أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمۡ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبۡعُوۡثُوۡنَ خَلۡقًا جَدِيۡدًا ۞

ترجمہ:

ان کی یہ سزا اس بنا پر ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم ازسرنو پیدا کر کے ضرور اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کی یہ سزا اس بنا پر ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا واقعی ہم از سر نو پیدا کر کے ضرور اٹھائے جائیں گے۔ کیا نہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ ہی نے تو تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے (تو وہ) ان کی مثل دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے، اور اس نے ان کی ایک مدت مقرر کردی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے پس ظالموں نے کفر کے سوا (ہدایت کی) ہر چیز کا انکار کیا۔ (بنی اسرائیل : ٩٨، ٩٩)

اس سے پہلی آیتوں میں منکرین نبوت کے شبہات کے جواب دیئے تھے اور اس آیت میں حشر اور نشر کے منکرین کے شبہ کا جواب دیا ہے اور اس کی تقریر کئی بار گزر چکی ہے وہ کہتے تھے کہ مرنے کے بعد جب ہمارا جسم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائے گا اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر گل جائیں گی اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور مرور ایام سے ہمارے ذرات دوسرے ذرات میں خلط ملط ہوجائیں گے تو وہ ایک دوسرے سے کیسے ممتاز ہو کر مجمتمع ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ جو تمام آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے اور عدم محض سے ان کو وجود میں لاچکا ہے اس کے لیے ان کی مثل کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 98