١٢) الرقم المسلسل : ٦٥٣٢)

٥۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوق میں سب سے اچھی ہیئت پر پیدا کیا ہے قرآن مجید میں ہے :

لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین : ٤) بیشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی ساخت اور ہیئت پر پیدا کیا ہے۔

٦۔ ہر مخلوق کھاتے وقت اپنا سر جھکا کر کھاتی ہے اور اپنے منہ کو کھانے تک لے جاتی ہے اور انسان سر اٹھا کر کھاتا ہے اور کھانے کو اٹھا کر اپنے منہ تک لے جاتا ہے۔

٧۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بلند قامت بنایا ہے وہ سیدھا کھڑا ہوتا ہے جبکہ باقی مخلوق جھک کر چلتی ہے یا زمین پر رینگتی ہوئی چلتی ہے اور انسان سر اٹھا کر چلتا ہے۔

٨۔ تمام مخلوق تین قسم کی قوتوں میں تقسیم میں ہے : (١) قوت نشو ونما (٢) قوت حواس اور قوت شہوانیہ (٣) قوت عقلیہ حکمیہ۔ نباتات یعنی درختوں، پودوں میں صرف قوت نشو ونما ہے، حیوانوں میں صرف قوت حواس اور قوت شہوانیہ ہے اور فرشتوں میں صرف قوت عقلیہ حکمیہ ہے اور انسان میں اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں قوتیں جمع کردیں، اس میں قوت نشو و نما بھی ہے اور قوت حواس اور قوت عقلیہ حکمیہ بھی، لہذا انسان تمام مخلوق سے افضل ہے۔

٩۔ جانوروں کے جسم میں اگر کوئی درد یا تکلیف ہو تو وہ کسی کو بتا نہیں سکتے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو ادراک اور اظہار کی قوت عطا کی ہے اس لیے وہ اپنا حال بھی بتاسکتا ہے اور دوسروں کا حال بھی بتاسکتا ہے۔

١٠۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت عطا کی ہے، وہ علوم و معارف پر مشتمل کتابیں لکھ سکتا ہے اور لکھی ہوئی چیزوں کو پڑھ بھی سکتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان ما لم یعلم۔ (العلق : ٥۔ ١) اپنے رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ آپ پڑھیے آپ کا رب بہت کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ سکھایا جس کو وہ نہیں جانتا تھا۔

انسان کی یہ فضیلت فرشتوں کے علاوہ باقی تمام مخلوقات کی بہ نسب ہے۔

١١۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو عناصر اربعہ سے بنایا ہے اور یہ چاروں عناصر انسان کی خدمت کے لیے مسخر کردیے ہیں۔ یہ چار عناصر مٹی، ہوا، پانی اور آگ ہیں۔ مٹی کو انسان کے لیے فرش بنایا، جعل لکم الارض فراشا (البقرہ : ٢٢) ہوا کو اس لیے بنایا کہ انسان اس سے سانس لے سکے اور انسان کی بوئی ہوئی اناج کی فصلوں میں دانوں کو بھوسے سے الگ کرسکے، اور سمندری سفر میں اس کو بادبانی کشتیوں کو چلانے میں اپنا رول ادا کرسکے اور ہوائیں اسا معمورہ سے بدبوؤں کو اڑا لے جاتی ہیں۔ اور پانی اس لیے بنایا کہ وہ انسان کے پینے کے کام آئے اور اس کی زراعت اور کھیتی باڑی کے کام آئے اور سمندروں کو مسخر کیا ان سے ہم تازہ ترین مچھلی خوراک کے لیے حاصل کرتے ہیں اور ان سے قیمتی موتی حاصل کرتے ہیں اور کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ سمندری سفر کرتے ہیں، اور اب سمندر سے تیل بھی حاصل کیا جاتا ہے، اور آگ ہمارے کھانوں کو پکانے کے کام آتی ہے اور اسی نوع سے ایندھن کو دوسری قسمیں ہیں، تیل اور گیس وغیرہ جن سے موٹریں، ٹرینیں اور ہوائی جہاز چلائے جاتے ہیں اور اسی نوع سے سورج اور چاند ہیں جن سے ہم روشنی، حرارت اور دیگر توانائیاں حاصل کرتے ہیں اور ان عناصر اربعہ کے مرکبات ہیں مثلا معدنیات، سونا، چاندی، لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ غرض پوری کائنات کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے فوائد اور منافع کے لیے مسخر کردیا ہے۔

١٢۔ تمام موجودات میں سب سے اشرف، سب سے اعلی اور سب سے اکبر اللہ تعالیٰ ہے، پھر وہ سب سے اشرف اور علی ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہو، اور اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ قریب انسان ہے، کیونکہ اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے، اور دماغ میں اس پر ایمان ہے اور اس کی زبان پر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے ا اس کے اعضا اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مشغول ہیں، پس واجب ہوا کہ اس عالم میں اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب انسان ہے اور اس کو یہ قرب اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان سے حاصل ہوا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک ہم نے انسان کو فضیلت دی۔

١٣۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فضیلت کی وجوہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : اور ان کو خشکی اور سمندر کی سواریاں دیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں، خچروں، گدھوں اور اونٹوں کو اس طرح مسخر کردیا کہ انسان ان پر سواری کرسکے اور ان پر اپنا بوجھ لاد سکے اور سواریوں پر بیٹھ کر سفر کرسکے اور جہاد کرسکے اور کشتیوں اور بحری جہازوں پر بیٹھ کر تجارتی اور جنگی سفر کرسکے۔

١٤۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کی فضیلت کی وجوہ میں فرمایا : اور ان کو طیب چیوں سے رزق دیا، کیونکہ انسان کی خوراک اور غذا یا زمینی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے یا حیوانوں کے گوشت سے اور یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے مسخر کردی ہیں۔

١٥۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے اپنی مخلوق میں سے ان کو بہت چیزوں پر فضیلت دی ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہیں جن پر انسان کو فضیلت نہیں دی اور وہ فرشتے ہیں، بلکہ فرشتے انسان سے افضل ہیں۔

امام عبدالرحمن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

اس مسئلہ میں دو قول ہیں۔ حضرت ابن عباس کا یہ قول ہے کہ انسان فرشتوں کے علاوہ تمام مخلوق سے افضل ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ انسان تمام مخلوق سے افضل ہے اور عرب اکثر اور کثیر کو جمع کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل علی کل افاک اثیم۔ یلقون السمع واکثرھم کذبون۔ (الشعراء : ٢٢٣۔ ٢٢١) کیا تم میں کو بتادوں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں۔ وہ ہر جھوٹے گنہگار پر اترتے ہیں۔ وہ سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہیں۔

ظاہر ہے یہاں اکثر کا طلاق جمع پر کیا گیا ہے یعنی تمام شیاطین جھوٹے ہیں، اسی طرح زیر بحث آیت میں بھی کثیر کا اطلاق تمام مخلوق پر ہے یعنی انسان کو تمام مخلوق پر فضیلت دی ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن اللہ عزوجل کے نزدیک ان فرشتوں سے زیادہ مکرم ہے جو اس کے نزدیک ہیں۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٣٩٤٧، شعب الایمان رقم الحدیث : ١٥٢) (زاد المسیر ج ٥ ص ٦٥، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک بن آدم سے زیادہ عزت والی کوئی چیز نہیں ہے، آپ سے پوچھا گیا فرشتے بھی نہیں ؟ آپ نے فرمایا وہ تو سورج اور چاند کی طرح مجبور ہیں۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ١٥٣، ١٥٤، مجمع الزوائد ج ١ ص ٨٢، حافظ ابن حجر نے کہا ہے یہ حدیثیں سنداً ضعیف ہیں۔ تخریج الکشاف رقم الحدیث : ٦٢٣ )

اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) رسل ملائکہ (یعنی حضرت جبرئیل، حضرت اسرافیل، اور حضرت عزارئیل اور میکائیل) سب سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ عام انسانوں سے افضل ہیں اور عام انسان یعنی نیک مسلمان عام فرشتوں سے افضل ہیں اور کفار اور فساق اور فجار سے عام فرشتے بھی افضل ہیں۔

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

رسل بشر، رسل ملائکہ سے افضل ہیں اور رسل ملائکہ عامۃ البشر سے افضل ہیں، اور عامۃ البشر عامۃ الملائکہ سے افضل ہیں۔ 

رسل ملائکہ کی عامۃ البشر پر فضیلت بالاجماع ہے بلکہ بالبداھۃ ہے اور رسل بشر کی رسل ملائکہ پر فضیلت اور عامۃ البشر کی عامۃ الملائکۃ پر فضیلت حسب ذیل وجوہ سے ہے :

١۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ تعظیم کریں، اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی اعلی کو سجدہ کرے۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا علم ادم الاسماء کلھا الایۃ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی فرشتوں پر فضیلت اور علمی برتری ثابت کی ہے اور وہ علمی برتری کی وجہ سے تعظیم اور تکریم کے مستحق تھے۔

٣۔ ان اللہ اصطفی ادم و نوحا وال ابراہیم وال عمران علی العالمین۔ (آل عمران : ٣٣) بیشک اللہ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم اور نوح اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو منتخب فرمالیا۔

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان نبیوں کو تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے اور ملائکہ بھی تمام جہانوں میں داخل ہیں لہذا ان پر بھی نبیوں کو فضیلت دی ہے۔

اور یہ بات مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ ظنی ہے اور اس مسئلہ میں ظنی دلائل کافی ہیں۔

٤۔ انسان میں شہوت اور غضب کے عوارض اور موانع ہیں اور اس کی طبعی حاجات ہیں جو اس کو علمی اور عملی کمالات اور عبادات اور ریاضت سے مانع ہوتی ہیں اور فرشتوں کو نہ بھوک و پیاس ہے نہ شہوت اور غضب کے عوارض ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور عبادت سے انہیں کوئی چیز مانع نہیں ہے تو ان کا موانع کے بغیر اللہ کی اطاعت اور عبادت کرنا اتنا فضیلت کا موجب نہیں ہے جتنا انسان کا ان عوارض اور موانع کے باوجود اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرنا باعث کمال ہے۔

معتزلہ کے نزدیک فرشتے، انبیاء سے افضل ہیں، ان کی دلیل یہ ہے قرآن مجید میں ہے :

علمہ شدید القوی۔ (النجم : ٥٣) اسے شدید قوت والے فرشتے نے تعلیم دی۔

اس سے ظاہر ہوا کہ فرشتہ معلم تھا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) متعلم تھے اور معلم متعلم سے افضل ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ فرشتہ معلم نہیں ہے، معلم اللہ تعالیٰ ہے اور فرشتہ صرف مبلغ ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں جب فرشتوں اور انبیاء کا ذکر ہو تو پہلے فرشتوں کا ذکر ہوتا ہے پھر انبیاء کا اور یہ فرشتوں کی نبیوں پر فضیلت کی دلیل ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا ذکر اس لیے ہے کہ وہ پہلے پیدا ہوئے تھے، افضلیت کی وجہ سے ان کا پہلے ذکر نہیں ہے۔ (شرح عقائد نسفی، ص ١٢٧۔ ١٢٥۔ مطبوعہ کراچی)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 70