أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَهُوَ الۡمُهۡتَدِ‌ ۚ وَمَنۡ يُّضۡلِلۡ فَلَنۡ تَجِدَ لَهُمۡ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِهٖ‌ ؕ وَنَحۡشُرُهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَلٰى وُجُوۡهِهِمۡ عُمۡيًا وَّبُكۡمًا وَّصُمًّا‌ ؕ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ ؕ كُلَّمَا خَبَتۡ زِدۡنٰهُمۡ سَعِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور جس کو اللہ ہدیت دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جن کو وہ گمراہ کردے تو ان کے لیے آپ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم قیامت کے دن ان کو ان کے مونہوں کے بل اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی وہ بجھنے لگے گی تو ہم اس کو ان کے لیے بھڑکا دیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جس کو اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت یافتہ ہے اور جن کو وہ گمراہ کردے تو ان کے لیے آپ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم قیامت کے دن ان کو ان کے مونہوں کے بل اٹھائیں گے اس حال میں کہ وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے جب بھی وہ بجھنے لگے گی تو ہم اس کو ان کے لیے بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧)

کافر کے سر کے بل چلنے اور قیامت کے دن اس کے اندھے، بہرے اور گونگے ہونے کی توجیہات :

اس آیت میں ان ہٹ دھرم کافروں کے متعلق وعیدہ ہے جو واضح دلائل اور روشن معجزات دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لائے۔

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا اے اللہ کے نبی ! قیامت کے دن کافر الٹا کیسے چلے گا، آپ نے فرمایا جس ذات نے اس کو دنیا میں پیروں سے چلایا وہ اس پر بھی قادر ہے کہ قیامت کے دن اس کو سر کے بل چلائے ؟ قتادہ نے کہا کیوں نہیں، ہمارے رب کی عزت کی قسم ! (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٦٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٠٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٤٢ )

نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کافر اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے حالانکہ قرآن مجید کی ودسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قیامت کے دن دیکھتے، بولتے اور سنتے ہوں گے۔

دیکھنے کا ثبوت اس آیت میں ہے :

ورا المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفا۔ (الکہف : ٥٣) اور مجرمین ودزخ کو دیکھیں گے تو وہ یہ گمان کریں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔

اور سننے کا ثبوت اس آیت میں ہے :

واذا راھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا و زفیرا۔ (الفرقان : ١٢) اور جب دوزخ انہیں دور سے دیکھے گی تو وہ اس کا غصہ سے بپھرنا اور چنگھاڑنا سنیں گے۔

اور بولنے کا ثبوت اس آیت میں ہے، مشرکین قیامت کے دن کہیں گے :

وللہ ربنا ما کنا مشرکین۔ (الانعام : ٢٣) اور اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہ تھے۔

١۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ اندھے ہوں گے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں دیکھیں گے جس سے ان کو خوشی ہو اور بہرے ہوں گے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں سنیں گے جس سے ان کو خوشی ہو اور وہ گونگے ہوں گے اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے انہیں خوشی ہو۔

٢۔ عطا نے کہا وہ اللہ کا جمال دیکھنے سے اندھے ہوں گے، اس کا کلام سننے سے بہرے ہوں گے اور اس کے ساتھ کلام کرنے سے گونگے ہوں گے۔

٣۔ مقاتل نے کہا وہ اس وقت اندھے، بہرے اور گونگے ہوں گے جس وقت ان کو دوزخ میں داخل ہونے کے لیے کہا جائے گا۔ قرآن مجید میں ہے :

قال اخسوا فیھا ولا تکلمون۔ (المومنون : ١٠٨) اللہ فرمائے گا اسی میں دھتکارے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 97