أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبِالۡحَـقِّ اَنۡزَلۡنٰهُ وَبِالۡحَـقِّ نَزَلَ‌ ؕ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا ‌ۘ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے قرآن کو صرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے اور ہم نے آپ کر صرف بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے قرآن کو صرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے اور ہم نے آپ کر صرف بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے (حسب موقع) نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو بتدریج نازل کیا ہے۔ آپ کہیے کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ بیشک جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا کیا ہوا ہے۔ اور وہ ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں اور قرآن ان کے خشوع اور خضوع کو اور بڑھا دیتا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٠٩۔ ١٠٥)

قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل کرنا۔

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر تمام انس اور جن ملکر قرآن مجید کی نظیر لانا چاہیں تو نہیں لاسکتے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید معجزہ ہے اور ظاہر ہے کہ اس معجزہ کے ہوتے ہوئے کفار کے فرمائشی معجزات دکھانے کی ضرورت نہیں اور اب اللہ تعالیٰ قرآن مجید کی مزید حقانیت واضح کرنے کے لیے فرما رہا ہے اور ہم نے قرآن کو صرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے قرآن مجید کو حق کے ساتھ نازل کرنے کی یہ وجہ ہے :

١۔ حق اس چیز کو کہتے ہیں جو ثابت ہو اور زائل نہ ہوسکے، کیونکہ جو چیز باطل ہو وہ زائل ہوجاتی ہے اور قرآن کریم جن امور کے بیان پر مشتمل ہے وہ زائل نہیں ہوسکیں، کیونکہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کے بیان پر مشتمل ہے، اور اس میں ملائکہ کا ذکر ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت پر دلائل ہیں، قیامت اور حشر نشر کا ذکر ہے اور ان میں سے کوئی چیز زوال پذیر نہیں ہے اور اس میں شریعت اسلامیہ کا ذکر ہے جس کے احکام ناقابل تنسیخ ہیں اور خود یہ کتاب لافانی ہے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کا ضامن ہے، اس کتاب میں کمی یا زیادتی یا تحریف یا تنسیخ نہیں ہوسکتی، نہ اس کتاب کی کوئی مثال لاکر اس سے معارضہ کیا جاسکتا ہے۔

پھر فرمایا ہم نے آپ کو بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اس ارشاد میں ان کی اس بات کا جواب ہے کہ وہ آپ سے فرمائشی معجزات طلب کرتے تھے تو بتایا کہ یہ جہلاء اور منکرین آپ سے طرح طرح کے معجزات طلب کرتے ہیں اگر یہ جہلاء آپ کے دین کو قبول کرلیں تو فبھا ورنہ ان کے کفر پر جمے رہنے سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، ہم نے تو آپ کو صرف بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔

قرآن مجید کو تھوڑا تھوڑا نازل کرنے کی وجہ :

اس کے بعد فرمایا اور قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے حسب موقع نازل کیا۔

اس آیت میں ان کے اس سوال کا جواب ہے کہ چلو مان لیا کہ قرآن مجید معجز ہے لیکن تھوڑا تھوڑا کر کے کیوں نازل ہوا ہے مکمل قرآن یک بارگی کیوں نازل نہیں ہوا، جیسے تورات اور انجیل یک بارگی نازل ہوگئیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اس لیے نازل کیا ہے کہ لوگوں کو قرآن مجید کا یاد کرنا آسان ہو، نیز نزول قرآن کی مدت کے درمیان لوگ مختلف قسم کے سوال کرتے رہتے تھے اور ان کے سوالات کے جوابات میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی رہتی تھیں اگر مکمل قرآن ایک ہی بار نازل ہوا ہوتا تو اس سے یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا، نیز مکمل قرآن تئیس سال میں نازل ہوا اور تئیس سال تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل ہوتی رہی اور تمام زمانہ رسالت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے رب سے رابطہ قائم رہا، اور بار بار نزول وحی کی وجہ سے حضرت جبریل کو بار بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوتا رہا، نیز تورات کا نزول پہاڑ طور پر ہوا تھا، اور قرآن مجید کے بار بار نزول کی بنا پر جو شرف ایک مرتبہ صرف پہاڑ کو حاصل ہوا تھا وہ شرف مکہ کی گلیوں اور بازاروں کو غار حرا اور غار ثور کو وادی بدر کو احد کی گھاٹیوں کو حتی کہ ام المومنین حضرت عائشہ کے بستر کو بھی حاصل ہوا۔

ایمان لانے میں اہل کتاب کی عاجزی :

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا جن کو اس کا علم دیا گیا ہے وہ جب اس کی تلاوت کرتے ہیں تو ٹھوڑیوں کے بل گرپڑتے ہیں۔

اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ٹھوڑی ڈاڑھی سے کنایہ ہے اور جب انسان زیادہ خضوع اور خشوع سے سجدے میں مبالغہ کرتا ہے تو اس کی داڑھی بھی مٹی سے مس کرتی ہے اور انسان ڈاڑھی کی بہت تعظیم کرتا ہے اور جب وہ اپنی ڈاڑھی بھی اللہ کے سامنے زمین پر رکھ دیا تو یہ اس کا اللہ کے سامنے انتہائی زلت اور بندگی کا اظہار ہے۔

اس کی تفسیر میں دوسرا قول یہ ہے کہ انسان پر جب اللہ تعالیٰ کے خوف کا غلبہ ہوتا ہے تو بسا اوقات وہ اللہ کے حضور سجدہ میں گرپڑتا ہے اور ایسی صورت میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ٹھوڑی کے بل گرپڑا۔

پھر فرمایا وہ کہتے ہیں ہمارا رب سبحان ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ ضرور پورا کیا ہوا ہے۔

یعنی قرآن مجید کو نازل کر کے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کر کے اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ اہل کتاب تھے کیونکہ ان کی کتابوں میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کرنے کا وعدہ فرمایا تھا اور وہ اس وعدہ کے پورے ہونے کے منتظر تھے۔

پھر فرمایا وہ ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں اور قرآن ان کے خضوع اور خشوع کو اور زیادہ کردیتا ہے۔

خضوع اور خشوع سے مراد ان کی تواضع ہے، اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت کمتر اور حقیر گردانتے ہیں اور اپنے ایمان لانے کو کوئی کمال اور فخر کی چیز نہیں گردانتے، اور یہ کہ ان کا ایمان لانا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر احسان نہیں ہے اگر وہ ایمان نہ لاتے تو بہت لوگ جو ان سے بہتر ہیں وہ ایمان لا چکے ہیں۔

مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ کے رونے کی وجہ سے آپ کے سینے سے ایسی آواز آتی تھی جیسے دیگچی سے سالن ابلنے کی آواز آتی ہے یا جیسے چکی کے چلنے کی آواز آتی ہے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٩٠٤، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٢١٣)

اگر نماز میں انسان خوف خدا سے روئے اور رونے کی آواز نکلے، امام شافعی فرماتے ہیں اگر اس کے رونے سے حرف سنائی دیں اور ان کا کوئی معنی سمجھ آئے تو نماز ٹوٹ جائے گی اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اگر خوف خدا سے رونے کی آواز آئے تو نماز نہیں ٹوٹے گی اور اگر درد سے رو رہا ہو تو نماز ٹوٹ جائے گی، امام مالک کے اس مسئلہ میں کئی اقوال ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 105