مال کی محبت کا انجام

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! ثعلبہ بن حاطب ایک نہایت ہی مفلس مسلمان تھے وہ رب قدیر کی بارگاہ میں بہت ہی زیادہ سجدے کیا کرتے تھے ان کے کثرت سجود کی وجہ سے ان کے ماتھے پر داغ ہی نہیں بلکہ ان کا ماتھا گھٹنے کہ طرح پھول گیا تھا مگروہ نماز پڑھ کر سب سے پہلے مسجد سے نکل جاتے تھے ایک مرتبہ سرکار دو عالم ا نے ان سے دریافت فرمایا کہ اے ثعلبہ! تم مسجد سے نماز پڑھ کر سب سے پہلے کیوں نکل جایا کرتے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں یارسول اللہ ﷺ میرے پاس صرف یہی ایک لباس ہے۔ لہٰذا جب میں نماز پڑھ کر اپنے گھر کو واپس جاتاہوں تو اسی لباس کو پہن کر میری بیوی نماز پڑھتی ہے۔ یارسول اللہ ا میرے لئے اللہ سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے مال کی فروانی عطا فرمائے۔ سرکار دوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا اے ثعلبہ ! تمہارے لئے مفلسی ہی بہتر ہے۔ لیکن ثعلبہ نے حضورﷺ کی بات نہ مانی اور اپنی بات پر بضد رہے تو سرکار کون و مکاںﷺ نے ارشاد فرمایا اے ثعلبہ تمہیں کون سا مال پسند ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھے بکری سب سے زیا دہ پسند ہے سرکارﷺ نے ان کے لئے دعا فرمادی ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ثعلبہ کو اللہ تعالیٰ نے بکریوں کا ایک ریوڑ عطا فرما دیا۔

دھیرے دھیرے ان بکریوں کی تعداد بڑھتی گئی حتی کہ ثعلبہ کو مدینہ کے باہر ایک میدان میں پناہ لینی پڑی، اور جب بکریوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تو ثعلبہ کو مدینہ سے دور جنگل میں پناہ لینی پڑی، پھر کیا تھا ان بکریوں کیوجہ سے ان کی مشغولیت بڑھتی گئی یہاں تک کہ ان کی مشغولیت ان کے لئے نماز سے مانع ہو گئی پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ صرف نماز جمعہ ادا کرنے کے لئے مسجد نبوی کا قصد کرتے تھے۔ جب آیتِ زکوٰۃ نازل ہوئی تو سرور کائنات ﷺ نے تمام مسلمانوں کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم فرمایااور ثعلبہ کے پاس بھی اپنے قاصدوں کو روانہ فرمایا جب قاصد ثعلبہ کے پاس پہونچے اور ان کو سرکارﷺ کا حکم سنایا تو انہوں نے سوچا کہ اس طرح تو میری بہت ساری بکریاں کم ہو جائیں گی۔ (معاذ اللہ) یہ سوچ کر انہوں نے قاصدوں سے کہا کہ میں بعد میں سوچوں گا۔ جب دوبارہ ان کے پاس سرکارﷺ نے اپنے قاصدوں کوروانہ فرمایا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو ایک قسم کا تاوان ہے، قاصدوں نے سرکارﷺ  کو اس امر کی خبر دی تو سرکارﷺ نے فرمایا کہ اب ثعلبہ کی بربادی قریب ہے۔ اسی وقت قرآن پاک کی آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس آیت میں ثعلبہ کو منافق کہا گیا۔

اس آیت کے نزول کے وقت ثعلبہ کا کوئی قریبی وہاں موجود تھا، جس نے ان کو اس امر کی خبر دی تو وہ بہت ہی پچھتائے اور اپنے مال کا صدقہ لے کر سرکار ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سرکار ﷺ نے فرمایا اے ثعلبہ میں نے اسی لئے کہا تھا کہ تمہارے لئے یہی بہتر ہے اور اب اللہ تعالیٰ نے بھی تمہارے صدقے کو رد کر دیا ہے لہٰذا میں تمہارے صدقہ کو قبول نہیں کر سکتا، ثعلبہ مایوس ہو کر وہاں سے واپس ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اپنے مال کا صدقہ لے کر حاضرہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب کونین کے تاجدار ا نے تمہارے صدقہ کو رد فرما دیا ہے تو میری کیا مجال کہ میں تمہارے صدقے کو قبول کر لوں، یوں ہی وہ حضرت سیدنا عمر و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو ان حضرات نے بھی ان کے صدقے کو رد فرما دیا اب ثعلبہ بالکل مایوس ہو کر واپس ہوئے اور اسی حسرت کے عالم میں ان کا انتقال ہو گیا۔ (صاوی )