أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِىۡ لَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ شَرِيۡكٌ فِى الۡمُلۡكِ وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ وَلِىٌّ مِّنَ الذُّلِّ‌ وَكَبِّرۡهُ تَكۡبِيۡرًا۞

ترجمہ:

اور آپ کہیے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ اپنی اولاد بنائی اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کسی کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے، اور آپ اس کی کبریائی بیان کرتے رہیے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کہیے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے نہ اپنی اولاد بنائی اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کسی کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے، اور آپ اس کی کبریائی بیان کرتے رہیے۔ (بنی اسرائیل : ١١١)

اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ہونے پر دلائل :

اس آیت میں فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے اولاد نہیں بنائی اولاد نہ ہونے کے حسب ذیل دلائل ہیں ؛

١۔ ولد اپنے والد کا جز ہوتا ہے، لہذا اس شخص کی اولاد ہوگی جس کے اجزا ہوں گے، اللہ تعالیٰ اجزا سے پاک ہے اس لیے اس کی اولاد کا ہونا محال ہے۔

٢۔ جس شخص کی اولاد ہوتی ہے وہ اپنی تمام نعمتیں اپنی اولاد کے لیے روک کر رکھتا ہے اور جب اس کی اولاد نہیں ہوتی تو وہ اپنی نعمتیں اپنے غلاموں اور دیگر متعلقین کو دے دیتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کی اولاد ہوتی تو وہ اپنے خزانوں کا منہ اپنے بندوں پر نہ کھولتا۔

٣۔ ولد ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ والد کے فوت ہونے کے بعد ولد اس کا قائم مقام ہو اور اللہ تعالیٰ فوت ہونے سے پاک ہے۔

٤۔ ولد والد کی جنس سے ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ کا ولد ہوتا تو وہ اس کی جنس سے ہوتا، اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے تو ضروری ہوا کہ اگر اس کا ولد ہوتا تو وہ بھی واجب اور قدیم ہوتا اور واجب اور قدیم متعدد نہیں ہوسکتے، نیز ولد والد سے متاخر نہیں ہے اور جو متاخر ہو وہ واجب اور قدیم نہیں ہوسکتا۔

اللہ تعالیٰ کے شریک نہ ہونے پر دلائل اور وہی تمام تعریفوں کا مستحق ہے :

اس کے بعد فرمایا کہ ملک میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ اگر ملک میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہو تو یہ ملک ایک طرز اور ایک نہج پر نہ ہوتا اور ہر شریک اس ملک کو اپنی مرضی کے مطابق بنانے اور چلانے کی کوشش کرا۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے تو وہ واجب ہے یا ممکن ہے اس کا واجب ہونا اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ واجب ہے اگر شریک بھی واجب ہو تو تعدد وجباء لازم آئے گا اور یہ محال ہے، کیونکہ اگر دو واجب ہوں تو ہر ایک میں وجوب مشترک ہوگتا اور دو چیزیں بغیر امتیاز کے نہیں ہوسکتیں تو ان میں ایک جز ایسا ہوگا جس سے دونوں ممتاز ہوں پس ہر ایک دو جزوں سے مرکب ہوگا ایک جز و مشترک اور دورا جز ممیز، پس ہر دو مرکب ہوں گے اور جو مرکب ہو وہ اپنے جز کا محتاج ہوتا ہے اور جو محتاج ہو وہ واجب نہیں ہوسکتا، پس اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا، اور اگر وہ شریک ممکن ہے تو وہ اپنے وجود میں خود کسی علت کا محتاج ہوگا اور جو محتاج ہو وہ ملک اور سلطنت میں اللہ تعالیٰ کا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔

اسی طرح ہم کہیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے تو وہ قدیم ہے یا حادث، اگر وہ قدیم ہے تو اللہ بھی قدیم ہے، پھر تعدد قدماء لازم آئے گا اور وہ بھی اسی طرح محال ہے اور اگر وہ حادث ہے تو وہ اپنے حدوث میں کسی علت کا محتاج ہوتا اور جو اپنے وجود میں کسی علت کا محتاج ہو وہ ملک اور سلطنت میں اللہ کا شریک کیسے ہوسکتا ہے۔

اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ضعف کی وجہ سے کسی مددگار کا محتاج ہو، کیونکہ وہ تنہا بلا شرک غیر تمام کائنات کا خالق ہے اس میں ضعف کیسے متصور ہوکستا ہے۔

اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی مددگار ہے تو تمام مخلوق کو جتنی بھی نعمتیں ملی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ سے ہی ملی ہیں، اس کے سوا کوئی نعمت دینے والا نہیں ہے تو پھر تمام تعریفوں کا مستحق بھی وہی ہے۔

اللہ تعالیٰ کی کبریائی :

پھر فرمایا آپ اس کی کبریائی بیان کرتے رہیے اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی حسب ذیل اقسام ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی کبریائی یعنی یہ اعتقاد ہو کہ اللہ تعالیٰ واجب اور قدیم ہے اس کی تمام صفات مستقل بالذات ہیں اور وہی تمام عبادات اور تمام محامد کا مستحق ہے۔

٢۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کبریائی یعنی یہ اعتقاد ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور نقص سے منزہ ہے، اس کی تمام صفات غیر متناہی ہیں، اس کے علم کی کوئی حد ہے نہ اس کی قدرت کی، اس کی تمام صفات تغیر اور زوال سے پاک ہیں۔

٣۔ اس کے احکام کی کبریائی یعنی یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ مالک مطلق ہے، کسی چیز کا حکم دینا اور کسی کام سے منع کرنا اسی کا حق ہے، وہ جس کو چاہے دنیا اور آخرت میں عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے کسی کو اس پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔

٤۔ انسان اپنی عقل اور اپنی فہم سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کرسکتا، اور انسان اپنی زبان، اپنے دل و دماغ اور اپنے تمام اعضاء سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرسکتا اور اس کی عبادت کا حق ادا نہیں کرسکتا، نہ اس کی پوری معرفت حاصل ہوسکتی ہے نہ اس کی نعمتوں کا پورا شکر ادا ہوسکتا ہے، اور نہ اسکی پوری عبادت ہوسکتی ہے اور یہی اس کی کبریائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 111