أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلِ ادۡعُوا اللّٰهَ اَوِ ادۡعُوا الرَّحۡمٰنَ‌ ؕ اَ يًّا مَّا تَدۡعُوۡا فَلَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰى ‌ۚ وَلَا تَجۡهَرۡ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتۡ بِهَا وَابۡتَغِ بَيۡنَ ذٰ لِكَ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

آپ کہیے تم اللہ کہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، تم جس نام سے بھی پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں، اور آپ نماز میں نہ بہت بلند آواز سے قرآن پڑھیں اور نہ بہت پس آواز سے اور ان دونوں کے درمیان طریقہ اختیار کریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے تم اللہ کہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو، تم جس نام سے بھی پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں، اور آپ نماز میں نہ بہت بلند آواز سے قرآن پڑھیں اور نہ بہت پس آواز سے اور ان دونوں کے درمیان طریقہ اختیار کریں۔ (بنی اسرائیل : ١١٠)

اللہ اور رحمن پکارنے کے متعدد شان نزول :

اس آیت کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں فرمایا ہے : آپ کہیے تم اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر پکارو تم جس نام سے بھی پکارو سب اسی کے اچھے نام ہیں۔ اس کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں۔

١۔ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سجدہ میں کہہ رہے تھے یا رحمن، یا رحیم، مشرکین نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو صرف ایک خدا کی دعوت دیتے ہیں اور اب دو معبودوں کو پکار رہے ہیں، اللہ اور رحمن، ہم تو صرف یمامہ کے رحمن کو جانتے ہیں ان کی اس سے مراد مسلیمہ کذاب تھی۔

٢۔ میمون بن مہران نے کہا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے ابتدائی ایام میں لکھتے تھے : باسمک اللھم حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ (النمل : ٣٠) تو پھر آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے لگے، تب مشرکین نے کہا رحیم کو تو ہم پہچانتے ہیں یہ رحمن کیا چیز ہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔

٣۔ ضحاک نے بیان کیا کہ اہل کتاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا آپ رحمن کا ذکر بہت کم کرتے ہیں حالانکہ تورات میں اس اسم کا بہت ذکر ہے تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٩٨، ٩٩، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء اچھے اور حسین ہیں اس لیے جس لفظ میں کسی اعتبار سے کوئی نقص کا پہلو ہو اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر جائز نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی ذت کو تو کسی بھی اسم علم سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ پر اسی صفت کا اطلاق کرنا جائز ہے جس صفت کا قرآن اور حدیث میں ذکر آچکا ہو۔ اس بحث کی پوری تفصیل الاعراف : ١٨٠ میں ملاحظہ فرمائیں۔

پست آواز اور بلند آواز سے نماز میں قرآن مجید پڑھنے کے محامل :

اس آیت کا دوسرا حصہ یہ ہے اور آپ نماز میں نہ بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بہت پست آواز سے اور ان دونوں کے درمیان طریقہ اختیار کریں۔

اس آیت کے سبب نزول میں بھی متعدد اقوال ہیں :

حضرت ابن عباس نے فرمایا :

١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں بلند آواز سے قرآن پڑھتے تھے تو مشرکین قرآن کو اللہ تعالیٰ کو اور آپ کو برا کہتے تھے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت پست آواز سے قرآن پڑھنا شروع کردیا حتی کہ آپ کے اصحاب کو سنائی نہیں دیتا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٢٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٤٥، مسند احمد ج ١ ص ٢١٥)

٢۔ حضرت عائشہ نے فرمایا ایک اعرابی تشہد کو بلند آواز سے پڑھتا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٧٢١٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

٣۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ حضرت ابوبکر جب قرات کرتے تو آواز پست رکھتے اور حضرت عمر جب قرات کرتے تو آواز کو بلند رکھتے، حضرت ابوبکر سے پوچھا گیا آپ اس طرح کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں اپنے رب سے مناجات کرتا ہوں اور اس کو میری حاجت کا علم ہے، ان سے کہا گیا آپ اچھا کرتے ہیں اور حضرت عمر سے کہا گیا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں شیطان کو بھگاتا ہوں اور سوئے ہوئے لوگوں کو جگاتا ہوں، ان سے کہا گیا آپ اچھا کرتے ہیں اور جب یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نماز میں نہ بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بہت پست آواز سے، تو حضرت ابوبکر سے کہا گیا کہ آپ آواز کچھ بلند کریں اور حضرت عمر سے کہا گیا کہ آپ آواز کچھ پست کریں۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٧٢١١، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

٤۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ دن کی نمازوں میں بلند آواز سے قرات نہ کریں اور رات کی نمازوں میں پست آواز سے قرات نہ کریں۔ 

یہ حکم فرائض کا ہے اور نوافل میں نمازی کو اختیار ہے خواہ وہ رات کے نوافل میں آہستہ قرات کرے یا بلند آواز سے اور یہی مالکیہ کا مذہب ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠ ص ٣٠٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 110