مرناہی ہے تو نافرمان کیوں مریں

جو دیندار اور پرہیزگار بن کر زندگی گزارے گا وہ بھی مرنے والا ہے اور جو نافرمانی میں زندگی گزارے گا وہ بھی مرنے والا ہے،اس دنیا میں ہمیشہ کسی کو نہیں رہنا ہے ،فرق اتنا ہے کہ جو دینداری کی حالت میں مرے گا وہ ہمیشہ کے جہاں میںاللہ کی رضا لیکر گیا،اور جو نافرمانی میں مرے گا اللہ کی ناراضگی لیکر گیا،جب مرنے سے کوئی بچ ہی نہیں سکتا تو پھر نافرمانی لیکر کیوں جائیں،اسی نے ہمیں پیدا کیاوہی ہمارا خالق ہے وہی ہمارا مالک ہے تو ہم اسی رضا لیکر جائیں،جس کی باگاہ میں ہیشہ رہنا ہے اسکی اطاعت لیکر جائیں،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یاایھا الذین آمنوا اتقو اللہ حق تقاتہ ولا تموتن الا وانتم مسلمون،اے ایمان والو اللہ سے کما حقہ ڈرو اور ہرگز نہ مرو مگر مسلمان ہوکر،یہ کس لیا فرمایا جارہا ہے اسے بھی قرآن نے واضح فرمایا ان الابرار لفی نعیم ،وان الفجار لفی جحیم،بیشک نیک لوگ جنت میں ہیں اور برے جھنم میں ہیں،اور فرماتا ہے اما من طغیٰ واٰثر الحیوٰۃ الدنیا فان الجحیم ھی الماٗویٰ جسنے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تو دوزخ اسکا ٹھکانہ ہے ،واما من خاف مقام ربہ و نھی النفس عن الھوی فان الجنۃ ہی الماٗویٰٰ،اور جو اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اور نفس کو خوہش سے روکا تو جنت اسکا ٹھکانہ ہے

ان آیتوں میں عمل اور اسکے انجام کار سے اس دنیا میں ہمیں واقف کر دیا گیا ہے اب ہماری طرف سے ایسی کوئی خطا نہیں ہونی چاہیئے جس کی وجہ سے ہمیں آخرت میں زحمتوں کا سامنا کرنا پڑے،لمحوں کے آرام کے لئے صدیوں کا آرام چھوڑنا ہماری عقلمندی نہیں ہے 

دعا ہے اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کے وسیلہ سے ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے،برائیوں سے محفوظ رکھ کر اطاعت کی زندگی عطا فرمائے،ہمیں ایسی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اسی کی رضا میں جیئیں اور اسکی کی رضا میں مر جائیں،ہمیں معاشرہ کو خوشگوار اسلامی معاشرہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے(آمین بجاہ النبی الحبیب ﷺ)