حدیث نمبر 264

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ ہم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور مردے دفن کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎ جب سورج ظاہر ظہور طلوع ہورہا ہو حتی کہ بلند ہوجائے اور جب ٹھیک دوپہری قائم ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج ڈوبنے کے قریب ہوجائے حتی کہ ڈوب جائے ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ تمام علماء کے نزدیک یہاں دفن سے مراد نماز جنازہ ہے کیونکہ ان وقتوں میں دفن کرنے کو کوئی منع نہیں کرتا اور ان اوقات میں نماز جنازہ بھی جب ہی مکروہ ہوگی جب کہ جنازہ پہلے سے تیار ہو اور نماز میں دیر کی جائے لیکن اگر جنازہ آیا ہی اس وقت ہے تو نماز پڑھ لے۱۲

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے کہ وہاں طلو ع وغروب سے مراد صرف نکلنا وڈوبنا نہ تھا بلکہ اس سے بعد اور پہلے کا کچھ وقت بھی تھا۔خیال رہے کہ ٹھیک دوپہر شریعت میں نماز شرعی گیارہ بجے ہوا اور نہار نجومی کے نصفوں کا فاصلہ ہے مثلًا آج نصف النہار شرعی گیارہ بجے ہوا اور نصف النہار نجومی پونے بارہ بجے تو یہ پینتالیس۴۵ منٹ بیچ دوپہر ہیں ان میں نماز مکروہ۔شرعی دن پوپھٹنے سے شروع ہوتا ہے اور نجومی دن سورج چمکنے سے اور دونوں غروب آفتاب پرختم ہوجاتے ہیں۔