أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنۡ يُّؤۡمِنُوۡۤا اِذۡ جَآءَهُمُ الۡهُدٰٓى اِلَّاۤ اَنۡ قَالُـوۡۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ جب بھی ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور لوگوں کو ایمان لانے سے صرف یہ چیز مانع ہوئی کہ جب بھی ان کے پاس ہدایت آئی تو انہوں نے کہا کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کہیے اگر زمین میں فرشتے بستے اور اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ان پر آسمان سے فرشتہ ہی رسول بنا کر نازل کرتے۔ آپ کہئیے میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے، بیشک وہ اپنے بندوں کی بہت خبر رکھنے والا اور ان کو خوب دیکھنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٩٦۔ ٩٤)

زمین والوں کے لیے کسی فرشتہ کو رسول کیوں نہیں بنایا ؟

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ شبہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کوئی فرشتہ آیا تو وہ آپ کو نبی مان لیں گے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دیا کہ فرشتوں کو نبی ماننا بھی اس پر موقوف ہے کہ وہ کوئی معجزہ دکھائیں تو اول آخرت حجت معزہ ہے تو جب (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت پر معجزہ پیش کردیا تو تم ان کو نبی کیوں نہیں مانتے اس جواب کی طرف اشارہ آیت ٩٤ میں اور لفظ ہدایت سے ہے۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر روئے زمین پر رہنے والے فرشتے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتا، کیونکہ ہر چیز اپنی جنس کی طرف مائل ہوتی ہے اور جب روئے زمین پر رہنے والے انسان ور بشر ہیں تو پھر ان کی طرف انسان کو ہی رسول بنا کر بھیجنا مناسب تھا یہ تقریر آیت ٩٥ میں ہے، اور تیسرا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے میری نبوت کی تائید میں معجزہ نازل فرما دیا تو میری نبوت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت حاصل ہوگئی اور میری نبوت پر اس کی شہادت کافی ہے، پھر فرمایا بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو خوب دیکھنے والا ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے ظواہر اور بواطن کو جاننے والا ہے اور وہ ان کے دلوں کے احوال کو جاننے والا ہے، اس کو علم ہے کہ ان کے شبہات محض حسد اور عناد پر مبنی ہیں حق کو سمجھنے میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ یہ تقریر آیت ٩٦ میں ہے۔

بقیہ تفسیر

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء  آیت نمبر 94