أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا لِلنَّاسِ فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا ۞

ترجمہ:

ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے ناشکری کے سوا (ہر چیز کا) انکار کردیا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی ہدایت) کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں مگر اکثر لوگوں نے ناشکری کے سوا (ہر چیز کا) انکار کردیا۔ (بنی اسرائیل : ٨٩)

قرآن مجید کا متعدد اسالیب سے ہدایت دینا :

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ والوں کی ہدایت کے لیے قرآن مجید میں مختلف اسلوب استعمال کیے جن میں سے بعض یہ ہیں :

١۔ اہل مکہ یہ کہتے تھے یہ قرآن کریم اللہ کا کلام نہیں ہے، بلکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنا لیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو چیلنج دیا کہ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا کلا ہے تو وتم اور جنات ملکر ایسا کلام بنا کرلے آؤ، لیکن وہ اس سے عاجز رہے، پھر فرمایا چلو اس جیسی دس سورتیں بنا کرلے آؤ۔ (ھود : ١٢) وہ اس سے بھی عاجزر ہے، پھر فرمایا چلو اس کی کسی ایک سورت کی مثل بنا کرلے آؤ وہ اس سے بھی عاجز رہے۔ (البقرہ : ٢٣) پھر فرمایا چلو اس کی ایک آیت کی مثل بنا کرلے آؤ۔ (الطور : ٣٤) وہ اس سے بھی عاجز رہے اور اس کے باوجود ایمان نہیں لائے۔

٢۔ ہم نے اس قرآن میں بار بار بتایا کہ جو قومیں ایمان نہیں لائیں اور اپنے کفر پر ڈٹی رہیں ان پر طرح طرح کی مصیبتیں اور عذاب آئے اگر اہل مکہ تم بھی اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا مگر انہوں نے اس نصیحت کو بھی قبول نہیں کیا، اور اسی طرح اپنے کفر پر جمے رہے۔

٣۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار توحید پر دلائل قائم کیے اور شرک کا رد کیا، اور نبوت پر، قیامت پر اور مر کر دوبارہ زندہ کیے جانے پر دلائل قائم کے اور اس سلسلہ میں منکرین نبوت اور قیامت کے جو شبہات تھے ان کا رد بلیغ کیا، لیکن کفار نے ان دلائل سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا وہ بدستور اپنے انکار اور عناد پر قائم رہے، اور اسی طرح شرک اور بت پرستی کرتے رہے۔ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے رہے، انہیں بہت معجزات دکھائے گئے لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 89