باب اوقات النھی

ممانعت کے وقتوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی جن وقتوں میں نماز منع ہے۔خیال رہے کہ تین وقت وہ ہیں جن میں فرض نفل ہر نماز منع ہے:طلوع آفتاب،غروب اور نصف النہار(بیچ دوپہری)پانچ وقت وہ ہیں جن میں فرض جائز،نفل منع:صبح صادق سے سورج نکلنے تک،نماز عصر کے بعد سے سورج ڈوبنے تک،پھر آفتاب ڈوبنے کے بعد سے مغرب کے فرض پڑھنے تک،جمعہ کے خطبہ کے وقت،عید کے دن نماز عید سے پہلے،یہ کراہت ہر جگہ ہے مکہ معظمہ میں بھی اور دیگر مقامات میں بھی۱۲

حدیث نمبر 263

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی قصد نہ کرے کہ سورج نکلنے کے وقت اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا جب سور ج کا کنارہ چمک جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ بلند ہوجائے ۲؎ پھر جب سورج کا کنارہ چھپ جائے تو نماز چھوڑ دو حتی کہ پورا غائب ہوجائے اور اپنی نماز کے لیے سورج کے طلوع غروب کا وقت مقرر نہ کرو،کیونکہ وہ شیطان کے سینگوں کے بیچ میں طلوع ہوتا ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ سورج نکلنے سے مراد اس کے چمکنے سے بلند ہونے تک کا وقت ہے یعنی چمکنے سے بیس منٹ بعد تک اور ڈوبنے سے مراد پیلا پڑنے سے چھپنے تک کا وقت یعنی چھپنے سے بیس منٹ پہلے ہے جیسا کہ اور روایات میں ہے ۱۲

۲؎ کنارہ مشرق سے ایک نیزہ بلند ہو کر اس میں تیزی آجائے کہ اتنے عرصہ میں ہر نماز ممنوع ہے ۱۲

۳؎ اس طرح کہ ایک شیطان سورج کے ساتھ گردش کرتا رہتا ہے ہر جگہ سورج کا طلوع اس کے سینگوں کے بیچ میں ہوتا ہے۔اس کی تحقیق “اوقات نماز”کے باب میں گزر گئی۱۲