أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَيِّمًا لِّيُنۡذِرَ بَاۡسًا شَدِيۡدًا مِّنۡ لَّدُنۡهُ وَيُبَشِّرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ الَّذِيۡنَ يَعۡمَلُوۡنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ اَجۡرًا حَسَنًا ۞

ترجمہ:

مستقیم کتاب تاکہ وہ (عبد مکرم) اللہ کی طرف سے عذاب شدید سے ڈرائیں اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو یہ بشارت دیں کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مستقیم کتاب تاکہ وہ (عبد مکرم) اللہ کی طرف سے عذاب شدید سے ڈرائیں اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو یہ بشارت دیں کہ ان کے لئے بہترین اجر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (الکھف : ٣-٢)

انسان کا بااختیار ہونا 

ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ رسولوں کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ گناہ گار لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب کی بشارت دیں، اور جبکہ دفع ضرر، حصول نفع پر مقدم ہوتا ہے اسی لئے عذاب سے ڈرانے کو اجر وثواب کی بشارت دینے پر مقدم فرمایا ہے۔ اس آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ انسان مجبور محض نہیں ہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور وہ ان لوگوں کو ڈرائیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنا لی ہے (حالانکہ) نہ ان کے پاس اس کا کوئی علم ہے، نہ ان کے باپ دادا کے پاس تھا، یہ بہت سنگین بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے، یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں محض جھوٹ ہے اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے (الکھف 4-6)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب، ایمان کا راستہ دکھانا ہے، رہا ایمان کا پیدا کرنا سو وہ اللہ کا کام ہے 

اس سے پہلے فرمایا تھا تاکہ وہ عبدمکرم اللہ کی طرف سے عذاب شدید سے ڈرائیں اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ فرمایا اور وہ ان لوگوں کو ڈرائیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اولاد بنا لی ہے۔

جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد مانتے تھے، وہ تین قسم کے گروہ تھے :

(١) کفار عرب، جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔

(٢) نصاریٰ جو کہتے تھے کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔

(٣) یہود، جو کہتے تھے عزیز اللہ کے بیٹے ہیں۔

اس سے پہلے ہم سورة بنی اسرائیل کے آخر میں آیت ١١١ میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ہونا محال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ جھوٹ ہے، وہ اپنے باپ دادا کی تقلید میں ایسی سنگین بات اپنے مونہوں سے نکال رہے ہیں۔ جھوٹ کی تعریف یہ ہے جو کلام واقع کے مطابق نہ ہو۔ اس کے بعد فرمایا :

اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے۔

اس آیت م سے مقصود یہ ہے کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر رنج اور افسوس نہ کریں کیونکہ ہم نے آپ کو عذاب سے ڈرانے والا اور ثواب کی بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ہے، اور ان کے دلوں میں ایمان پیدا کرنے کا آپ کو مکلف نہیں کیا، یہ نہ آپ کی قدر میں ہے اور نہ آپ کے ذمہ ہے۔ آپ کا کام صرف انہیں دین اسلام کی دعوت دینا ہے اگر انہوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا تو اس میں ان کا فائدہ ہے اور اگر انہوں نے اس دعوت کو قوبل نہیں کیا تو اس میں ان ہی کا نقصان ہے۔ قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی اس مضمون کو بیان کیا گیا ہے :

فان اللہ یضل من یشآء ویھدی من یشآء فلا تذھب نفسک علیھم حسرات ط (فاطر ٨ )

اللہ جس میں چاہے گمراہی پیدا کرتا ہے اور جس میں چاہے ہدایت پیدا کرتا ہے۔ پس آپ ان پر غم کر کے اپنی جان کو ہلاکت میں نہ ڈالیں۔

لعلک باخع نفسک الایکونوا مومنین (الشعراء ٣) لگتا ہے ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ اپنی جان دے دیں گے۔

ولو شآء اللہ ما اشرکوا وما جعلنک علیھم حفیظا وما انت علیھم بوکیل (الانعام :107) اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان کی نگہبان نہیں بنایا اور نہ آپ ان کے ذمہ دار ہیں۔

فذکر انما انت مذکر لست علیھم بمصطیر (الغاشیہ :21-22) پس آپ نصیحت کیجیے، آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں آپ ان کو جبراً مومن بنانے والے نہیں ہیں۔

انک لاتھدی من احبیت ولکن اللہ یھدی من یشآء وھو اعلم بالمھتدین (القصص :56) جس میں چاہے ہدایت پیدا کرتا ہے اور وہی زیادہ جاننے والا ہے کہ کون ہدایت قبول کرنے والا ہے۔

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے واضح کردیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب ہدایت کو پیدا کرنا نہیں ہے۔ ہدایت کو پیدا کرنا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے، سو جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت پیدا نہیں کی اور وہ ایمان نہیں لایا تو آپ اس پر رنج اور افسوس نہ کریں کیونکہ اس کے ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہیں ہے کہ آپ کی تبلیغ اور رشد و ہدایت میں کوئی کمی ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ یہ بہت شقی ہے اور یہ ایمان لانے والا نہیں ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ہدایت کو پیدا ہی نہیں کیا اور آپ کسی کو جبراً مومن بنانے والے نہیں ہیں اور نہ آپ سے کسی کے ایمان نہ لانے پر سوال کیا جائے گا اور نہ آپ ان کے ایمان کے ذمہ دار ہیں آپ ہدایت کو پیدا کرنے والے نہیں ہیں، آپ کا منصب تو صرف نیکی اور خیر کا راستہ دکھانا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے :

وانک لتھدی الی صراط مستقیم (الشوری :52) اور بیشک آپ سیدھے راستے کی طرف ضرور ہدایت دیتے ہیں۔

سو آپ کا منصب صرف سیدھا راستہ دکھانا ہے، باقی اس ہدایت کو دل میں جما دینا اور کسی کو مومن بنادینا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے تو اگر آپ کے ہدایت دینے کے باوجود کوئی ایمان نہیں لایا تو آپ ملول اور افسردہ نہ ہوں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 18 الكهف آیت نمبر 2