لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآىٕلِیْنَ(۷)

بےشک یوسف اور اس کے بھائیوں میں (ف۱۳) پوچھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں(ف۱۴)

(ف13)

حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلام کی پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں ان سے آپ کے چھ فرزند ہوئے ( ۱ ) روبیل (۲ ) شمعون (۳ ) لادی (۴) یہودا (۵ ) ز بولون (۶) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے (۷) دان (۸ ) نفتالی ( ۹) جاو (۱۰) آشر ، انکی مائیں زلفہ اور بلہہ ۔ لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی بہن راحیل سے نکاح فرمایا ان سے دو فرزند ہوئے (۱۱) یوسف (۱۲) بنیامین ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ صاحب زادے ہیں انہیں کو اسباط کہتے ہیں ۔

(ف14)

پوچھنے والوں سے یہود مراد ہیں جنہوں نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کا حال اور اولادِ حضرت یعقوب علیہ السلام کے خطّۂ کنعان سے سر زمینِ مِصر کی طرف منتقل ہونے کا سبب دریافت کیا تھا ۔ جب سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے حالات بیان فرمائے اور یہود نے ان کو توریت کے مطابق پایا تو انہیں حیرت ہوئی کہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتابیں پڑھنے اور عُلَماء و احبار کی مجلس میں بیٹھنے اور کسی سے کچھ سیکھنے کے بغیر اس قدر صحیح واقعات کیسے بیان فرمائے ۔ یہ دلیل ہے کہ آپ ضرور نبی ہیں اور قرآنِ پاک ضرور وحیٔ الٰہی ہے اور اللہ تعالٰی نے آپ کو علمِ قُدس سے مشرف فرمایا علاوہ بریں اس واقعہ میں بہت سی عبرتیں اور نصیحتیں اور حکمتیں ہیں ۔

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌؕ-اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ ﹰ ۚ ۖ(۸)

جب بولے(ف۱۵)کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی(ف۱۶) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں(ف۱۷) بےشک ہمارے باپ صراحۃً ان کی محبّت میں ڈوبے ہوئے ہیں (ف۱۸)

(ف15)

برادرانِ حضرت یوسف ۔

(ف16)

حقیقی بنیامین ۔

(ف17)

قوی ہیں زیادہ کام آ سکتے ہیں ، زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام چھوٹے ہیں کیا کام کر سکتے ہیں ۔

(ف18)

اور یہ بات ان کے خیال میں نہ آئی کہ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کی والدہ کا ان کی صِغر سِنی میں انتقال ہوگیا اس لئے وہ مزید شفقت و مَحبت کے مَورَد ہوئے اور ان میں رُشد و نَجابت کی وہ نشانیاں پائی جاتی ہیں جو دوسرے بھائیوں میں نہیں ہیں یہ سبب ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کو حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے ساتھ زیادہ مَحبت ہے ۔ یہ سب باتیں خیال میں نہ لا کر انہیں اپنے والدِ ماجد کا حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام سے زیادہ مَحبت فرمانا شاق گزرا اور انہوں نے باہم مل کر یہ مشورہ کیا کہ کوئی ایسی تدبیر سوچنی چاہئے جس سے ہمارے والد صاحب کو ہماری طرف زیادہ التفات ہو ۔ بعض مفسِّرین نے کہا ہے کہ شیطان بھی اس مجلسِ مشورہ میں شریک ہوا اور اس نے حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے قتل کی رائے دی اور گفتگوئے مشورہ اس طرح ہوئی ۔

اقْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ(۹)

یوسف کو مار ڈالو یا کہیں زمین میں پھینک آؤ (ف۱۹) کہ تمہارے باپ کا منہ صرف تمہاری ہی طرف رہے (ف۲۰) اور اس کے بعد پھر نیک ہوجانا (ف۲۱)

(ف19)

آبادیوں سے دور بس یہی صورتیں ہیں جن سے ۔

(ف20)

اور انہیں فقط تمہاری ہی مَحبت ہو اور کی نہیں ۔

(ف21)

اور توبہ کر لینا ۔

قَالَ قَآىٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ(۱۰)

ان میں ایک کہنے والا (ف۲۲) بولا یوسف کو مارو نہیں (ف۲۳) اور اسے اندھے (گہرے تاریک)کنو یں میں ڈال دو کہ کوئی چلتا اسے آ کر لے جائے (ف۲۴) اگر تمہیں کرنا ہے (ف۲۵)

(ف22)

یعنی یہودا یا روبیل ۔

(ف23)

کیونکہ قتل گناہِ عظیم ہے ۔

(ف24)

یعنی کوئی مسافر وہاں گزرے اور کسی مُلک کو انہیں لے جائے ، اس سے بھی غرض حاصل ہے کہ نہ وہ یہاں رہیں گے نہ والد صاحب کی نظرِ عنایت اس طرح ان پر ہو گی ۔

(ف25)

اس میں اشارہ ہے کہ چاہئے تو یہ کہ کچھ بھی نہ کرو لیکن اگر تم نے ارادہ ہی کر لیا ہے تو بس اتنے ہی پر اکتفا کرو چنانچہ سب اس پر متفق ہو گئے اور اپنے والد سے ۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ(۱۱)

بولے اے ہمارے باپ آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے معاملے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۱۲)

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے (ف۲۶) اور بےشک ہم اس کے نگہبان ہیں (ف۲۷)

(ف26)

یعنی تفریح کے حلال مشاغل سے لطف اندزو ہوں مثل شکار اورتیر اندازی وغیرہ کے ۔

(ف27)

ان کی پوری نگہداشت رکھیں گے ۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ(۱۳)

بولا بےشک مجھے رنج دے گا کہ تم اسے لے جاؤ (ف۲۸) اور ڈرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھالے (ف۲۹) اور تم اس سے بے خبر رہو (ف۳۰)

(ف28)

کیونکہ ان کی ایک ساعت کی جدائی گوارا نہیں ہے ۔

(ف29)

کیونکہ اس سر زمین میں بھیڑیے اور درندے بہت ہیں ۔

(ف30)

اور اپنی سیر و تفریح میں مشغول ہو جاؤ ۔

قَالُوْا لَىٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ(۱۴)

بولے اگر اسے بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت ہیں جب تو ہم کسی مصرف(کام) کے نہیں(ف۳۱)

(ف31)

لہذا انہیں ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ۔ تقدیرِ الٰہی یونہی تھی حضرت یعقوب علیہ السلام نے اجازت دی اور وقتِ روانگی حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قمیص جو حریرِ جنّت کی تھی اور جس وقت کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کو کپڑے اتار کر آ گ میں ڈالا گیا تھا ، حضرت جبریل علیہ السلام نے وہ قمیص آپ کو پہنائی تھی ۔ وہ قمیص مبارک حضرت ابراہیم علیہ السلام سے حضرت اسحٰق علیہ الصلٰوۃ والسلام کو اور ان سے ان کے فرزند حضرت یعقوب علیہ السلام کو پہنچی تھی ، وہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعویذ بنا کر حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں ڈال دی ۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ(۱۵)

پھر جب اسے لے گئے (ف۳۲) اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے(تاریک گہرے) کنویں میں ڈال دیں (ف۳۳) اور ہم نے اسے وحی بھیجی (ف۳۴) کہ ضرور تو انہیں ان کا یہ کام جتادے گا (ف۳۵) ایسے وقت کہ وہ نہ جانتے ہوں گے (ف۳۶)

(ف32)

اس طرح کہ جب تک حضرت یعقوب علیہ السلام انہیں دیکھتے رہے وہاں تک تو وہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کندھوں پر سوار کئے ہوئے عزت و احترام کے ساتھ لے گئے جب دور نکل گئے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے غائب ہوگئے تو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین پر دے ٹپکا اور دلوں میں جو عداوت تھی وہ ظاہر ہوئی جس کی طرف جاتے تھے وہ مارتا تھا اور طعنے دیتا تھا اور خواب جو کسی طرح انہوں نے سن پایا تھا اس پر تشنیع کرتے تھے اور کہتے تھے اپنے خواب کوبلا وہ اب تجھے ہمارے ہاتھوں سے چھٹائے جب سختیاں حد کو پہنچیں تو حضرت یوسف علیہ السلام نے یہودا سے کہا خدا سے ڈر اور ان لوگوں کو ان زیادتیوں سے روک ۔ یہودا نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم نے مجھ سے کیا عہد کیا تھا یاد کرو قتل کی نہیں ٹھہری تھی تب وہ ان حرکتوں سے باز آئے ۔

(ف33)

چنانچہ انہوں نے ایسا کیا ۔ یہ کنواں کنعان سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر حوالیٔ بیت المقدس یا سر زمینِ اردن میں واقع تھا اوپر سے اس کا منہ تنگ تھا اور اندر سے فراخ ۔ حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ، قمیص اتار کر کنوئیں میں چھوڑا جب وہ اس کی نصف گہرائی تک پہنچے تو رسی چھوڑ دی تاکہ آپ پانی میں گر کر ہلاک ہو جائیں ۔ حضرت جبریلِ امین بحکمِ الٰہی پہنچے اور انہوں نے آپ کو ایک پتھر پر بٹھا دیا جو کنوئیں میں تھا اورآپ کے ہاتھ کھول دیئے اور روانگی کے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قمیص جو تعویذ بنا کر آپ کے گلے میں ڈال دیا تھا وہ کھول کر آپ کو پہنا دیا اس سے اندھیرے میں روشنی ہو گئی ۔ سبحان اللہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مبارک اجسادِ شریفہ میں کیا برکت ہے کہ ایک قمیص جو اس بابرکت بدن سے مس ہوا اس نے اندھیرے کنوئیں کو روشن کر دیا ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ ملبوسات اور آثارِ مقبولانِ حق سے برکت حاصل کرنا شرع میں ثابت اور انبیاء کی سنّت ہے ۔

(ف34)

بواسطۂ حضرتِ جبریل علیہ السلام کے یا بطریقِ الہام کہ آپ غمگین نہ ہوں ، ہم آپ کو عمیق چاہ سے بلند جاہ پر پہنچائیں گے اور تمہارے بھائیوں کو حاجت مند بنا کر تمہارے پاس لائیں گے اور انہیں تمہارے زیرِ فرمان کریں گے اور ایسا ہوگا ۔

(ف35)

جو انہوں نے اس وقت تمہارے ساتھ کیا ۔

(ف36)

کہ تم یوسف ہو کیونکہ اس وقت آپ کی شان ایسی رفیع ہو گی ، آپ اس مسندِ سلطنت و حکومت پر ہوں گے کہ وہ آپ کو نہ پہنچانیں گے ۔ الحاصل برادرانِ یوسف علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال کر واپس ہوئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کا قمیص جو اتار لیا تھا اس کو ایک بکری کے بچہ کے خون میں رنگ کر ساتھ لے لیا ۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ(۱۶)

اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے آ ئے (ف۳۷)

(ف37)

جب مکان کے قریب پہنچے ان کے چیخنے کی آواز حضرت یعقوب علیہ السلام نے سنی تو گھبرا کر باہر تشریف لائے اور فرمایا اے میرے فرزند کیا تمہیں بکریوں میں کچھ نقصان ہوا ؟ انہوں نے کہا نہیں فرمایا پھر کیا مصیبت پہنچی اور یوسف کہاں ہیں ؟

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ(۱۷)

بولے اے ہمارے باپ ہم دوڑ کرتے نکل گئے (ف۳۸) اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑا تو اسے بھیڑیا کھا گیا اور آپ کسی طرح ہمارا یقین نہ کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں (ف۳۹)

(ف38)

یعنی ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوڑ کرتے تھے کہ کون آگے نکلے اس دوڑ میں ہم دور نکل گئے ۔

(ف39)

کیونکہ ہمارے ساتھ کوئی گواہ ہے نہ کوئی ایسی دلیل و علامت ہے جس سے ہماری راست گوئی ثابت ہو اور قمیص کو پھاڑنا بھول گئے ۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ-قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(۱۸)

اور اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے (ف۴۰) کہا بلکہ تمہارے دلوں نے ایک بات تمہارے واسطے بنالی ہے (ف۴۱) تو صبر اچھا اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتارہے ہو (ف۴۲)

(ف40)

حضرت یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام وہ قمیص اپنے چہرۂ مبارک پر رکھ کر بہت روئے اور فرمایا عجب طرح کا ہوشیار بھیڑیا تھا جو میرے بیٹے کو کھا تو گیا اور قمیص کو پھاڑا تک نہیں ۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک بھیڑیا پکڑ لائے اور حضرت یعقوب علیہ السلام سے کہنے لگے کہ یہ بھیڑیا ہے جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو کھایا ہے آپ نے بھیڑیئے سے دریافت فرمایا وہ بحکمِ الٰہی گویا ہو کر کہنے لگا حضور نہ میں نے آپ کے فرزند کو کھایا اور نہ انبیاء کے ساتھ کوئی بھیڑیا ایسا کر سکتا ہے ، حضرت نے اس بھیڑیئے کو چھوڑ دیا اور بیٹوں سے ۔

(ف41)

اور واقعہ اس کے خلاف ہے ۔

(ف42)

حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام تین روز کنوئیں میں رہے اس کے بعد اللہ نے انہیں اس سے نَجات عطا فرمائی ۔

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗؕ-قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌؕ-وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ(۱۹)

اور ایک قافلہ آیا (ف۴۳) انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا (ف۴۴) تو اس نے اپنا ڈول ڈالا(ف۴۵)بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا (ف۴۶) اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں

(ف43)

جو مدیَن سے مِصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بہک کر اس جنگل میں آپڑا جہاں آبادی سے بہت دور یہ کنواں تھا اور اس کا پانی کھاری تھا مگر حضرت یوسف علیہ السلام کی برکت سے میٹھا ہوگیا جب وہ قافلہ والے اس کنوئیں کے قریب اترے تو ۔

(ف44)

جس کا نام مالک بن ذعر خزاعی تھا یہ شخص مدیَن کا رہنے والا تھا جب وہ کنوئیں پر پہنچا ۔

(ف45)

حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام نے وہ ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے ۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے ، اس نے آپ کا حسنِ عالَم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آ کر اپنے یاروں کو مژدہ دیا ۔

(ف46)

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے وہ دیکھ بھال رکھتے تھے آج جو انہوں نے یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو انہیں تلاش ہوئی اور قافلہ میں پہنچے وہاں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے ، ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے ، کسی کام کا نہیں ، نافرمان ہے اگر خریدو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور آپ نے کچھ نہ فرمایا ۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠(۲۰)

اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا (ف۴۷) اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی (ف۴۸)

(ف47)

جن کی تعداد بقول قتادہ بیس درہم تھی ۔

(ف48)

پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی حضرت یوسف علیہ السلام کو مِصر میں لائے ۔ اس زمانہ میں مِصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن نزدان عملیقی تھا اور اس نے اپنی عنانِ سلطنت قطفیر مِصری کے ہاتھ میں دے رکھی تھی ، تمام خزائن اسی کے تحتِ تصرّف تھے اس کو عزیزِ مِصر کہتے تھے اور وہ بادشاہ کا وزیرِ اعظم تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام مِصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لائے گئے تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی تا آنکہ آپ کے وزن کے برابر سونا ، اتنی ہی چاندی ، اتنا ہی مشک ، اتنا ہی حریر قیمت مقرر ہوئی اور آپ کا وزن چار سو رِطل تھا اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی ۔ عریزِ مِصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا دوسرے خریدار اس کے مقابلہ میں خاموش ہو گئے ۔