أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّوۡ اَنۡـتُمۡ تَمۡلِكُوۡنَ خَزَآئِنَ رَحۡمَةِ رَبِّىۡۤ اِذًا لَّاَمۡسَكۡتُمۡ خَشۡيَةَ الۡاِنۡفَاقِ‌ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ قَتُوۡرًا۞

ترجمہ:

آپ کہیے اگر تم (بالفرض) میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ کے ڈر سے ان کو روکے رکھتے اور (دراصل) انسان ہے ہی بخیل۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے اگر تم (بالفرض) میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو تم خرچ کے ڈر سے ان کو روکے رکھتے اور (دراصل) انسان ہے ہی بخیل۔ (بنی اسرائیل : ١٠٠)

حرص کی مذمت :

کفار مکہ نے یہ کہا تھا ہم آپ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ آپ ہمارے لیے زمین سے چشمہ نکال دیں (بنی اسرائیل : ٩٠) انہوں نے اپنے شہروں میں دریاؤں اور چشموں کا مطالبہ اس لیے کیا تھا تاکہ ان کے اموال زیادہ اور ان کی معیشت ان پر وسیع ہوجائے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ زمین کی پیداوار کا ان پر زیادہ ہوجانا اتنی بڑی چیز نہیں ہے، اگر وہ بالفرض اللہ تعالیٰ کے تمام خزانوں کے بھی مالک ہوجائیں پھر بھی ان کی حرص اور ان کا بخل کم نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ کے فضل کے خزانے اور اس کی رحمتیں غیر متناہی ہیں بالفرض اگر وہ ان سب کے مالک ہوجائیں تب بھی ان کی طمع ختم نہیں ہوگی اور نہ ان کا بخل ختم ہوگا۔

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر ابن آدم کے لیے مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کو تلاش کرے اور ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرلے اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٣٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٤٩ )

بعض انسانوں کی سخاوت کے باوجود انسان کے بخیل ہونے کی توجیہ :

اس آیت میں فرمایا ہے : اور دراصل انسان ہے ہی بخیل اس پر یہ اعتراض ہے کہ بہت سارے انسان سخی ہوتے ہیں اور ساری عمر سخاوت کرتے رہتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی اصل میں بخل ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ایک شیر خوار بچے کی طرف آپ کوئی خوبصورت چیز بڑھائیں تو وہ لے لے گا اور اگر اسکے ہاتھ سے کوئی چیز لینا چاہیں تو وہ نہیں دے گا، دوسرا جواب یہ ہے کہ انسان کو محتاج بنایا گیا ہے اور محتاج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پاس اس چیز کو سنبھال کر رکھے جس کی اس کو ضرورت ہو البتہ بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر وہ سخاوت بھی کرتا ہے، اور اس کا تیسرا جواب یہ ہے انسان کبھی دنیا میں تعریف اور تحسین کی بنا پر سخاوت کرتا ہے اور کبھی اپنے فرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لیے اخروی اجر وثواب کے لیے سخاوت کرتا ہے تو اس کی سخاوت بھی کسی غرض یا کسی عوض کے لیے ہوتی ہے پس واضح ہوگیا کہ انسان اپنی اصل فطرت میں بخیل ہے۔

بخل کی مذمت میں احادیث :

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے کے اندھیرے ہیں اور بخل کرنے سے بچو کیونکہ پچھلی امتوں کو بخل نے ہلاک کردایا تھا، اس بخل نے ان کو خون ریزی کرنے اور حرام کو حلال کرنے پر ابھارا تھا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٧٨)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان میں جو چیز شر ہے وہ حرص والا بخل ہے اور ہلاک کرنے والی بزدلی ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٥١١، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٢٥١١)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا راہ خدا میں جانے کا غبار اور دوزخ کا دھواں کسی بندے کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوگا اور بخل اور ایمان کسی بندے کے دل میں کبھی جمع نہیں ہوگا۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٤٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٥٨٧، المستدرک ج ٢ ص ٧٢)

نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ بخیل، ظالم کی بہ نسبت معذور ہے، حضرت ابن عمر نے فرمایا تم نے جھوٹ کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بخیل جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ (المعجم الاوسط، رقم الحدیث : ٤٠٦٦، الترغیب والترہیب رقم الحدیث : ٣٨٣٧)

حضرت ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے، دغا باز، منان (احسان جتلانے والا) اور بخیل۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٦٣، مسند احمد ج ١ ص ٤، ٧، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٩٣)

حضرت ابوبکر صدیق بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن میں دو خصلتیں جمع نہیں ہوں گی بخل اور بدخلقی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٦٢، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٢٢٨، حلیۃ الاولیاء ج ٢ ص ٢٥٨ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سخی اللہ کے قریب ہے، جنت کے قریب ہے، لوگوں کے قریب ہے، اور بخیل اللہ سے دور ہے جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، دوزخ کے قریب ہے اللہ کو جاہل سخی، بخیل عابد سے زیادہ محبو ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٦١، کتاب الضعفا اللعقیلی ج ٢ ص ١١٧)

حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف وہی چیزیں ہیں جو مجھے حضرت زبیر نے دیں ہیں کیا ان میں سے کچھ دوں، آپ نے فرمایا ہاں، تم اپنی ہتھیلی کا منہ باندھ کر نہ رکھو ورنہ اللہ بھی اپنے خزانے کا منہ بند کرلے گا اور تم گن گن کر نہ دو ورنہ اللہ بھی تم کو گن گن کر دے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٦٠، مسند حمیدی رقم الحدیث : ٣٢٥، مسند احمد ج ٦ ص ١٣٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٦٩٩، المعجم الکبیر ج ٢٤، رقم الحدیث : ٢٤٦ )

حضرت ابو ذر بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین آدمیوں سے اللہ محبت رکھتا ہے اور تین آدمیوں سے اللہ بغض رکھتا ہے، جن تین آدمیوں سے اللہ محبت رکھتا ہے وہ یہ ہیں :

١۔ ایک شخص کسی قوم کے پاس گیا اور ان سے اللہ کے نام پر سوال کیا اس نے ان کے ساتھ اپنی کسی قرابت کی بنا پر سوال نہیں کیا تھا ان لوگوں نے اس کو منع کیا پھر ان ہی لوگوں میں سے ایک شخص اس کے پیچھے گیا اور چپکے سے اس کو دے دیا اور اس کے عطیہ کا اللہ کے سوا کسی کو علم نہیں تھا، یا پھر اس شخص کو علم تھا۔ (٢) اور کچھ لوگ رات کو سفر پر گئے حتی کہ جب ان پر نیند بہت مرغوب ہوگئی تو وہ اپنی سواریوں سے اترے اور اپنے سر رکھ کر سوگئے ان میں سے ایک شخص اٹھا اور میری خوشامد کرنے لگا اور میری آیات تلاوت کرنے لگا۔ (٣) اور ایک شخص کسی لشکر میں تھا اس کا دشمن سے مقابلہ ہوا دشمن غالب آگئے تو وہ شخص اپنا سینہ نکال کر آگے بڑھا حتی کہ وہ شہید کردیا گیا یا اس کو فتح نصیب ہوگئی۔

اور جن تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے وہ یہ ہیں : (١) بوڑھا زانی (٢) متکبر فقیر (٣) ظالم غنی۔ امام ابن حبان کی روایت میں متکبر فقیر کی جگہ بخیل کا لفظ ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٦٨، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ج ٥ ص ٢٨٩، مسند احمد ج ٥ ص ١٥٣، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٤٥٦، صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث : ٢٤٥٦، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٣٤٩، المستدرک ج ٢ ص ١١٣)

حسن بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ کسی قوم سے خیر کا ارادہ کرتا ہے تو ان کے معاملات کا والی حکما کو بنا دیتا ہے اور مال سخیوں کے پاس رکھتا ہے، اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ شرکا ارادہ کرتا ہے تو ان کے معاملات کا والی جاہلوں کو بنا دیتا ہے اور مال بخیلوں کے پاس رکھ دیتا ہے۔ (فردوس للدیلمی رقم الحدیث : ٩٥٤، الترغیب والترہیب رقم الحدیث : ٣٨٤٧ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 100