أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا جَعَلۡنَامَاعَلَى الۡاَرۡضِ زِيۡنَةً لَّهَا لِنَبۡلُوَهُمۡ اَ يُّهُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ۞

ترجمہ:

روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو اس زمین کی زینت بنادیا ہے تاکہ ہم یہ ظاہر کریں کہ ان میں کون سب سے اچھے کام کرنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو اس زمین کی زینت بنادیا ہے تاکہ ہم یہ ظاہر کریں کہ ان میں کون سب سے اچھے علم کرنے والا ہے اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اس کو ضرور چٹیل میدان بنانے والے ہیں (الکھف :7-8)

زمین کی زینت سے انسان کو امتحان میں مبتلا کرنا 

اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ میں نے زمین کو اور اس کی زینت کو پیدا کیا ہے اور اس زمین سے کارآمد اور نفع آور چیزیں نکالیں ہیں، اور اس زمین کو اور اس کی زینت کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چند احکام کا مکلف کیا جائے اور پھر یہ دکھایا جائے کہ وہ اللہ پر ایمان لا کر اور اس کے احکام پر عمل کر کے ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں یا تکبر اور سرکشی کر کے ایمان نہیں لاتے اور اپنے کفر پر قائم رہتے ہیں اور میں ان کے کفر اور ان کی سرکشی کے باوجود ان سے اپنی نعمتوں کا سلسلہ منقطع نہیں کرتا تو اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بھی ان کے کفر اور ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان پر بہت زیادہ افسوس نہ کریں اور انہیں دین حق کی طرف دعوت دینے کا سلسلہ جاری رکھیں۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ ہم نے زمین کی زینت کے لئے اس میں معاون، نباتات اور حیوانات بنائے ہیں، خوبصورت آبشار اور بہتے ہوئے چشمے، حسین و جمیل سرسبز کھیت اور باغات، بلند کہسار، رنگ برنگ پردے اور طرح طرح کے حیوانات یہ سب زمین کی زینت ہیں۔ اس زمین میں زہریلے حشرات الارض بھی ہیں اور چیر نے پھاڑنے والے درندے بھی ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ ان میں زمین کی کون سی زینت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان درندوں سے بہرحال ظاہری حسن و جمال تو ہے جیسے شیر اور چیتوں وغیرہ میں اور جنگلات کی زینت ان ہی جانوروں کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح انواع و اقسام کے سانپ اور اژدھے حسن و جمال کے پیکر ہیں، باقی رہا ان کا ضرر رساں ہونا تو وہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفت قہر اور غضب کے مظہر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے زمین کی یہ زینت انسان کے امتحان کے لئے بنائی ہے کہ آیا وہ دنیا کے حسن و جمال میں کھو کر اپنے خالق ومالک کی اطاعت کرنے کو بھول جاتا ہے یا اس دنیا کی ترغیبات سے اپنا دامن بچا کر رکھتا ہے اور اس دنیا کی رنگینیاں اور لذت آفرینیاں اس کو اپنے مولیٰ کی عبادت سے غافل نہیں کرتیں۔

اس سوال کا جواب کہ امتحان لینا تو عدم علم کو مستلزم ہے 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ امحتان تو وہ شخص لیتا ہے جسے امتحان دینے والے کی قابلیت کا علم نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تو علام الغیوب ہے اور اس کو ہر چیز کا علم ہے پھر اس کے امحتان لینے کی کیا توجیہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے لئے امتحان نہیں لیتا، وہ دوسروں کے لئے امتحان لیتا ہے، وہ قیامت کے دن دنیال کو دکھانا چاہتا ہے کہ اگر اس نے اپنے کسی بندہ کو بہت اجر وثواب عطا کیا ہے اور نور کے منبروں پر بٹھایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں آزمائش کی بھٹی سے سلامتی کے ساتھ گزر گئے تھے۔ انہوں نے تسلیم و رضا کی چھری تلے اپنی گردن رکھ دی تھی، اس لئے ان کو یہ بلند مراتب عطا کئے ہیں اور جن کو آخرت میں عذاب شدید پہنچایا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دنیاوی امتحان میں ناکام ہوگئے تھے، وہ دنیا کی زینت میں ڈوب گئے تھے اور اپنے خالق ومالک کی اطاعت سے منحرف اور باغی ہوگئے تھے۔

دنیا سے رغبت کو کم کرنا 

اللہ تعالیٰ انسان جو دنیا کی اس زینت میں مستغرق ہونے سے بچانا چاہتا ہے اور دنیا کی اس زینت کی طرف اس کی رغبت کو کم کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے فرمایا : اور جو کچھ زمین پر ہے ہم اس کو ضرور چٹیل میدان بنانے والے ہیں۔ یعنی تم ایسی چیز کے ساتھ کیوں دل لگاتے ہو جو فنا ہونے والی ہے ؟ یہ دنیا اپنی تمام رنگینیوں، رعنائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ فنا ہوجائے گی، باقی رہنے والی ذات تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے سو تم اس سے محبت رکھو، اس کے ساتھ لگائو، اس کے احکام پر عمل کرو، اسی کی اطاعت کرو، اسی کے سامنے سر جھکائو، اسی سے اپنی حاجات طلب کرو، اسی کو پکارو، اسی سے مدد طلب کرو۔ حقیقت میں وہی دینے والا ہے، بہ ظاہر جو بھی کسی کو دے رہا ہے وہ اپنے پاس سے نہیں دے رہا، اسی سے لے کر دے رہا ہے، کسی اور کا سننا، دینا، مدد کرنا ظنی ہے، یقینی نہیں۔ صرف اسی کا سننا یقینی ہے، اسی کا دینا یقینی ہے، اسی کا مدد کرنا یقینی ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم سوال کرو تو اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث 2516)

دنیا کی زینت اور اس سے دامن بچانے کے متعلق احادیث 

اس آیت میں جو فرمایا ہے : روئے زمین پر جو کچھ ہے، ہم نے اس کو اس زمین کی زینت بنادیا ہے تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں کوئی سب سے اچھے عمل کرنے والا ہے (الکھف : ٧) اس آیت کی وضاحت حسب ذیل احادیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

دنیا شیریں اور سرسبز ہے اور اللہ تعالیٰ تم کو اس میں خلیفہ بنانے والا ہے پھر وہ دیکھے گا کہ تم اس میں کس طرح عمل کرتے ہو، سو تم دنیا سے اور عورتوں سے بچو کیونکہ بنو اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں میں تھا۔

(صحیح مسلم الدعوات : ٩٩ رقم الحدیث بلاتکرار :2742، رقم الحدیث المسلسل 6814)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ دنیا کی تروتازگی سے خطرہ ہے۔ مسلمانوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! دنیا کی تروتازگی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا زمین کی برکتیں۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا خیر کے سبب سے شر ہوسکتا ہے پھر آپ نے تین بار فرمایا : خیر کے سبب سے خیر ہی ہوتی ہے، موسم بہار میں جو چیزیں (زمین سے) اگتی ہیں تو وہ سبزہ جانوروں کو ہلاک کردیتا ہے یا قریب المرگ کردیتا ہے۔ سوا ان جانوروں کے جو صرف سبزہ کھاتے ہیں اور وہ اس قدر کھاتے ہیں کہ ان کی کوکھیں پھول جاتی ہیں پھر وہ دھوپ میں لوٹ لگاتے ہیں اور لید اور پیشاب کرتے ہیں، یہ مال دنیا بھی سرسبز اور میٹھا ہے جو شخص اس مال کو اپنے حق کے مطابق لے گا اور اس کو اس کے صحیح مصرف میں خرچ کرے گا تو یہ اچھی مشقت ہے اور جو مال کو ناحق لے گا تو وہ اس جانور کی طرح سے ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) سے ایک اور روایت میں ہے : یہ مال دنیا سرسبز اور میٹھا ہے اور مسلمان کا اچھا ساتھی ہے اس مال کا جو حصہ مسکین، یتیم اور مسافر کو دیا (وہ اچھا ساتھی ہے) اور جو اس مال کو ناحق لیتا ہے وہ اس جانور کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور یہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔

(صحیح مسلم الزکوۃ 12، 122، 121 رقم الحدیث : 1052، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3995)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دنیا بہت خوش منظر ہے اور بھلی لگتی ہے اور اس کے مناظر بہت دلفریب اور دلکش ہیں۔ جیسے کوئی بہت حسین اور بےحد شیریں پھل ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے ذریعہ اپنے بندوں کو امتحان میں مبتلا کیا ہے اور وہ دنیا کو دکھاتا ہے کہ کون دنیا میں زیاہ اچھے عمل کرتا ہے یعنی کون دنیا سے زہد اور بےرغبتی اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے جن چیزوں کو زینت بنایا ہے، بندوں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں خرچ کریں، اسی لیء حضرت عمر نے یہ دعا کی تھی کہ جن چیزوں کو تو نے ہمارے لئے مزین کیا ہے ہمیں اس سے بچا کر ہم ان پر اترائیں۔ اے اللہ میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ میں ان چیزوں کو حق کے راستے میں خرچ کروں۔

اور یہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے معنی ہیں : جو اس مال کو اپنے حق کے مطابق لے گا اس کے مال میں برکت دی جائے گی اور جو شخص اس مال کو ناحق لے گا وہ اس جانور کی طرح ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے کچھ عطا فرما رہے تھے اور میں کہہ رہا تھا کہ یہ آپ اس کو عطا فرما دیں جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو۔ آپ نے فرمایا جب یہ مال تمہارے پاس آئے تو اس کو لے لو جبکہ تم اس مال کی طمع نہ رکھتے ہو، نہ اس مال کا سوال کرنے والے ہو تو اس مال کو لے لو، (صحیح مسلم میں ہے، پھر اس مال کو لے کر صدقہ کرو) اور جو مال اس طرح نہ ہو تو اس کے لئے اپنے نفس کو نہ تھکائو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :1473، صحیح مسلم رقم الحدیث :1045، سنن النسائی رقم الحدیث :2608)

جو شخص دنیا کے مال سے سیر نہیں ہوتا اور اس کو جس قدر مال ملتا ہے اس پر قناعت نہیں کرتا بلکہ اس کی کوشش یہ ہوئی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال کو جمع کرے۔ یہ وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحت کو نہیں سمجھا۔ وہ مال کے فتنہ میں مبتلا ہے اور اس سے انسان بہت کم سلامتی میں رہتا ہے۔ جس شخص کو بہ قدر ضرورت مال ملا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے دیئے ہوئے مال پر قانع کردیا، وہ شخص کامیاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : تاکہ ہم ان کو آزمائیں کہ ان میں کون سب سے اچھا عمل کرنے والا ہے۔ اس کی تفسیر میں ابن عطیہ نے کہا جو مال کو حق کے موافق لے اور اس مال کو ایمان کے ساتھ حق کے راستے میں خرچ کرے، فرائض، واجبات، سنن اور مستحبات کو ادا کرے اور مکر وہ کاموں سے اجتناب کرے، وہ شخص سب سے اچھے عمل کرنے والا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی : لنبلوھم ایھم احسن عملا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس آیت کا معنی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تاکہ ہم یہ آزمائیں کہ تم میں سے کس کی عقل زیادہ اچھی ہے اور تم میں سے کون اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے زیادہ پرہیز کرنے والا ہے اور تم میں سے کون زیادہ سرعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث :12704، الدار المنثور ج ٥ ص 361)

زہد اور قناعت کے متعلق احادیث 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پکڑا اور فرمایا : دنیا میں اس طرح رہو جیسے مسافر ہو یا راستہ عبور کرنے والا، اور اپنا شمارم قبروالوں میں کرو۔ مجاہد کہتے ہیں مجھ سے حضرت ابن عمر نے کہا جب تم صبح اٹھو تو شام کی توقع نہ کرو، بیماری آنے سے پہلے صحت کے ایام میں نیک عمل کرلو، اور موت آنے سے پہلے زندگی میں نیک عمل کرلو، اور اے بندہ خدا تم نہیں جانتے کہ کل تمہارا نام کیا ہوگا۔ (یعنی تم شقی ہو گے یا سعید ہو گے)

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6416، سنن الترمذی رقم الحدیث، 2333، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4141 مسند احمد ج ٢ ص 24 مصنف ابن ابی شیبیہ ج 13 ص 217 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :698 المعجم الکبیر رقم الحدیث :13470 المعجم الصغیر رقم الحدیث :63 حلیتۃ الاولیاء ج ١ ص 301، السنن الکبری للبیہقی ج ٣ ص 369 شعب الایمان رقم الحدیث :10245)

حضرت کعب بن عیاض (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر امت کے لئے ایک فتنہ ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2336، مسند احمد ج ٤ ص 160، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث :11129 صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 3223 المعجم الکبیر ج ١٩، رقم الحدیث :404، المستدرک ج ٤ ص 38)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ چاہتا ہے کہ اس کو تیسری وادی بھی مل جائے اور مٹی کے سوا کوئی چیز اس کا منہ نہیں بھر سکتی اور جو شخص توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6439، صحیح مسلم رقم الحدیث :1048، سنن الترمذی رقم الحدیث :2337، مسند احمد ج ٣ ص ١٠٠، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3223 المعجم الکبیر ج 19 رقم الحدیث :404، المستدرک ج ٤ ص 318)

حضرت ابو ذر ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زہد یہ نہیں ہے کہ تم حلال کو حرام کرو یا مال کو ضائع کرو، لیکن زہد یہ ہے کہ جو چیز تمہارے ہاتھوں میں ہے اس پر تمہیں اتنا اعتماد نہ ہو جتنا اس پر اعتماد ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جب تم پر کوئی مصیبت آئے تو اس کے ثواب میں تم کو اس سے زیادہ رغبت ہو کہ تم پر وہ مصیبت نہ آتی۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :3340، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4100)

حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزوں کے سوا ابن آدم کا کسی چیز میں حق نہیں ہے، اس کی رہائش کا گھر ہو، اس کی ستر پوشی کے لئے کپڑا ہو اور خشک روٹی اور پانی ہو۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2341، مسند احمد ج ١ ص 62، مسند البزار رقم الحدیث :414، حلیۃ الاولیاء، ج ١ ص 61 العجیم، الکبیر رقم الحدیث :147) مطرف اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے تو آپ اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے۔

الھکم التکاثر (التکاثر : ١) زیادہ مال جمع کرنے کی حرص نے تمہیں غافل کردیا۔

آپ نے فرمایا : ابن آدم کہتا ہے میرا مال، میرا مال اور اس کا مال تو صرف وہی ہے جس کو اس نے صدقہ کر کے روانہ کردیا، یا کھا کر فنا کردیا، یا پہن کر بوسیدہ کردیا۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث :2958، سنن الترمذی رقم الحدیث :2342، سنن النسائی رقم الحدیث :3613، مسند احمد ج ٤ ص ٢٤ صحیح ابن حبان رقم الحدیث :701 المستدرک ج ٢ ص 533 حلیتہ الاولیاء ج ٦ ص 281 السنن الکبریٰ ج ٤ ص 61)

سلمہ بن عبیداللہ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو شخص صبح کو اس حال میں اٹھے کہ اس کے اہل و عیال بخیریت ہوں اور اس کا جسم تندرست ہو اور اس کے پاس اس دن کی خوراک ہو تو گویا اس کے لئے تمام دنیا جمع کردی گئی ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2346، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4141، مسند حمیدی رقم الحدیث :208، 439) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ مسلمان کامیاب ہوگیا جس کو اس کی ضرورت کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اس کو اس پر قانع کردیا۔ 

(سنن الترمذی رقم الحدیث 2348، صحیح مسلم رقم الحدیث :1054، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 4138، مسند احمد ج ٢ ص 168، حلیتہ الاولیاء ج ٦ ص 129، السنن الکبریٰ ج ٤ ص 196، شرح السنتہ رقم الحدیث :4043)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ ساز و سامان سے غنا حاصل نہیں ہوتا لیکن غنا اس سے حاصل ہوتا ہے جس کا دل غنی ہو۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6446، سنن الترمذی رقم الحدیث : 2373، مسند احمد ج ٢ ص 389، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4147، مسند ابویعلی رقم الحدیث :6259، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :679)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چٹائی پر سو گئے اور آپ کے پہلو میں اس کے نقش ثبت ہوگئے تھے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ کے لئے گدا بنادیں ؟ آپ نے فرمایا : میرا دنیا سے کیا تعلق ہے، میں دنیا میں صرف اس سوار کی طرح ہوں جو کسی درخت کے ساتئے میں بیٹھے پھر اس کو چھوڑ کر آگے روانہ ہوجائے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2377، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٣ ص 217، مسند احمد ج ١ ص 391، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4109، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4998 المعجم الاوسط رقم الحدیث :9303، حلیتہ الاولیاء ج ٢ ص 102، المستدرک ج ١ ص 310، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ١ ص 337)

حضرت مقدام بن معدی کرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے برابر تن ابن آدم کا بھرا ہوا پیٹ ہے۔ ابن آدم کے لئے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو قائم رکھ سکیں اگر اس نے ضرور زیادہ کھانا ہو تو تہائی حصہ طعام کے لئے تہائی حصہ پانی کے لئے اور تہائی حصہ سانس لینے کے لئے رکھے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث :2380 مسند احمد ج ٤ ص 132 صحیح ابن حبان رقم الحدیث :674 المعجم الکبیر ج 20 رقم الحدیث 644 المستدرک ج ٤ ص 121، شرح السنتہ رقم الحدیث 4048 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2349)

زہد اور قناعت کی تعریفات 

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں :

زہد کی تعریف میں علماء کے متعدد اقوال ہیں، سفیان ثوری نے کہا امیدوں کو کم کرنا زہد ہے اور سوکھی روٹی کھانے اور لمبے کرتوں کے پہننے سے زہد حاصل نہیں ہوتا، ہمارے علماء (رض) نے کہا ہے کہ جس آدمی کی امیدیں کم ہوں وہ لذیذ کھانوں کا پیچھا نا نہیں کرتا اور نہ انواع و اقسام کے ملبوسات پہنتا ہے اور دنیا کی جو چیز آسانی سے مل جائے اس کو قبول کرلیتا ہے اور جو چیز اس کا مل جائے اس پر قناعت کرلیتا ہے، وہ زاہد ہے۔ اوزاعی نے کہا جو شخص اپنی تعریف ناپسند کرے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء میں لگا رہے۔ فضیل نے کہا تمام دنیا کو ترک کردینا زہد ہے خواہ وہ اس کے ترک کرنے کو پسند کرے یا ناپسند۔ بشربن الحارث نے کہا دنیا کی محبت لوگوں سے ملنے کی محبت ہے اور دنیا میں زہد لوگوں سے ملاقات میں زہد (بےرغبتی) ہے۔ ابراہیم بن ادھم نے کہا اس وقت تک کوئی شخص زاہد نہیں ہوگا جب تک کہ دنیا کو ترک کرنا اس کے نزدیک دنیا کو حاصل کرنے سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ عبداللہ بن المبارک نے کہا زہد یہ ہے کہ تم دل سے دنیا سے بےرغبتی کرو اور بعض نے کہا کہ موت سے محبت کرنا زہد ہے۔ (الجامع الاحاکم القرآن جز 10 ص 319 مطبوعہ دارالفکر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 7